5 جولائی 2026 - 17:19
کچھ مصلائے تہران میں امام شہید کے فرزندوں کی حاضری کے بارے میں

تہران کے مصلیٰ میں "ایران کے آقائے شہید" پر نماز قائم کرنے کے لئے رہبر شہید کے فرزندوں کا عوام میں جذبات و احساسات کا عجیب امتزاج تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ عزا کے مالکین کا غم اور آنسو دیکھ کر نیا غم پھوٹ پڑنا، ان کا خود اس موقع پر حاضر ہونا اور انہیں دیکھنے کا عوامی شوق، انقلاب دشمنوں کی مایوسی پر عوام کی خوشی، اور ان حساس گھڑیوں کی تکلیف دہ یادیں، جب ہم اس مقام پر امام شہید کی آمد پر دشمن کے مقابلے میں شوق اور فخر محسوس کرتے تھے، نیز وہ اندیشے جو بعد میں ہم پر چھا جاتے تھے، اور اب ہم نہیں چاہتے کہ انہیں زبان پر لائیں یا ان کے بارے میں دوبارہ سوچیں۔ ایک متضاد احساس غالب ہے کہ کاش آپ نہ آتے اور نیز، کاش آپ آتے اور رہتے۔

کچھ مصلائے تہران میں امام شہید کے فرزندوں کی حاضری کے بارے میں

ولی نمی‌توانیم نگویم که چقدر دلمان برای دیدن آقا سید مجتبی حسینی خامنه‌ای در این ساعات بیشتر تنگ هست، دل هست دیگر، نمی‌شود بگویی مدارا کن و بفهم! ولی دلتنگ نباش!

ہم نے سیکھ لیا ہے کہ "قوم کے ولی" کی عارضی اور ظاہری غیرموجودگی کو برداشت کریں اور ہم خوب جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ان دنوں ہماری مذہبی زندگی کے نئے سلسلے کا ایک حصہ نائبِ امام زمانہ (علیہ السلام) کے ساتھ، مختلف ہونا چاہئے، اور ہم اپنے دلوں اور عقلوں سے ان کے پیغامات پڑھیں اور اپنی آنکھوں کی روشنی کو ان کے دیدار کی امید میں برقرار رکھیں۔

لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان گھڑیوں میں آقا سید مجتبیٰ حسینی خامنہ‌ای کو دیکھنے کا ہمارا دل کتنا زیادہ چاہتا ہے۔ دل ہے آخر، کوئی نہیں کہہ سکتا کہ برداشت کرو اور سمجھو! مگر دلگیر نہ ہو!

ہم چاہتے ہیں کہ اپنی موجودگی کی وسعت دیکھ کر، ان کے رنجیدہ دل کے دکھوں کے لئے باعث سکون بنیں اور بلاشبہ ہمیں خود بھی امام شہید کی جدائی کے بعد، ان کو دیکھ کر زیادہ سکون ملنے کی ضرورت ہے۔

"قوم کے ولی" کو نہ دیکھنے کا غم کوئی معمولی سا درد نہیں ہے۔ بلا وجہ نہیں ہے کہ اس جدائی سے خدا سے شکایت کرنے کی اجازت دی گئی ہے:

"اللّهُمَّ إِنَّا نَشْكُو إِلَيْكَ فَقْدَ نَبِيِّنا وَغَيْبَةَ إِمامِنا وَشِدَّةَ الزَّمانِ عَلَيْنا وَوُقُوعِ الفِتَنِ بِنا وَتَظاهُرَ الأعْداءِ عَلَيْنا وَكَثْرَةَ عَدُوِّنا وَقِلَّةَ عَدَدِنا۔۔۔؛

اے معبود: ہم تجھ سے شکوہ کرتے ہیں ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ کے گذرنے پر، ہمارے امام کے ہم سے اوجھل ہونے کا، ہم پر زمانے کی شدتوں اور سختیوں پر؛ ہمیں گھیرے ہوئے فتنوں پر؛ اور دشمن کے ہم پر حاوی ہوئے پر؛ ہمارے دشمنوں کی کثرت پر؛ اور دوستوں کی قلت پر؛۔۔۔۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی جہانتیغی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha