9 جولائی 2026 - 13:42
اسلامی جمہوریہ ایران کو مختلف جنگوں کے دباؤ کا سامنا ہے، مگر کیوں؟

اسلامی جمہوریہ ایران کو بیک وقت فوجی، اقتصادی، ثقافتی، سیاسی، سماجی اور سلامتی کی جنگوں کا سامنا کیوں ہے؟

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کو بیک وقت فوجی، اقتصادی، ثقافتی، سیاسی، سماجی اور سلامتی کی جنگوں کا سامنا کیوں ہے؟

اس دباؤ کا نقطۂ آغاز تلاش کرنے کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ کی کتاب کے چند ہی صفحات پلٹنا  کافی ہے۔ زیادہ سے زیادہ دباؤ جو اسلامی جمہوریہ پر باہر سے ڈالا جاتا ہے، اس کا آغاز انقلاب اسلامی کی کی کامیابی کے پہلے دن سے ہؤا۔ لیکن ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے؟

دشمن شناسی کا فائدہ

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے ہمیں اپنے دشمنوں کو خُردبین (Microscope) سے دیکھنا ہوگا اور سمجھنا ہوگا کہ ان کی خصوصیات کیا ہیں؟

ایک سادہ جائزے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مخالف حکومتوں میں ایک مشترکہ خصوصیت ہے: تسلط پسندی اور آمریت و استبدادیت!

البته ان کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ کہہ دیں کہ 'کوئی دشمنی نہیں ہے' تاکہ کوئی ان کے خلاف اٹھنے اور جدوجہد کا ارادہ نہ کرے۔

چند نکات کا جائزہ امریکی دشمن اور اس کی دشمنی کے محرکات پہچاننے میں مدد دیتا ہے۔

آمرین، پہلوی کے دوست!

انقلاب سے پہلے امریکیوں کو ہم سے کوئی مسئلہ کیوں نہیں تھا؟

ان دنوں ملک کی رگ حیات ہمارے ہاتھ میں نہیں بلکہ استعماری قوتوں کے ہاتھ میں تھی۔ اہم سیاسی فیصلے ایرانی نہیں بلکہ امریکی، اپنی ضرورت کے مطابق، کرتے تھے۔ پہلوی کے جانے کے ساتھ ہی، امریکہ کا ہاتھ ان تمام مفادات سے کٹ گیا جو اس کو ایران میں حاصل تھے۔ اس حساب سے اب بھی ان کی نظریں استعمار کے اچھے دنوں پر لگی ہوئی ہیں!

متضاد سیاہی اور سفیدی کی طرح

اسلامی جمہوریہ استکبار اور اس کی خواہشات کے بالکل برعکس ہے۔ دراصل اسلامی جمہوریہ استکبار کی مخالفت میں پیدا ہوئی۔

استکبار کا مطلب ہے غنڈہ گردی، قتل اور شرم نہ کرنا۔ استکبار آپ کے گھر کے دروازے پر آتا ہے۔ لات مارتا ہے اور شرم و حیا کے بغیر، جو چاہتا ہے اٹھا کر لے جاتا ہے۔ اب اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اس گھر کے دروازے کے پیچھے کوئی ملک ہے، کوئی قوم ہے یا کوئی خاص گروہ۔

آج استکبار نے اپنے لئے ایک بڑی اور عالمی ٹیم بنا لی ہے: سربراہ امریکہ ہوگا، اس کے اپنے چھوٹے بڑے سپاہی ہیں اور وہ مزید توڑنے اور چرانے [اور قتل و غارت] کے احکامات جاری کرتا ہے۔

لیکن اسلامی انقلاب نے نہ صرف دروازہ توڑنے کی اجازت نہیں دی بلکہ اس بات کی سخت نگرانی کرتا ہے کہ کوئی اس گھر کو ٹیڑھی نظر سے نہ دیکھے۔ اسی مزاحمت و مقاومت نے اب استکبار اور امریکہ کا سکون چھین لیا ہے، اور اسی وجہ سے وہ ہر قیمت پر ہمیں روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مستقل دشمن!

امریکہ کا صدر جمی کارٹر تھا جب ایران اور عراق کے درمیان جنگ شروع ہوئی۔ صدام فوجی ہتھیاروں کی تلاش میں تھا اور کارٹر اس کی مدد کے لئے میدان میں آیا!

اگلا صدر رونالڈ ریگن تھا۔ اس کی صدارت کے دوران امریکی بحریہ کے جہاز نے ایران کے مسافر طیارے پر دو میزائل فائر کئے۔ اس حملے کے نتیجے میں ایرانی طیارے کو کے تمام مسافر اور عملے کے ارکان شہید ہو گئے۔ [اور ریگن نے میزائل کرنے والے امریکی افسر کو تمغہ دیا]۔

ان دنوں سے لے کر آج تک ـ جبکہ ہم تیسری جنگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھے رہے ہیں امریکی دشمن نے اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر کو شہید کر دیا ہے اور جنگ ختم ہونے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے، اور سب ایک چیز کی علامت ہے، اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ امریکہ کی دشمنی ختم ہونے والی نہیں ہے اور ملت ایران بھی اپنی استقامت پر استوار ہے اور اسے اپنی مزاحمت پر قائم و دائم رہنا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماخذ: رہ ‌نامہ ج21، (دشمن شناسی)، سید علی حسینی خامنہ ای

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha