20 جولائی 2026 - 15:58
رہبر معظم اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کا حالیہ بیان دکی تباہی اور ہمہ گیر حملے کے نظریے کا تجزیہ -1

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ‌ای (حفظہ اللہ)، ایک سیاسی انتباہ سے کہیں بڑھ کر، درحقیقت ایک عملیاتی اعلامیہ (Operational statement) ہے جو خطے کے دفاعی فارمولوں میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ [---]

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ‌ای (حفظہ اللہ)، ایک سیاسی انتباہ سے کہیں بڑھ کر، درحقیقت ایک عملیاتی اعلامیہ (Operational statement) ہے جو خطے کے دفاعی فارمولوں میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ [---] جب پیغام کے متن میں فراموش نہ ہونے والے اسباق اور ایران کے خطۂ جنوب کی بہادریوں کا ذکر آتا ہے، تو ہم اب جارحیتوں کے جواب کے کلاسیکی طریقے کا سامنا نہیں کر رہے ہیں۔ درحقیقت، یہ پیغام اعلان کر رہا ہے کہ متناسب جواب کا دور ختم ہو چکا ہے اور ہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں: ٹھکانوں کی مکمل تباہی اور ہمہ جہت حملوں کا مرحلہ۔

نظریئے میں بنیادی تبدیلی؛ غیرفعال تسدید سے تزویراتی حملے تک

اگر ہم رویئے کی اس تبدیلی کو جغرافیائی-سیاسی زاویئے سے پرکھیں تو دیکھنا ہوگا کہ پرانے نظریئے میں مقصد یہ تھا کہ جارح کو پیچھے ہٹایا جائے یا اس پر ایسی لاگت ڈالی جائے کہ وہ حملہ ترک کر دے۔ لیکن ٹھکانوں کی تباہی کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کی جارحانہ جڑوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے، اس طرح کہ نہ صرف دشمن کی جارحیت رک جائے بلکہ جارح کے دوبارہ منظم ہونے اور حملہ دہرانے کی صلاحیت ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے۔ یہ فعال دفاع (Active Defense) سے اسٹریٹجک جوابی حملے (Strategic counterattack) کی طرف منتقلی ہے۔

حکمتِ عملی کی اس تبدیلی کو سمجھنے کے لئے ہمیں حالیہ میدانی حقائق کو دیکھنا ہوگا۔ ماضی میں جوابی کاروائیاں زیادہ تر علامتی یا جوابی ضربوں کی شکل میں ہوتی تھیں، لیکن اب ہم اہداف کی تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ ہم اس تبدیلی کی عملی مثال حالیہ کارروائیوں میں دیکھ رہے ہیں، جہاں بکھری ہوئی ضربوں کے بجائے کمانڈ سینٹروں، مرکزی چھاؤنیوں اور دشمن کے رسد اور سپلائی کے ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کو ترجیح دی گئی ہے۔ ہمہ جہت حملے کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کے ٹھکانوں اور اڈوںکی گہرائی میں داخل ہو کر اس کی آپریشنل صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دینا، نہ کہ صرف اس کے حملے کے سامنے ڈٹے رہنا۔

خطۂ جنوب کا عسکری کوڈ اور پیشگی کارروائیاں

اس پیام میں خطۂ جنوب کا حوالہ ایک انتہائی درست فوجی کوڈ ہے۔ ایران کا جنوب صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ قومی سلامتی کی شاہ رگ ہے۔ یہ جو ان دنوں اس خطے میں بہادری کی مثالیں دیکھنے کو ملی ہیں، یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ محاذ مزاحمت اب دشمن کے حملے کا جواب دینے کے لئے منتظر نہیں رہتا، بلکہ تباہ کاری اور انہدام کے ذریعے امن و امان کو یقینی بنانے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ یعنی جنوب میں دشمن کی کوئی بھی مشکوک حرکت کا، اس کی آپریشنل ٹھکانوں پر ہمہ گیر حملے کے صورت میں، جواب دیا جائے گا۔ یہی وہ پالیسی اور حکمت عملی کی تبدیلی ہے جو جارحیت کے جواب سے ٹھکانوں کی مکمل تیابی کی طرف منتقلی کو عیاں کرتی ہے، جس میں پہل کا اختیار مکمل طور پر مقاومت کے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محسن قبادیان قادی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha