بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ تہران کے میئر ڈاکٹر علی رضا زاکانی نے آج 4 جولائی 2026 کو رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ امام شہید سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کی تشییع جنازہ اور وداعی مراسمات میں شریک بین الاقوامی اور مسلم مفکرین سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی قوم کے مقابلے میں امریکہ کی متواتر شکستوں کی وضاحت کی اور زور دے کر کہا: آج امریکہ اور صہیونی ریاست کے خلاف دو سخت جنگوں سے فتح مندانہ انداز سے عہدہ برآ ہوگئے ہیں۔
تہران کے میئر علی رضا زاکانی نے بین الاقوامی مفکرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
• گذشتہ 47 سالوں سے ایرانی قوم کی آزادی اور استقلال امریکہ کے لئے اہمیت نہیں رکھتی تھی اور ہمیشہ اس بات سے پریشان رہا کہ ایران ایک آزادانہ تحریک کی بنیاد پر اپنے وسائل پر انحصار کرتے ہوئے انسانی معاشرے کے سامنے ترقی اور خوشحالی کا نمونہ پیش کر رہا رہے۔
• سنہ 1980 کی دہائی میں جب اس کا کٹھ پتلی صدام ایرانی قوم کا مقابلہ نہ کر سکا تو وہ خود براہ راست میدان میں اترا اور خلیج فارس کی فضا میں ایران کے مسافر بردار طیارے کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
• امریکہ نے ان تمام برسوں میں کُشت و خون کے ذریعے اپنے عزائم آگے بڑھانے کی کوشش کی، جن میں سے صرف ایک نمونہ یہ ہے کہ 17 ہزار افراد اور ملک کے ذمہ داران کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔
• گذشتہ سال جون کے مہینے میں، امریکہ نے ایک جھوٹے بہانے کی بنیاد پر ایک نئے جرم کا آغاز کیا اور ایران کے خلاف براہ راست حملہ شروع کر دیا؛ اسے یقین تھا کہ وہ جلد ہی اپنے اہداف تک پہنچ پائے گا، لیکن ناکام ہؤا اور اس نے خود جنگ بندی کی درخواست دی۔
• امریکہ نے اس سال فروری کے آخری دن ایک بار پھر ایک بڑے جرم کا آغاز اور پھر بھی شکست کھا گیا۔
• ایران کی قوم کے مقابلے میں امریکہ کی سوپر طاقت والا رعب و دبدبہ ٹوٹ گیا ہے اور اس کی ہیبت برباد ہو گئی؛ آج امریکہ زوال کی طرف گامزن ہے۔
• اس جنگ میں ہم نے بھی بھاری قیمت ادا کی ہے؛ انقلاب اسلامی کے حکیم اور مظلوم قائد کی شہادت سے لے کر میناب کے معصوم بچوں اور دیگر ہم وطنوں کی شہادت تک۔ لیکن
• دشمن ایرانی قوم کے خلاف اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہؤا اور اس کے بعد بھی کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔
• اس مجرمانہ جارحیت کے بعد اور دشمن کی خواہش کے برعکس، نئی اسٹریٹجک صلاحیتیں حاصل ہوئیں جو اس جدوجہد کے ثمرات میں سے تھیں۔
• دشمن کی خواہش کے برعکس، ہم محاذ مزاحمت کی پیوستگی اور یکجہتی دیکھ رہے ہیں؛ کل ہی یمن کی 15 سالہ فضائی ناکہ بندی ٹوٹ گئی۔

• ایران کے خلاف دشمن کی مسلط کردہ جنگ سے حاصل ہونے والی ایک منفرد صلاحیت حاصل ہوئی یعنی ایران کے لئے آبنائے ہرمز بند کرنے کا امکان فراہم ہو گیا۔
• آج دو سخت جنگوں کے بعد، امریکہ اور اسرائیل دونوں کے مقابلے میں، ہم فاتحانہ انداز سے میدان جنگ سے باہر نکل آئے ہیں اور اگر دشمن ایک بار پھر جارحیت کریں تو ہم ان پر زیادہ سخت ضربیں لگانے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں۔
• آپ بین الاقوامی اور مسلمان مفکرین کی تہران میں موجودگی ایک نیا افق متعین کرنے کا قیمتی موقع ہے؛ اس صورتحال میں اور امریکہ کی شکست کے بعد، آپ کی موجودگی ایک موقع ہے تاکہ آپ خطے اور دنیا کی ایک نئی تصویر تخلیق کریں۔
• آج اگرچہ ہم رہبر انقلاب کی شہادت کی بنا پر ایک بڑے غم میں سوگوار بیٹھے ہیں، لیکن ہماری امیدیں پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔
• ہمیں امید ہے کہ موجود مفکرین کی اعلیٰ ہمت کے ساتھ، دنیا میں عدل، بھائی چارے اور جنگ و خونریزی سے دوری پر مبنی فکر کو فروغ دینے کے لئے کوششوں کا دائرہ وسیع تر ہوجائے گا اور حکومتیں اور قومیں خوشحالی، ترقی اور عدل کے حصول کی راہ پر گامزن ہوں گی۔
• روشن افق، اور امید آج ہمارے سامنے ہے اور آپ کی اجتماعی ہمت اور آپ کا پختہ عزم اس منظرنامے کے حصول کو ممکن بنا سکے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ