بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا
بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں ایک عالمی طاقت شاذ و نادر ہی ـ اپنی تمام تر فوجی، ابلاغیاتی، معاشی صلاحیتوں کو 40 روزہ جنگ کے دوران ـ نہ صرف اپنا کوئی ہدف حاصل نہ کرسکی ہے بلکہ ہر مرحلے میں ایک نئی شکست کے تجربے سے گذری ہے۔
یہ رپورٹ میدانی مستند اور میدانی حقائق کی بنیاد پر ایک زیادہ سے زیادہ ہمہ جہت پراجیکٹ کی شکست و زوال کے نمونے پیش کرتی ہے:
حصۂ پنجم؛ دشمن کی تکمیلی ناکامیاں
28۔ ایران کی اقتصادی راہداریوں میں خلل ڈالنے میں ناکام
دشمن کا ایک مقصد ایران کی شمالی-جنوبی راہداریوں کی بندش اور مواصلاتی ترقی کا عمل روکنا تھا، جو بدستور جاری و ساری ہے اور دشمن کی کوشش ناکام رہی۔ نہ صرف INSTC کوریڈور کی کارکردگی میں اضافہ ہؤا بلکہ چین، روس اور وسطی ایشیا کے ساتھ ایران کا اتصال پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہؤا۔
29۔ ورچوئل اسپیس پر بدامنی پھیلانے اور ایران کے سائبر ڈھانچوں میں خلل ڈالنے میں ناکامی
بندرگاہوں، ڈیموں، جوہری تنصیبات جیسے انتہائی اہم نیٹ ورکس کو نقصان پہنچانے کے لئے، "دشمن کے پیشگی سائپر حملے" کی حکمت عملی ناکام ہو گئی۔ ایران کی سائبر سیکورٹی قائم رہی اور تسدیدی اور تقابلی حملے انجام پائے، دشمن ملکی سسٹمز میں دراندازی نہیں کر سکا اور جوابی حملے بھی انتہائی کامیاب رہے۔ جیسے حنظلہ ہیکر گروپ کے انتہائی کامیاب حملے جو ایران کے میزآئل اور ڈرون حملوں میں بھی بہت کام آئے۔
30۔ ایٹمی معاہدےJCPOA سے بڑھ کر نیا سمجھوتہ اور تحقیر آمیز شرائط ٹھونسنے میں ناکامی
صہیونیوں کی ایپسٹین فائلز میں پھنسا ہؤا امریکی صدر ٹرمپ میدان جنگ میں شکست کھانے کے باوجود مذاکرات کی میز پر، پھر بھی اپنے وہمیاتی مقاصد کے حصول کے لئے کوشاں تھا۔ وہ پھر بھی میزائل ٹیکنالوجی اور ایران کی علاقائی پالیسیوں کے بارے میں ـ کوئی بھی متقابل ذمہ داری قبول کئے بغیر ـ مذاکرات کا خواہاں تھا لیکن ایران نے ان وہمیات کو یکسر مسترد کر دیا اور ٹرمپ انتظامیہ کو حتیٰ اپنی پابندیوں پر نظر ثانی کرنا پڑی ہے یا کرنا پڑ رہی ہے۔
جاری ہے
آپ کا تبصرہ