11 جولائی 2026 - 19:59
'سلمان رشدی' کی موت کے فتویٰ سے 'انتقام کی فہرست' تک؛ اسلام دشمنوں پر لرزہ طاری

انقلاب اسلامی کے رہبر معظم کا پیغام اور پوری دنیا میں امامِ شہیدِ امت کے قاتلوں سے انتقام لینے پر تاکید، سلمان رشدی کو سزائے موت کے تاریخی فتوی کی یاد تازہ کرتی ہے اور بین الاقوامی جہت میں ان دونوں احکام ایک خاص مماثلت پائی جاتی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جب ہم انقلاب اسلامی کے رہبر معظم آیت اللہ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے تازہ ترین پیغام سے رجوع کرتے ہیں تو امام شہید امت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کے قاتلوں سے انتقام پر ان کی تاکید ہماری توجہ اپنی طرف مبذول کراتی ہے اور اس کے ساتھ ہی شاتم رسولؐ ملعون سلمان رشدی کے ارتداد پر امام خمینی(رح) کے تاریخی فتویٰ کی یاد دلاتی ہے۔ اس دوران، بہتر ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ان دونوں پیغامات کا موازنہ کرائیں:

'سلمان رشدی' کی موت کے فتویٰ سے 'انتقام کی فہرست' تک؛ اسلام دشمنوں پر لرزہ طاری

1۔ دونوں احکام عالمی اور وقت سے ماوراء ہیں

رہبر معظم آیت اللہ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے اپنے پیغام میں امامِ شہیدِ امت کے قاتلوں سے انتقام لینے کے حوالے سے فرمایا: "انہیں جان لینا چاہئے کہ یہ معاملہ میری ذات یا دیگر حکام کی ذات پر منحصر نہیں ہے، ہم ہوں یا نہ ہوں، یہ معاملہ حقیقت کی صورت اپنائے گا اور جلد ہی پوری دنیا میں ہر حریت پسند شخص اس الہی مشن میں اپنے حصے کاکردار ادا کرے گا۔"

امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) نے سلمان رشدی کے ارتداد کے فتویٰ کے بارے میں بھی فرمایا تھا: "میں دنیا بھر کے غیرت مند مسلمانوں کو مطلع کرتا ہوں کہ اسلام، پیغمبر اور قرآن کے خلاف مرتب، چھپی اور شائع کردہ کتاب 'شیطانی آیات کے مصنف' کے مصنف اور ساتھ ہی ان ناشرین کو بھی سزائے موت سنائی جاتی ہے جو اس کے مواد و مندرجات سے آگاہ ہیں۔

انھوں نے مزید فرمایا تھا: "اگر کسی غیر مسلم کو اس کے مقام کا علم ہو جائے اور وہ اسے مسلمانوں سے زیادہ تیزی سے پھانسی دینے کی طاقت رکھتا ہو تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اس فعل کے عوض جو کچھ بھی چاہے اس کو ـ بطور انعام یا اجرت ـ ادا کریں ۔"

اس بنیاد پر، دونوں احکام آفاقی اور وقت سے ماوراء ہیں اور یہ صرف ایرانی عوام یا موجودہ زمانے کے مسلمانوں تک محدود نہیں ہیں۔

2۔ دونوں احکام متعلقہ ہدف کی سلامتی چھین لیتے ہیں

امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) نے اپنے حکم میں فرمایا تھا: "میں غیرت مند مسلمانوں سے چاہتا ہوں کہ وہ جہاں کہیں بھی ان کو پائیں انہیں فوری طور پر موت کی سزا دیں دیں تاکہ مزید کوئی بھی مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کرنے کی جرات نہ کرے۔"

رہبر معظم انقلاب امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے بھی اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ "یہ مجرم نرم بستر پر پرسکون موت کی خواہش اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے۔"

دونوں پیغاموں میں سزا پانے والوں کو سلامتی اور امن سے محروم کیا گیا ہے۔ یہ بات سلمان رشدی کی زندگی میں ہر روز نظر آتی ہے اور ٹرمپ اب بھی گھبرایا ہؤا اور ہراساں ہے اور اس نے وصیت بھی کر ڈالی ہے!

3۔ دونوں احکام کی نوعیت الٰہی ہے

امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کے حکم اور رہبر معظم (حفظہ اللہ) کے پیغام کے موازنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ احکام محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں؛ بلکہ، وہ دینی اصولوں پر استوار ہیں۔ نتیجے کے طور پر، یہ احکام اپنی عالمگیریت اور آفاقیت کو ہمیشہ برقرار رکھیں گے۔

4۔ ایک فرق جو اسلام دشمنوں کی دہشت زدگی میں اضافہ کرتا ہے

امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کا حکم سلمان رشدی اور اس کی کتاب کے ناشرین کے لئے مختص ہے؛ جبکہ آیت اللہ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ "ان مجرموں کی فہرست اوپر سے نیچے تک موجود ہے"۔ اس فہرست میں یقیناً ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسے مجرم شامل ہیں۔

تاہم جب وہ کسی فہرست پر زور دیتے ہیں اور اس فہرست کے ناموں کا اعلان نہیں کرتے، تو بہت سے امریکی اور صہیونی حکام خود کو اس فہرست میں شامل سمجھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں، یہ پیغام دشمن کی صفوں خوف اور وحشت کی سطح کو دو چند کر دیتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha