19 جولائی 2026 - 23:58
ملت ایران پاس امریکی دشمن کو سکھانے کے لئے فراموش نہ ہونے والے اسباق ہیں، رہبر انقلاب

انقلاب اسلامی کے رہبر معظم نے ایک پیغام تشکر میں، شہید ایران سے وداع کی تاریخی اور عدیم المثال رستاخیز (حشر) میں، ملت اور مراجع و اہل علم و دانش کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، اس حماسے کو جلوۂ بعثت اور اسلامی-ایرانی شناخت کے تحفظ کے مستحکم عزم کا ایک نیا معیار قرار دیا اور شیطان اکبر کی جانب سے ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی دستاویز کے حوالے سے بار بار کی عہد شکنیوں ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: اب جبکہ امریکی دشمن جنگ پسندی اور زیادہ بھاری اخراجات اور زیادہ رسوائی کا متحمل ہونا چاہتا ہے، تو وہ جان لے کہ ایران کی عزیز ملت اور محاذ مقاومت کے پاس اسے سکھانے کے لئے فراموش نہ ہونے والے اسباق ہیں، جن کی کچھ مثالیں ان دنوں مجاہدین اسلام کی بہادری اور جنوبی خطے کے بہادر عوام کی غیرت نے دکھا دی ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ انقلاب اسلامی کے رہبر معظم حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے ایک پیغام تشکر میں، شہید ایران سے وداع کی تاریخی اور عدیم المثال رستاخیز (حشر) میں، ملت اور مراجع تقلید اور اہل علم و دانش شخصیات کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، اس حماسے کو جلوۂ بعثت اور اسلامی-ایرانی شناخت کے تحفظ کے مستحکم عزم کا ایک نیا معیار قرار دیا اور شیطان اکبر کی جانب سے ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی دستاویز کے حوالے سے بار بار کی عہدشکنیوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: اب جبکہ امریکی دشمن جنگ پسندی اور زیادہ بھاری اخراجات اور زیادہ رسوائی کا متحمل ہونا چاہتا ہے، تو وہ جان لے کہ ایران کی عزیز ملت اور محاذ مقاومت کے پاس اسے سکھانے کے لئے فراموش نہ ہونے والے اسباق ہیں، جن کی مثالیں ان دنوں مجاہدین اسلام کی بہادری اور جنوبی خطے کے بہادر عوام کی غیرت نے دکھا دی ہیں۔

رہبر انقلاب نے ایک بار پھر سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور تفرقہ سے بچنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا: ممکن ہے کہ کچھ لوگ پورے اخلاص اور خیرخواہی کے تحت بعض ذمہ داروں کی کارکردگی کو مورد تنقید ٹہرا دیں؛ ان عزیزوں کو ـ جن میں سے بعض بصیرت میں پیشرو ہیں، ـ خیال رکھنا چاہئے کہ اس رویئے سے: اولاً کسی بےگناہ پر ظلم نہ کیا جائے، جو خود برکات اور عنایات سے محرومی کا سبب بنتا ہے؛ اور ثانیاً یہ تنقیدی رویہ سبب نہ بنے کہ وحدت اور سماجی ہم آہنگی میں خلل آئے؛ کیونکہ ان پہلوؤں کی رعایت کے ساتھ تنقیدیں کاموں میں رونق اور ترقی کا باعث بنیں گی۔

رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اے عظیم الشان اور حیرت آفریں کارنامے رقم کرنے والی ملت ایران!

آپ پر سلام، درود اور سپاس کہ آپ نے اپنے تاریخی اور بے‌مثال حماسے کے ذریعے آقائے شہیدِ اایران کے جنازے کی عدیم المثال رستاخیز (حشر) میں قدرشناسی، وفاداری، بصیرت اور امت اسلامیہ کے قائد اور انقلاب کے رہبرِ شہید سے بے‌پناہ محبت کے اظہار میں اسلامی-ایرانی شناخت کے مستحکم عزم اور جلوۂ بعثت کا ایک نیا معیار ثابت کیا۔ تپتے دلوں کی گرمی، اشک‌بار آنکھیں اور تہران، قم، مشہد اور دیگر شہروں اور دیہاتوں میں دسیوں کروڑ افراد اور دسیوں کلومیٹر پر محیط اجتماع کے پختہ عزم نے ملت ایران کے دوستوں اور دنیا کے آزاد لوگوں کو تحسین پر اور ملت ایران کے استکباری دشمنوں کو حیرت، سرگردانی، غضب اور خوف میں مبتلا کر دیا۔

اس حماسے کے موقع پر ہی شیطان اکبر کی جانب سے ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی دستاویز کے حوالے سے، بار بار کی عہد شکنیوں نے ایک بار پھر سب پر یہ حقیقت عیاں کر دی کہ امریکی صدر کے دستخط کتنے بےقدر اور  ناقابل اعتبار ہے اور جابرانہ طرز عمل، استکبار اور وحشی پن امریکی مسلک اور طریقۂ کار کے جدائی ناپذیر اجزاء ہیں۔ آج شیطان اکبر نے ایک بار پھر اپنا اصلی اور بے‌نقاب چہرہ آشکار کر دیا تاکہ ظلم اور بدعہدی کا یہ تاریک تجربہ امریکہ کے جھوٹے، غیرمنطقی، ناقابل اعتماد اور پلید ہونے پر ایک اور ناقابل تردید اور مضبوط دستاویز بن جائے۔ اب جب کہ امریکی دشمن جنگ‌افروزی اور زیادہ بھاری اخراجات اور زیادہ رسوائی کا متحمل ہونا چاہتا ہے، تو وہ جان لے کہ عزیز ملت ایران اور محاذ مزاحمت (محور مقاومت) کے پاس اس کو سکھانے کے لئے فراموش نہ ہونے والے اسباق ہیں، جن کی مثالیں ان دنوں مجاہدینِ اسلام کی بہادری اور جنوبی خطے کے بہادر لوگوں کی غیرت نے دکھا دی ہیں۔ اب جبکہ امریکی دشمن جنگ پسندی اور زیادہ بھاری اخراجات اور زیادہ رسوائی کا متحمل ہونا چاہتا ہے، تو وہ جان لے کہ ایران کی عزیز ملت اور محاذ مقاومت کے پاس اسے سکھانے کے لئے فراموش نہ ہونے والے اسباق ہیں، جن کی کچھ مثالیں ان دنوں مجاہدین اسلام کی بہادری اور جنوبی خطے کے بہادر عوام کی غیرت نے دکھا دی ہیں۔

ضروری ہے کہ آپ وفادار اور سربلند عوام ایران سے عرض کیا جائے کہ اس دور میں سب سے زیادہ امور میں سے ایک، تمام سطوح پر عوام اور ذمہ داروں کے درمیان، اور تمام شعبوں میں، وحدتِ کلمہ اور مقدس اتحاد پر اصرار ہے تاکہ انقلاب اسلامی کے بلند اہداف کا حصول اور عزیز ایران کی عزت اور آزادی و سالمیت کا تحفظ ـ خاص طور پر جرائم پیشہ اور فریبی امریکی دشمن کے مقابلے میں ـ ممکن ہو سکے۔ جیسا کہ پہلے بارہا تاکید کے ساتھ یاد دہانی کرائی جا چکی  ہے، اتحاد کی حفاظت اور تفرقے و تنازع سے اجتناب، اور سیاسی اور سماجی اختلافات کو اجاگر نہ کرنا، سب کی ذمہ داری ہے اور البتہ ملک کی ہم آہنگی اور یکجہتی میں انقلاب، امام اور رہبرِ شہید کے مخلص حبداروں اور شیدائیوں اور ملکی ذمہ داروں کا کردار زیادہ اہم اور حساس ہے۔

اس بنا پر ملت عزیز، تینوں قوتوں (انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ) میں مخلص ذمہ داروں پر اعتماد قائم رکھتے ہوئے، جن کی ـ ملت کی خوشحالی اور سعادت کے لئے ـ کوششیں عیاں و نمایاں ہیں، اسلامی ایران کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے بدستور چوکنا اور میدان میں حاضر اور سرگرم رہے گی۔

ممکن ہے کہ کچھ لوگ پورے اخلاص اور خیرخواہی کے تحت بعض ذمہ داروں کی کارکردگی کو مورد تنقید ٹہرا دیں؛ میرے خیال میں، اگرچہ ان کی یہ دلچسپی اور فکرمندی نظام کے لئے ـ خود ان کی ذات کی طرح ـ ایک قیمتی سرمایہ ہے اور بذات خود ایک پسندیدہ امر ہے، تاہم ان عزیزوں کو ـ جن میں سے بعض بصیرت میں پیشرو ہیں، ـ خیال رکھنا چاہئے کہ اس رویئے سے: اولاً کسی بےگناہ پر ظلم نہ کیا جائے، جو خود برکات اور عنایات سے محرومی کا سبب بنتا ہے؛ اور ثانیاً یہ تنقیدی رویہ سبب نہ بنے کہ وحدت اور سماجی ہم آہنگی میں خلل آئے؛ کیونکہ ان جہتوں کی رعایت کے ساتھ تنقیدیں کاموں میں رونق اور ترقی کا باعث بنیں گی۔ دشمن کو ہماری طرف سے کمزوری ـ جن میں یہ کمزوری بھی شامل ہے ـ کا اشارہ نہیں ملنا چاہئے؛ کیونکہ جب ہم ان احتیاطی رویوں کو مکمل طور پر ملحوظ رکھیں گے تو وہ مجبوراً پسپائی اختیار کرے گا۔

ایک بار پھر تمام عزیز عوام  کا دلی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں، جو خود شہید بابائے امت کے سوگوار ہیں اور درپیش مشکلات، بعض قلتوں اور دشواریوں کے باوجود ـ ایران کے آقائے شہید کے جنازے کے عظیم واقعے میں تاریخی حماسہ تخلیق کر چکے ہیں۔

نیز معزز مراجع تقلید، علماء، مفکرین اور دانشوروں، ثقافتی، سماجی اور سیاسی کارکنوں اور شہری و فوجی اداروں کے اقدامات و کاوشوں کے ساتھ ساتھ سربلند محاذ مزاحمت اور فخرآفرین اسلامی تحریکوں کے نمائندوں اور شخصیات کی موجودگی کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

امید ہے کہ جن لوگوں نے اس تاریخی حماسے میں کسی بھی طرح شرکت، ہمراہی اور ہم دلی کی ہے، وہ ہمارے آقا و سرور (عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشَّرِیفَ)، جس کی فرج کو اللہ تعالیٰ جلدی فرمائے، کی خاص عنایت اور دعا سے مشمول ہوں۔

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ‌ای

17 / جولائی / 2026ع‍

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

ملت ایران پاس امریکی دشمن کو سکھانے کے لئے فراموش نہ ہونے والے اسباق ہیں، رہبر انقلاب

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha