25 اپریل 2026 - 21:18
قرآنِ رنّانی ؛ایک قلمی گوہر ہے جس پر رہبرِ شہید (رحمت اللہ علیہ) کی یادگار تحریر درج ہے

رواں سال کے عشرہ کرامت کے ایّام میں آستان قدس رضوی نے اپنے قلمی خزانے سے ایک قیمتی اور نفیس قرآن کریم کو جو عبد اللہ رنّانی کی خوبصورت خطاطی پر مشتمل ہے سے نقاب کشائی کی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || یہ نایاب اثاثہ نہ صرف قاجاری دور حکومت کے فنِ خوشنویسی (خطاطی) کی درخشاں یادگار ہے بلکہ شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی  حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای(رضوان اللہ علیہ) کی یادگار تحریر اوراسے آستان قدس رضوی کو ہدیہ کرنے کی و جہ سے ایک ہمیشہ رہنے والی میراث میں بدل گیا ہے۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ قرآن کریم کا یہ نسخہ جو شہید رہبر کے دست خط سے بھی مزیّن ہے اس کی حرم امام رضا(ع) کے دارالقرآن الکریم میں نقاب کشائی کی گئی ۔

نقاب کشائی کی اس تقریب  کے دوران ہم نے اس ثقافتی تقریب کے بعض شرکاء سے گفتگو کی جن کے خیالات کا خلاصہ ذیل میں قارئین کے لئے پیش کیا جا رہا ہے ۔

آستان قدس رضوی کے سب سے بڑے علمی واقف

آرگنائزیشن آف لائبریریز، میوزیمز اور آستان قدس رضوی کے دستاویزی مرکز کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین سید جلال حسینی نے شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی کے موقوفات کے وسیع دائرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ تعالی علیہ) آستان قدس رضوی کے سب سے بڑے علمی وقف کنندہ تھے جنہوں نے سن 1950 سے 2025 تک، تیرہ ہزار سے زائد نفیس قلمی نسخے اس مقدس بارگاہ کو ہدیہ کئے ۔ 
انہوں نے بتایا کہ ان قلمی نسخوں کی پینتیس موضوعات اور مختلف زبانوں میں درجہ بندی کی گئی ہے جن میں قرآنی نسخوں کی خاص اہمیت ہے انہی میں سے ایک مصحف، عبد اللہ رنّانی کے خط کا ہے جس کی آج نقاب کشائی کی گئی ہے اس قرآن کریم کے حاشیہ پر شہید رہبر کی درج شدہ تحریر میں اس قرآنی نسخے کے خط اور فنی آرائشوں کے لحاظ سےا شاعت کے حوالے سے تاکید کی گئی تھی جسے آستان قدس رضوی نےا پنے ذمہ لیا اور احسن انداز میں یہ ذمہ داری پوری کی۔

ایک نفیس اور قیمتی قرآنی اثر کی فنی و علمی جلوہ گری

بہ نشر پبلیکیشنز کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب مسعود فرزانہ نے اس قرآنی نسخے کی خصوصیات ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرآن؛ خوبصورت حرف نویسی اور ادائے حروف میں بے مثال دقّت کی بنا پر دورہ قاجارکی قرآنی کتابت کے درخشاں نمونوں میں شمار ہوتا ہے ،پورے متن کی رنگ آمیزی جدول میں کی گئی ہے ،آیات کے نقوش کو باریک طلاکاری سے مزیّن کیا گیا ہے اور سورتوں کے آغاز کو رنگین اور متنوع تذہیب سے آراستہ کیا گیا ہے نیز سورتوں کے نام طلائی خط اور ماہرانہ قلم کاری سے تحریر کئے گئے ہیں۔

یہ قرآن مکمل متن کے علاوہ ترجمہ،روایات،تفسیر،احکام،شان نزول، قرائت کا ثواب اور یہاں تک کہ استخارے کی علامات پر مشتمل ہے اس کا ترجمہ محمد ہادی بن محمد صالح مازندرانی نے کیا ہے جو صفوی دور کے علما اور زاہدوں میں سے تھے ۔

قاجاری دور حکومت کی گرانقدر میراث

آستان قدس رضوی کے قلمی نسخوں اور قرآن کی فہرست نگاری کے ماہر جناب مہتاب شیبانی نے اس مصحف کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کا یہ نسخہ جو’’قرآن رنانی‘‘ کے نام سے مشہور ہے 2019 میں شہید رہبر کےمبارک ہاتھوں سےا ٓستان قدس رضوی کو ہدیہ کیا گیا, اس کا اصلی نسخہ 1233 ہجری قمری میں ممتاز استاد عبد اللہ بن عاشور رنّانی کے خط میں تحریر کیا گیا اور ترتیب کے لحاظ سے یہ ان کے ہاتھوں لکھا جانے والا ایک سو انیسواں قرآن ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ یہ نسخہ فنی آرائش کے لحاظ سے بہت خوبصورت ہے اور قاجاری دور حکومت سے تعلق رکھتا ہے ۔

قرآن رنّانی کی اشاعت کو بہتر بنانے کے لئے تجویز

بین الاقوامی قاری قرآن جناب محمد جواد پناہی نے اس قرآن کی اشاعت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ قرآن فن اور کتابت کے لحاظ سے ایک بے مثال کام ہے جسے شہید رہبر کی تائید کے ساتھ شائع کیا گیا ہے لیکن نمونے کے نسخے میں ایسا لگتا ہے کہ طباعت شدہ قلم اور حروف کا سائزعام استعمال کے لئے قدرے چھوٹا منتخب کیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے کاموں کی اشاعت کا مقصد اسے عام لوگوں بشمول قاریوں ، حافظوں اور تلاوت کرنے والوں کے لئے آسان بنانا ہونا چاہئے اگر سائزچھوٹا ہو اور عینک کے بغیر نہ پڑھا جا سکے تو اس کے استعمال میں کمی آئے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مترجم: عمران حیدر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha