14 جولائی 2026 - 19:14
آزادی صحافت کا زبردست مظاہرہ؛ امریکی صحافی سے ایران جانے پر تفتیش

ایک امریکی صحافی "میکس بلومینتھل" کو ـ جنہوں نے انقلاب اسلامی کے رہبر شہید کی نماز جنازہ کی رپورٹنگ کے لئے ایران کا سفر کیا تھا، ـ ملک واپسی پر ٹرمپ انتظامیہ نے ہراساں کیا اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی صحافی، مصنف، اور بلاگر "میکس بلومینتھل" ـ انقلاب اسلامی کے رہبر شہید کی نماز جنازہ کی رپورٹنگ کے لئے ایران آئے تھے، اور اپنے ملک واپسی پر انہیں دہشت گرد ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ہراساں کیا اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔

انھوں نے اس واقعے کے بعد اپنے ذاتی صفحے پر لکھا:

"میری آزاد، دستاویزی اور حقائق پر مبنی صحافت کی وجہ سے، مجھے ایران سے واپس آنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے سیاسی آزار و آذیت کا نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی اثر و رسوخ کے تحت یہ مجرم ٹولہ واضح طور پر ان رپورٹوں سے خطرہ محسوس کرتا ہے جو میں نے تہران سے تیار کرکے بھیجی تھیں۔

جہاں میں نے عزاداروں کے عظیم ہجوم، اور [آیت اللہ سید علی] خامنہ ای کے قتل پر رائے عامہ کے عظیم غیظ و غضب کی تصویر کشی کی اور ایران میں عام شہریوں کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے جنگی جرائم کو بے نقاب کیا، اور ایرانی حکام، مذاکرات کاروں اور بااثر شخصیات کے ساتھ کھل کر شفاف انداز سے بات چیت کی۔ میرے وسائل اور اوزاروں اور آلات کی ضبطی ایک واضح ہراسانی تھی؛ ایک ایسا اقدام جس کا مقصد مجھے اور دوسروں کو ایران کے بارے میں زیادہ تنقیدی رپورٹنگ سے روکنا اور ہم جیسوں کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔ یہ اس حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے کہ یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی) میں میرے تفتیش کاروں نے یہ جاننے پر اصرار کیا کہ کیا میں جلد ہی کسی بھی وقت دوبارہ رپورٹنگ کے لئے تہران واپس جاؤں گا یا نہیں۔"

انقلاب اسلامی کے رہبر شہید کے پیکر پاک کی تشییع کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں میکس بلومینتھل نے لکھا تھا: "ایرانی عوام کی اپنے قائد کی نماز جنازہ میں پرجوش موجودگی اسلامی جمہوریہ اور اس کے انقلابی معاشرے کو ایک مربوط سیاسی حقیقت کے طور پر مستحکم کرتی ہے؛ ایک ایسا نظام جو جنگ، بغاوت اور پابندیوں کے سامنے نہیں جھکے گا، یہ خطے میں سامراج مخالف تحریکوں کی تاریخ میں ایک زندہ جاوید لمحہ اور اہم ترین موڑ بن جائے گا۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha