بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ٹرمپ بظاہر غصیلا مزاج شخص ہے۔ وہ اپنی خاص قسم کے اوصاف و خصوصیات کی وجہ سے دنیا کو ویسا ہی دیکھنا چاہتا / دیکھتا ہے جیسا اس کا ذہن سمجھتا ہے لیکن کچھ عرصے سے دنیا کے حالات اس کی مرضی کے مطابق نہیں چل رہا ہے؛ اسلامی جمہوریہ ایران نے کم از کم پچھلے دو سالوں میں یہ ثابت کرکے دکھایا ہے کہ اقوام مزید مجبور اور پابند نہیں ہیں کہ وہ امریکہ حکم دے اور دوسرے عمل کریں۔
ایران نے دنیا کی آنکھوں کے سامنے امریکہ کے حرص و طمع کے مقابلے میں عملی قدم اٹھایا جبکہ اس سے پہلے بڑی طاقتیں بھی امریکہ کے خلاف کھڑے ہونے کا آپیشن آزمانے کو تیار نہیں تھیں۔ طغیان کرنے والے سرکشوں کے سامنے کھڑے ہونے کے لئے دو عناصر "طاقت" اور "عزم" کی ضرورت ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ ایران ان دونوں عناصر سے بہرہ ور ہے۔
اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں 'اوزاروں کی جنگ' اپنی جگہ 'افکار کی جنگ' کو دے رہی ہے۔ امامِ مجاہدِ شہیدِ نے 4 دہائیوں تک ایرانی قوم کی قیادت کے دوران دونوں عناصر کو مضبوط بنایا؛ ملک کو طاقتور بنایا اور قوم کو عزم دیا۔ اسلامی جمہوریہ کے بلند ہاتھ مقامی ساختہ میزائلوں اور ڈرونز کی تیاری کے ساتھ سخت جنگ کے شعبے میں تسدید اور مامُونیت (deterrence & immunity) کی چوٹی تک پہنچ گئے۔
میزائل اور ڈرون کا قومی سرحدوں سے 2 ہزار کلومیٹر تک کے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنان سبب بنا ہے کہ دشمن اب آسانی سے "مارو اور بھاگو" کی حکمت عملی پر عمل نہیں کر سکتا۔ ایران کے اطراف کے ممالک میں فضائی دفاعی نظاموں کی تباہی، F-35 لڑاکا طیاروں، اواکس طیاروں، ری فیولنگ ایئر ٹینکرز کے مار گرائے جانے سے عیاں ہؤا کہ ایران کے ہاتھ سخت طاقت کے شعبے میں بھرے ہوئے ہیں۔
امریکی-صہیونی رجیموں نے دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں اور جنوری کی بغاوت میں ایرانی قوم کے خلاف تمام فوجی اور سیکورٹی طاقت استعمال کی لیکن وہ نظام کی تبدیلی، سرزمین کی تقسیم، تہذیبی تباہی وغیرہ کے اعلان کردہ اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی صلاحیت کا دوسرا پہلو نرم طاقت میں مضمر ہے جو اتفاق سے سخت طاقت کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ برتری رکھتی ہے۔ محور مقاومت کو ہمالیہ کی پہاڑوں سے لے کر بحیرہ روم کے ساحلوں تک مضبوط کرنا، امت مسلمہ کی مرکزیت پر مبنی نقطہ نظر کو تقویت دینا، استکبار مخالف اتحاد بنانا وغیرہ۔۔۔ انقلاب اسلامی کے دیگر قیمتی ورثے ہیں جو امامِ مجاہدِ شہید سید علی خامنہ ای کی قیادت کے دور میں پختہ تر اور مضبوط تر ہوکر بلوغ تک پہنچے۔
سڑکوں پر مبعوث شدہ عوام کی فعالیت اور امامِ مجاہدِ شہید کی تشییع جنازہ کے مراسمات میں عوام اور سرکاری ذمہ داروں کا الٰہی اتحاد، اندرون ملک کامیاب ادارہ سازی کی علامت ہے اور عراق کے عوام کا نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ میں شہید امت کے وداع کے ساتھ عدیم المثال مثال حماسہ آفرینی بھی امت کے باہم روابط کی مضبوطی کا اظہار ہے؛ اور سخت اور نرم طاقت کے شعبوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی بالیدگی ایک ایسا موضوع ہے جو الٰہی وعدے کے مطابق دوستوں کو حیران اور دشمنوں کو غضبناک کر رہا ہے اور اس پریشانی نے ٹرمپ کی کینہ پروری اور جنونیت کی حد تک غصے کے اسباب فراہم کئے ہیں۔
بہرحال، ایرانی عوام اللہ کے کلام کا سہارا لیتے ہوئے کہتے ہیں: "مُوتُوا بِغَيْظِكُمْ؛ تم اپنے غصے میں جل مرو۔" (آل عمران، آیت 119)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: ڈاکٹر حسن عابدینی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ