4 جولائی 2026 - 01:15
نجف اور کربلا انقلاب اسلامی کے امام شہید سے تاریخی وداع کی تیاری کر رہے ہیں

ایران کے کلچرل قونصلر نے عراق میں امام شہید کی تشییع جنازہ کو 'نجف اور کربلا میں ایک وداعی رسم' سے ماورا قرار دیا اور کہا: یہ مراسمات عراق کے عوام اور حکام کی وسیع شراکت داری کے ساتھ، دونوں قوموں کے اتحاد اور امریکہ اور صہیونی ریاست کی مذمت کا پیغام پہنچائیں گے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ عراق میں ایران کے کلچرل قونصلر، حجب الاسلام غلام رضا اباذری نے ذرائع کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے عراقی عوام کی طرف سے امام شہید کی تشییع کے مراسمات  کے انعقاد کے وسیع خیر مقدم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

• رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت کے بعد، عراق میں تشییع کی تقریب کے انعقاد کی درخواست صرف حکام کی طرف سے نہیں، بلکہ پارلیمنٹ کے اراکین، مراجع عظام، قبائل، دانشوروں، سیاسی اور سماجی راہنماؤں، موکب داروں اور عوام کے مختلف طبقوں نے متعدد درخواستیں بھیج کر اس تقریب کی میزبانی کی خواہش ظاہر کی تھی۔

سید الشہید القائد الخامنہ ای کی تشییع میں شرکت کی اہمیت، صہیونیوں سے جنگ سے کم نہیں، تحریک نجباء

• ایران کی کی منظوری کے بعد، عراقی حکومت نے بھی اس عوامی مطالبے کا استقبال کرتے ہوئے، وزیراعظم کے حکم پر "تشییع کے انعقاد کے لئے اعلیٰ کمیٹی" تشکیل دی اور اب عراقی حکومت کی اعلیٰ سطح پر ہم آہنگی کے اجلاس منعقد ہو رہے ہیں۔

- عراق کے تمام انتظامی ادارے میدان میں آ گئے ہیں تاکہ یہ مراسمات عالم اسلام کے امام شہید کے شایانِ شان منعقد ہوں۔

• اس تشییع کا بنیادی پیغام، امریکہ اور صہیونی حکومت کے جرائم کی مذمت اور ایرانی اور عراقی قوموں کے اتحاد کا مظہر ہے؛ اور

- عراقی عوام کی وسیع شرکت اس پیغام کو دنیا تک پہنچائے گی کہ دونوں قومیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہیں اور

- کوئی طاقت ایران اور عراق کے درمیان فاصلہ نہیں ڈال سکتی۔

- مردم عراق خود را میزبان تشییع پیکر رهبر شهید ایران می‌دانند. صاحبان موکب‌ها، هیأت‌ها، مساجد و حتی خانواده‌ها اعلام کرده‌اند خانه‌ها و امکانات خود را در اختیار زائران قرار می‌دهند. برخی نیز با اصرار می‌گویند اگر کاری به ما سپرده نشود، ناراحت خواهیم شد.

• آج عراق میں ایک عوامی عزم پیدا ہو گیا ہے۔ اعلیٰ حکومتی حکام سے لے کر عام عراقی شہریوں تک، سب ان مراسمات میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔

- عراقی حکام نے مختلف اجلاسوں میں، ہم سے کہا کہ ہم ـ تقریب کو مزید شاندار بنانے کے لئے ـ جو کچھ ضروری ہے، انہیں بتا دیں۔

• عراقی عوام خود کو شہید رہبر انقلاب کی تشییع جنازہ کا میزبان سمجھتے ہیں۔

- موکب داروں، ماتمی انجمنوں، مساجد اور حتیٰ کہ عراقی خاندانوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے گھروں اور وسائل کو زائرین کی خدمت کے لئے پیش کریں گے۔

- عراقی عوام مین سے بہت سے ایسے ہیں جو ہم سے مل کر اصرار کرتے ہیں کہ انہیں کوئی کام سونپیں اور کہتے ہیں کہ اگر انہیں کوئی کام نہ سونپا گیا تو وہ ہم سے ناراض ہوں گے۔"

• امام شہید کا پیکرِ مبارک منگل 7 جولائی 2026ع‍ کی شام کو نجف اشرف پہنچنے کے بعد، عراقی حکام کی طرف سے باضابطہ استقبالیہ کے ساتھ اس شہر میں داخل ہوگا اور نجف اشرف میں عمومی تشییع کی رسم 8 جولائی کی صبح منعقد ہوگی۔ بعدازاں کربلا میں بھی تشییع کی رسم جاری رہے گی اور حرم مطہر امیرالمؤمنین، امام حسین اور حضرت عباس (علیہم السلام) میں زیارتی پروگرام منعقد ہوں گے۔

• عراق کے دیگر شہروں خاص طور پر بغداد میں تشییع کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔

• عراق میں شہید رہنما کی تشییع کی تقریب کا مکمل انتظام عراقی حکومت کے ذمے ہے اور وزیراعظم آفس، عراقی مسلح افواج کی کمانڈ اور مختلف انتظامی ادارے، کروڑوں افراد پر مشتمل تقریبات کے انعقاد کا تجربہ رکھتے ہیں اور وہ اس تجربے کو استعمال کرتے ہوئے، ان مراسمات کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔

• جو کچھ آج نجف اور کربلا میں نظر آ رہا ہے، وہ یہ ہے کہ عراقی قوم ان مراسمات میں شرکت اور خدمت کے ذریعے، عالم اسلام کے امام شہید سے اپنی عقیدت اور ایرانی قوم کے اور مقاومت کے ساتھ اپنی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے۔ البتہ اس اقدام کا اثر عراق تک محدود نہیں رہے گا اور علاقائی اور عالمی سطح پر بھی سنا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha