بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رہبر انقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے قومی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں، فرمایا: ہماری مسلح افواج نے کفر و استکبار کے محاذ کی چوٹی کی دو فوجوں سے دو دو ہاتھ کرکے، دنیا کی آنکھوں کے سامنے ان کے ضعف و ذلت کو عیاں کر دیا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے اپنے پیغام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے قومی دن کے موقف پر فوجیوں، ان کے اہل خانہ کو مبارک باد پیش کی۔
آپ نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کو ایرانی فوج پر مسلط کردہ کمزوریوں کا نقطۂ اختتام قرار دیا۔
نیز آپ نے فرمایا آج شہید رہبر عظیم الشان کا یوم ولادت ہے جنہوں نے فوج کی تحلیل کے منحوس عزائم کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
رہبر انقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے پیغام کا متن:
بسم الله الرّحمن الرّحیم
"إِنَّ اللَّهَ یُحِبُّ الَّذینَ یُقاتِلونَ فی سَبیلِهِ صَفًّا کَأَنَّهُم بُنیانٌ مَرصوصٌ؛ ﴿صف:4﴾
یقینا اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں جنگ کرتے ہیں پراجما کر جیسے کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔"
میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے یوم ولادت 29 فروردین (18 اپریل) پر ـ جو خمینی کبیر رحمت اللہ علیہ کی تخلیق کے مطابق، اس نام سے موسوم ہؤا ـ تمام فوجیوں اور ان کے محترم اہل خانہ اور ایران کی عظیم قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی فوج کی حیات کے دو مراحل کے درمیان خطِّ فاصل سمجھی جاتی ہے اور اس کو اس ضعیف اور کمزور دور کا اختتام سمجھنا چاہئے جو اس سرزمین کے دشمنوں اور اندرونی غداروں فوج اور بہادر اور سچے فوجیوں پر مسلط کیا تھا۔ انقلاب کے بعد فوج اپنے اصل مقام پر آکھڑی ہوئی اور طاغوتی اور بدعنوان پہلوی نظام سے منسلک ہونے کے بجائے، ملت کی آغوش میں آگئی اور حقیقتا فوج اس قوم کی فرزند ہے اور لوگوں کے گھروں سے جنم لیتی ہے۔ فوج [بعدازاں] بہت جلد امریکہ اور پہلوی طاغوت کے باقیات اور ایران کو پارہ پارہ کرنے کے خواہاں علیحدگی پسندوں کے منحوس عزائم کے سامنے کھڑی ہوگئی اور عظیم کارنامے رقم کئے۔
اسلام کی فوج نے سابقہ دو مسلط کردہ جنگوں کی طرح، آج [بھی] بہادری کے ساتھ اس سرزمین اور پرچم کا دفاع کر رہی ہے جس سے اس کا تعلق ہے اور اپنے طاقتور الٰہی اور عوامی سہارے، مستحکم اور مجتمع صفوں، مسلح افواج کے دوسرے مجاہدین کے دوش بدوش کفر و استکبار کے محاذ کی چوٹی کی دو فوجوں سے دو دو ہاتھ کرکے، دنیا کی آنکھوں کے سامنے ان کے ضعف و ذلت کو عیاں کر دیا ہے؛ جس طرح کہ ان کے ڈرون آسمانی بجلی کی طرح امریکی اور صہیونی مجرموں کے سروں پر اترتے ہیں، اسی طرح اس کی بہادر بحریہ بھی بالکل تیار ہے کہ دشمنوں کو نئی شکستوں کی تلخیاں چکھا دے۔
دوسری طرف سے 29 فروردین ہمارے عظیم الشان شہید یگانۂ دوراں رہبر کا یوم ولادت بھی ہے؛ جنہوں نے انقلاب کے پہلے عشرے میں فوج کی تحلیل کے منحوس عزائم کو ناکام بنانے کے لئے سب سے زیادہ کوشش کی اور بعدازاں مختلف جہتوں سے اس کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لئے مؤثر اقدامات کئے۔
بے شک اس حقیقی عوامی ادارے کی بے پناہ صلاحیتوں میں ـ جو مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک ملک کی پاسداری میں مصروف ہے، ـ پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ کرنے کی کوشش جاری رہنی چاہئے اور اللہ کے اذن سے عنقریب، اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری انتظامات کے احکام جاری کئے جائیں گے۔
اس راستے پر ان سورماؤں کی شخصیت و کردار اور ان کے منصوبوں اور اقدامات، نیز ان کے عظمت و خلوص پر مبنی طرز عمل کی طرف توجہ دینا مسلح افواج کے تمام اجزاء کے لئے سابق آموز اور متاثر کن ہوگا جو پانچ عشروں کے دوران مختلف نسلوں میں فوج کا انتظام کرتے آئے ہیں، اور ان میں سے بہت سے قافلۂ شہداء سے جا ملے ہیں؛ جیسے: قرنی، فلاحی، نامجو، فکوری، بابائی، ستاری، اردستانی اور صیاد شیرازی سے لے کر حال ہی میں نامدار شہیدوں سید عبدالرحیم موسوی اور عزیز نصیر زادہ تک۔
خدائے متعال کا سلام و درود ہو اسلامی جمہوریہ ایران کی افواج کے تمام مجاہدوں پر، جرنیلوں اور کمانڈروں سے لے کر اس کے خاموش اور گمنام سپاہیوں تک؛ اور خدائے متعال کا درود و سلام ہو فوج کے تمام غازیوں اور زخمی ہونے والوں پر اور اللہ کی رحمت خاصہ ہو امریکہ اور ملت ایران پر صہیونی ریاست کی مسلط کردہ جنگ کے تمام شہیدوں کے مکرم اہل خانہ پر۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ