بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایرانی قوم کو کس نے متحد کیا جبکہ ان کا ملک اجنبی دشمن کے لئے استحکام کا جزیرہ سمجھا جاتا تھا؟ ایرانیوں کے ارادے کو کس پیامبر نے برانگیختہ کیا جب کہ وہ متعدد حادثات و وقائع تلے روندے جا رہے تھے؟ ان کی تھکی ہوئی روح کو مزاحمت کا حوصلہ کس نے دیا؟ ان کی زخمی آنکھوں پر مرہم کس نے رکھا، کہ ان میں کھڑے ہونے، آواز اٹھانے، مٹھی بھینچنے اور اپنا دفاع کرنے کی ہمت پیدا ہوئی؟ اس تحقیر شدہ، غارت زدہ اور غم دیدہ جسم میں نئی روح کس نے پھونک دی کہ آج وہ اپنے وجود کا اظہار کر رہے ہیں اور عالمی سیاست پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور دو قطبی اور پھر یک قطبی دنیا میں "نیا نظریہ" پیش کرنے کے قابل ہوئے ہیں؟ نہ شرقی نہ غربی جمہوری اسلامی کا نعرہ لگانے کی جرات، کس طوفان نے ان ہماری سماعتوں میں گھول دیا؟ بے شک امام روح اللہ نے۔
مبعوث ہونا اور برانگیختہ ہونا، متحرک ہونا اور متحرک کرنا، شجاع ہونا اور شجاعت دلانا اللہ کا ہدیہ "امام روح اللہ" تھے ہمارے لئے بھی اور عالمی مقاومت کے لئے بھی اور عالمی مسضعفین کے لئے بھی۔ مقاومت کے قائدین کا ہنر ہے اس انداز سے جِلانا، جان بخشنا، زندہ کرنا اور ہدایت و راہنمائی کرنا اور عوام، امت مستضعفین اور مظلومین کا ہنر ہے یہ ہے کہ استقامت کریں، کھڑے رہیں، استوار رہیں، حق کے راستے پر، حق کے ارد گرد طواف کرتے رہیں، اور متحد رہیں۔
اسلامی جمہوریہ اللہ اکبر کی جمہوریہ ہیں اور اس کے قائدین نے حقیقت جمہوریت کو عملی جامہ پہنایا۔ انقلاب اسلامی عوامی انقلاب ہے طاغوت اور استکبار کے خلاف، چنانچہ یہ امت مسلمہ اور مستضعفین کی جمہوریہ ہے جو اس طاغوت و استکبار کے ظلم و ستم کی وجہ سے مظلوم اور بے اختیار ہیں، پناہ گاہ ہے مستضعفین کی؛ اور ہاں ان دنوں ایرانی عوام کی عجیب اور تاریخ ساز مقاومت اور شب و روز میدان میں موجودگی نے امام روح اللہ کے اس قول کو ایک بار پھر ثابت کرکے دکھایا کہ "ہمارے عوام اسلام کے صدر اول کے عوام سے بہتر ہیں۔"
ملت ایران کی یہ ممتاز خصوصیت کا سبب یہ ہے کہ اس قوم نے ایک اشارے پر دوڑ لگا دی عظمتوں کی طرف، اور اپنے خون سے اپنی سرزمین پر اگے ہوئے پھولوں کی آبیاری کی۔ جنگ میں اپنی جان و مال و گھربار سے گذر گئی، لیکن اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے قبضے میں نہیں رہنے دیا؛ اس قوم نے فرمانبرداری کی ولی دوران کی، جبکہ اس نے امام معصوم کے جمال کا دیدار تک نہیں کیا تھا۔
انقلاب اسلامی کے تیسرے رہے آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای نے فرمایاي "رہبر شہید اور ان کے سَلَفِ کبیر کا ہنر عوام کو تمام میدانوں میں لانا، اور انہیں مسلسل آگاہ کئے رکھنا اور عملی میدان میں ان ہی قوت کا سہارا لینا تھا۔" خامنہ ایِ شہید اور خمینیِ کبیر نے عقیدے اور جہاد کے ساتھ، ایسا کارنامہ سرانجام دیا کہ لوگ "محض پیروکار" کے رتبے سے آگے بڑھیں اور پیشقدمی کریں اور راہبر و راہنما بنیں، پورے عالم اسلام اور عالم مستضعفین کے لئے۔ ملت ایران نے اپنے قائدین سے قیادت سیکھی ہے۔ ہم نے یقین کر لیا ہے کہ جدید اسلامی تہذیب کا قیام عوام کی موجودگی کے بعد ممکن نہیں ہے، چنانچہ اس تک پہنچنے کے لئے میدان میں آئے ہیں تاکہ "حیاتِ برتر" کے حصول کو ممکن بنا دیں، ملت ایران نے اقدام کیا اس راستے میں؛ یہاں تک کہ [انقلاب اسلامی کے تیسرے رہبر نے فرمایا] "اس حالیہ واقعے میں عظیم ملت ایران کی ذہانت اور بصیرت اور اس کی پامردی اور شجاعت اور میدان میں اس کی موجودگی نے دوستوں کو تعریف و تمجید اور دشمنوں کو اظہار حیرت پر مجبور کر دیا۔"
ایرانی قوم اپنی طاقت کو خون سے، اپنی سربلندی سر دینے سے، اپنی عزت و عظمت کو جنگ و جہاد اور انسان کے دشمن کے ہاتھ پر بیعت نہ کرکے، اور اپنے شرف و آزادی کو یزید زمان کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرکے، محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ نصف صدی میدان میں قائم و استوار رہنا، جان دینے اور جان بخشنے کی وجہ سے ہم اس آیت کا مصداق بن گئے ہیں: "مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا؛ (جس آیت کو ہم منسوخ کر دیتے ہیں یا وہ بھلا دی جاتی ہے۔ تو ہم اس سے بہتر یا اس کے مثل دوسری [آیت] نازل کر دیتے ہیں)۔" چنانچہ اگرچہ ہم شجاع ترین مردوں، حکیم ترین قائدین، عزیز ترین عوام اور قوی ترین پہلوانوں کو کھو گئے ہیں، لیکن عمار یاسر کی طرح بدستور میدان میں کھڑے ہیں، ہم ان کے خون کے وارث و منتقم ہیں۔
فی الوقت خدا خود میدان میں ہے، جو ہمیں مبعوث کرتا ہے؛ ابراہیم بت شکن اور ان کی توحیدی امت کی مانند، اور کشتی کے سُکان گیر نوح اور ان کی نجات یافتہ قوم کی مانند۔ ہم مبعوث ہوتے ہیں سابقہ امتوں کی طرح، لیکن اس بار خشک اور بے آب و گیاہ میدانوں میں نہیں، اور پہاڑوں کی بلندیوں پر نہیں بلکہ سڑکوں پر، اپنے حرم اور اپنے وطن کی پاسداری اور اپنے رہبر و قائد کے ساتھ بیعت کی خاطر۔ ہم آخری پیغمبر کی معجز نما کا جلوہ اور مظہر ہے عزم و خون کے زمانے میں۔
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِير؟
کیا تم نہیں جانتے ہو کہ اللہ ہر بات پر قادر ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ