4 جون 2026 - 12:53
مایوسی کا سبب بننے والا کوئی بھی اقدام دشمن کا ساتھ دینے کے مترادف ہے، آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امام خمینی (رح) کے سینتیسویں یوم تاسیس کے موقع پر تاکید کی: ہر قسم کا اقدام جو عوام میں بدگمانی اور مایوسی کا سبب بنے، اس ملک اور اس کے لوگوں کے دشمن کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛عید اللہ الاکبر عید غدیر، حضرت آیت اللہ العظمی امام سید روح اللہ موسوی خمینی (رضوان اللہ علیہ) کی سینتیسویں برسی اور شہید حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای (اعلی اللہ مقامہ) کی قیات کے آغاز کی سالگرہ کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ)، کا پیغام بیک وقت امام خمینی (رح) کے حرم مطہر میں، انقلاب اسلامی کے عظیم بانی کی یاد میں منعقدہ تقریب میں، تہران کے عارضی امام جمعہ حجۃ الاسلام و المسلمین حاج علی اکبری، کے ذریعے پڑھ کر سنایا گیا۔

انقلاب اسلامی کے رہبر معظم کے پیغام کا متن درج ذیل ہے: 

بسم الله الرّحمن الرّحیم
اَلحَمدُ للهِ الَّذی جَعَلَ کَمالَ دینِه وَ تَمامَ نِعمتِه بِوِلایةِ امیرِالمؤمنین علیِ‌بنِ اَبیطالِب علیه‌السّلام

عید سعید غدیر کے موقع پر ـ ایران اور پوری دنیا میں - تمام مسلمانوں اور بابائے امت اسلامیہ، امیرالمؤمنین علی (صلوات اللہ و سلامہ علیہ) کے محبین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور حضرت امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کی روحِ مُطَہَّر پر سلام و درود بھیجتا ہوں۔ اس سال خمینی کبیر (رحمۃ اللہ علیہ) کے فراق کے بعد سینتیسواں 14 خُرداد (4 جون) ہے اور وہ پہلا 14 خُرداد ہے جب امت کے پدر مہربان، مرید اور مکتب امام کے وفادار اور ممتاز حامی اور ساتھی، رہبر عظیم الشان شہید انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای (اعلی اللہ مقامہ الشریف) ضیافت الٰہی کے مہمان ہوئے ہیں اور ان کی مضبوط آواز اور حکیمانہ اور پراثر کلام کی گونج امام کے مرقدِ مطہر میں سنائی نہیں دے رہی ہے۔ لیکن اسلامی جمہوریہ کے بانی کے 10 سالہ سالہ بیانات و مکتوبات اور رہبرِ شہیدِ عظیم الشان کے 37 سالہ بیانات اور مکتوبات کا مجموعہ، ہم سب کے لئے ایک قیمتی اورعدیم المثال اثاثہ اور مستقبل کے راستے کے لئے روشنی کا مینار ہے۔

اولاً، آج عید غدیر اور عید اللہ الاکبر ہے؛ عہدِ معہود اور میثاقِ مأخوذ کا دن جس میں خدائے متعال نے معاشرے اور اسلامی نظام کے انتظآم کا فریضہ واضح فرمایا ہے اور اکمالِ دین و اتمامِ نعمت کو ـ حضرات معصومین (صلوات اللہ علیہم اجمعین) کی جاری ولایت و امامت کے ذریعے ـ سر انجام دیا ہے۔
امامینِ انقلاب کی زندگی کے فخر و اعزاز کی سند امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی پیروی ہے
غدیر اس ہستی کی یاد دلاتا ہے جس نے اپنی شریف ترین حیات طیبہ کے آغاز سے، ـ کعبہ میں ولادت سے لے کر فَوزِ شہادت تک ـ 
 اپنی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کے لئے اور اللہ کی راہ میں گذارا۔ اس بنا پر آنحضرت، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) وجودِ مُکَرّم کے بعد، زندگی کے تمام ادوار میں، اور تمام مسلمانوں اور مؤمنین کے لئے اسوۂ اعلیٰ اور جامع و کامل نمونہ سمجھے جاتے ہیں، اور یہ بہت مناسب اور بہت ضروری ہے کہ چھوٹے بچے سے لے کر معمر لوگوں تک اور معاشرے کے عام افراد سے لے کر علماء، دانشوروں، سیاستدانوں اور قائدین تک، سب آنحضرت کا اقتداء کریں؛ جیسا کہ امامین انقلاب کی زندگی کے فخر و اعزاز کی سَنَد بھی اسی بزرگوار کی پیروی ہی ہے۔
ثانیاً، آج امام امت (رحمة اللہ علیہ) کی برسی ہے اور یہ اس مشہور، مگر کم جانی-پہچانی شخصیت کے بارے میں غور و فکر اور گفتگو کا ایک قیمتی موقع ہے۔ ایک پرکشش شخصیت جس کے نورانی راستے اور مقصد کی گہری سمجھ اور پہچان، اسلامی ایران کے مستقبل کے لئے روشنی کا مینار ہے؛ لیکن ملت کے بہت سے افراد جو عہد شباب سے گذر رہے ہیں، آپؒ کو براہ راست سمجھنے کی توفیق حاصل نہیں ہوئی ہے؛ یہاں تک کہ بہت سے لوگ ـ جنہوں نے آپؒ کا کی حیات کا زمانہ نہیں دیکھا، وہ بھی امامؒ کے کردار اور مکتب کی گہرائی تک کم ہی پہنچ پائے ہیں۔
اللہ کے لئے قیام (اٹھان) مکتب امامؒ کا سنگ بنیاد
قالَ اللهُ تَعالیٰ: "قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ؛ (سورہ سباء، آیت 46)
خدائے تبارک و تعالیٰ اس آیت شریفہ میں رسول اللہ الاعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں: 
امت سے کہئے کہ میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، وہ یہ کہ تم اللہ کے لئے دو دو مل کر اور [یا] اکیلے اٹھو۔"
یہ آیت کریمہ، سب سے پہلے پیغام کا مطلع، اور ان قدیم ترین دستاویزات میں سے ایک، ہے جس میں ہمارے زمانے کے عبد صالح کی بے مثال شخصیت ہمارے عصر و زمانے کی عظیم روح، انقلاب اسلامی کے رہبرِ کبیر رہبر اور جمہوریہ اسلامی کے بانی، نے ایرانی قوم کو خدا کے لئے قیام (اٹھنے) کی دعوت دی ہے۔ جی ہاں، قیام لله، امام کے مکتب کا سنگ بنیاد ہے اور آپؒ کی وجودی برکات و آثار میں سے اہم ترین، معاشرے پر ان کی ہدایت، تربیت اور گہرا اثر اسی اصول کی بنیاد پر استوار ہے۔
یہی الہی حرکت و پیشرفت، ـ راہ راست پر معاشرے کی ہدایت میں، ربوبی برکات و توجہات کے نزول اور حضرت حق (جل و علا) کی سنت کے جاری ہونے کا ـ سرچشمہ ہے  جیسا کہ خدائے حکیم نے فرمایا: 
"وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا؛ (سورہ عنکبوت، آیت 69)۔
اور جنہوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا، انہیں ہم اپنی راہوں پر استوار رکھتے ہیں۔"

اور کیا ایسا نہیں ہے کہ نہیں ہے کہ ایرانی قوم کی اہم ترین جامع تحریکیں اور بیداریاں، خمینیِ کبیر اور شہید عظیم الشان خامنہ ای کے دور میں، ان کی براہ راست یا بالواسطہ رہنمائی سے انجام پائی ہیں؟ وہ کون سی عظیم طاقت ہو سکتی تھی جو 5 جون 1963ع‍ کو، اس وقت سوئی ہوئی اور استکبار اور استعمار کے جادو سے مسحور قوم کو بیدار کر سکتی تھی جبکہ گھٹن، جبر اور مغرب سے ہمہ گیر وابستگی کی فضا ہر سو چھائی ہوئی تھی؟ 
کون سی کشش والی طاقت ہو سکتی تھی ایسی کہ 12 فروری 1979ع‍ کو ملینز افراد کو استقبال کے لیے اور 4 جون 1989ع‍ کو امام امت کے وداع کے لئے سڑکوں پر کھینچ سکتی تھی؟ اور آخری حیرت انگیز مثال کے طور پر کون سی مضبوط طاقت اور فولاد جیسی استقامت تھی جس نے یکم مارچ (2026ع‍) کی صبح کو (رہبر شہید کی شہادت کی خبر سننے کے بعد) ایرانی قوم کو اس طرح سے مبعوث کیا (اور اٹھایا) اور میدان میں لا کھڑا کیا جو ایک اعلیٰ جذبے کے ساتھ تین ماہ سے زیادہ گذرنے کے باوجود، آج بھی پہلے جیسے جوش و خروش کے ساتھ اپنے شہید رہبر اور خون میں تڑپے ہوئے شہیدوں کے خون کا بدلہ لینے کے لئے، اور اسلامی نظام اور اپنے پیارے وطن کی حرمت کی پاسداری کے لئے میدان میں موجود ہیں، اور دسوں ملین جان نثاروں کی صفوں کو ـ شہید رہبر کے اہداف و مقاصد کی تکمیل اور حق کی برپائی اور خدائے 'قیام للہ' (اللہ کے لئے کھڑے ہونے) کے لئے اٹھ کھڑے ہونے کے لئے ـ مستحکم کر چکے ہیں؟

خمینیِ کبیر و خامنہ ایِ شہید نے قوم کی تیاری کو کشف کرکے زندہ کر دیا

جی ہاں، یہ وہی خمینیِ کبیر اور خامنہ ایِ عظیم الشان شہید تھے جنہوں نے عزیز ایران کی قوم میں موجود اس صلاحیت اور تیاری کو کشف (اور دریافت) کرکے زندہ کر دیا اور ہمیشہ اس کے لئے خاص اہمیت کے قائل رہے۔

امامِ بزرگوار، جو بلاشبہ اپنی مثالی پرہیزگاری کی بنا پر، محتاط رہتے تھے کہ آپؒ کے قلم سے کیا کچھ جاری ہوتا ہے؛ آپؒ نے اپنے وصیت نامے میں ایک بڑا دعویٰ فرما دیا اور مکتوب کیا کہ "میں جرأت سے دعویٰ کرتا ہوں کہ ایرنی قوم اور اس کی کروڑوں کی آبادی موجودہ دور میں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے دور کی حجازی قوم، اور امیرالمؤمنین اور حسین بن علی (صلوات اللہ و سلامہ علیہما) کے دور کی کوفی اور عراقی قوم سے بہتر ہے"۔

رہبرِ شہیدؒ نے 14 خُرداد (4 جون) کو امام خمینیؒ کے ساتھ قوم کا سالانہ 'یوم عہد' بنا دیا
اسی سلسلے میں، حضرت امام شہیدؒ نے امام خمینیؒ کے مکتب کو قول و فعل اور قلم کے ذریعے زندہ رکھنے کے علاوہ' اپنی مختلف ملاقاتوں میں، 14 خرداد (4 جون) کو کو امام خمینیؒ کے ساتھ قوم کا سالانہ 'یوم عہد' بنا دیا اور مکتب امامؒ کے اصولوں، پالیسیوں اور خد و خال کا ایک نظام بیان کرتے تھے اس کی وضاحت فرماتے تھے۔ ان میں بعض ممکنہ طور پر بار بار دہرائے جانے والے دروس و اسباق بھی یہ تھے کہ ایرانی قوم ایک مؤمن، ذہین اور بہادر قوم ہے؛ اور یہ کہ لوگ ملک کے اصل مالک اور اس کی طاقت کا سرچشمہ ہیں؛ اور یہ کہ یہ لوگ جو بھی صحیح پیشرف و تبدیلی کو اپناتے ہیں وہ اسے انجام بھی دے سکتے ہیں اور 'ہم کر سکتے ہیں' (We can) کے نعرے کو مختلف میدانوں میں عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ ان دیگر اسباق  میں سے، 'مظلوم کی حمایت کرنا' ایک اسلامی، انسانی اور ایرانی فریضہ ہے۔ اور یہ کہ استحصالی نظام اور اس کی چوٹی پر امریکہ، اس قوم اور اس کی ممتاز اور ممتاز اور ناقابِلِ شِکَست تشخص سے دشمنی رکھتا ہے۔"

سب لوگ استقامت، روشن بینی اور اتحاد کی حفاظت کرکے دشمن کی سازش کو ناکام بنائیں

ہاں، تسلط پسند استحصالی نظام، جس نے تقریباً 80 سال قبل اسرائیل کے نام سے ایک چھاؤنی بنائی ہے، ہر قسم کے وسائل اور ذخائر سے مالامال ایک طاقتور اور خود مختار ایران کے وجود کو، جھوٹے اور بے بنیاد "عظیم تر اسرائیل" ـ یعنی فرات کے مشرقی جغرافیے میں ـ قبول نہیں کرتا اور اس کی ترقی کا عمل روکنے کے لئے کسی اقدام سے بھی دریغ نہیں کرتا۔

اسی موقع پر عزیز قوم سے عرض کرتا ہوں کہ خبیث دشمن نے اب ـ جبکہ مسلح افواج میں آپ کے دلیر بیٹوں کے مقابلے میں شکست کھا چکا ہے اور خصوصاً فیصلہ کن ضرب کا سامنا کرنے کی وجہ سے، ـ خواہ وہ فوجی جنگ میں ہو یا میدان اور سڑکوں پر، ایک بامعنی اور گہری ذلت کے تجربے سے گذر رہا ہے جس کے نتیجے میں دنیا کے ممالک اس سے واضح پر دوری اختیار کر رہے ہیں، ـ اپنا فریب مخلوط جنگ (Hybrid warfare) میں دو نقطوں پر مرکوز کر دیا ہے: ایک لوگوں کی قوتِ برداشت؛ دوسرا ملک کے ذمہ داران کے حسابی نظام میں بگاڑ پیدا کرنا۔ ان دونوں میں اس کا اصل ہتھیارتذبذب، شک، مایوسی، خوف، بدگمانی اور اختلاف کا بیج بونے سے عبارت ہے۔ لہٰذا ان بدخواہیوں کے مقابلے کے لئے، ضروری ہے کہ سب لوگ استقامت اور روشن بینی اور اتحاد و یکجہتی اور باہمی اعتماد اور دشمن کے ساتھ ہم آواز نہ ہونے کے ذریعے، اس کی منحوس سازش کو ناکام بنائیں۔

اس مقام پر، ان امور کی حمایت کے حوالے سے ذمہ داران کا کردار بہت اہم ہے۔ ہر وہ اقدام جو قوم کے افراد میں بدگمانی اور مایوسی کا سبب بنے، ایک لحاظ سے اس ملک اور اس کے عوام کے دشمن کی مدد شمار کیا جاتا ہے۔

اب پوری دنیا میں ـ مظلوم مگر قویّ اور یقیناً کامیاب قائدینِ انقلاب اسلامی کے طور پر ـ خمینی کبیرؒ اور شہید عزیز خامنہ ایؒ کے مکتب کو عملی طور پر متعارف کرانے اور عملی جامہ پہنانے بنانے کا ایک نیا موقع فراہم ہؤا ہے۔

یہ اہم کردار قوم کے افراد ـ خصوصاً نوجوانوں، ممتاز دانشوروں اور سائنسدانوں، صاحبات فکر و نظر اور اہل فن ـ کے ذمے ہے تاکہ اسی مکتب کی بنیاد پر، خدا کے وعدوں پر بھروسہ کرتے ہوئے، ہمارے آقا (عجل اللہ تعالیٰ فَرَجَہُ الشریف) کی توجہات کے سائے میں، اور خالص اسلام ـ یعنی اس نورانی راستے پر جو صاحبان عصمت و ولایتِ کبریٰ (صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین) کے 250 سالہ دورِ حضور میں وضع کیا گیا، پیارے ایران کا روشن مستقبل تعمیر کریں۔

خداوند متعال سے اس بعثت یافتہ قوم کی حتمی فتح کی التجا

خدائے قادر متعال سے التجا کرتا ہوں کہ اپنے فضل اور کرم سے اس بعثت یافتہ قوم کو آخری فتح اور ترقی اور عظمت کی شاندار بلندیوں تک پہنچائے، اور امامین انقلاب (رحمۃ اللہ علیہما) کی ملکوتی روح اور انقلاب اسلامی کے پاکیزہ شہداء ـ خصوصاً دوسرے اور تیسرے دفاعِ مقدس کے شہداء کو ان کے مولا حضرت امیرالمؤمنین علی (صلوات اللہ و سلامہ علیہ) کے ساتھ محشور فرمائے، اور ہمارے آقا حضرت ولی عصر (عجل اللہ تعالیٰ فَرَجَہُ الشریف) کا مقدس اور نورانی دل اس قوم سے راضی فرمائے، اور اس عزیز قوم اور اس کے خادموں کو آنحضرتؑ کی خاص دعاؤں اور شفاعت سے فیض یاب فرمائے.

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

مایوسی کا سبب بننے والا کوئی بھی اقدام دشمن کا ساتھ دینے کے مترادف ہے، رہبر انقلاب

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha