22 مئی 2026 - 15:33
حصۂ پنجم: ہمیشہ سے زیادہ طاقتور ایران، دشمن کے خلاف نئے محاذ کھولنے کے لئے تیار

امریکہ کے دباؤ اور خطرات کے باوجود، ایران نے خطے میں اپنی اسٹراٹیجک پوزیشن کو مستحکم کر لیا ہے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے ذریعے عالمی توانائی کی سلامتی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، اور دشمن کی غلطی اس پر آبنائے باب المندب کا کنٹرول بھی اس میں شامل کر دے گی۔ / امریکہ حملہ کرے گا، تو ایران باب المندب بند کرے گا، نیویارک ٹائمز / ایران؛ عالمی نظام میں استحکام یا بحران کا کلیدی ستون / تہران کے پاس عالمی توانائی کے اہم ترین گذرگاہ اور کھاد اور ہیلیم کی مرکزی شاہراہ پر کنٹرول ہے، فارن پالیسی / 42 امریکی جنگی طیاروں کی تباہی  / امریکہ میں ایندھن کی قیمتیں ناقابل برداشت / ایران کو پسپائی پر مجبور کرنا، ایک وہم ہے، ڈاکٹر پزشکیان / دشمن کو دوبارہ جارحیت پر پشیمان کریں گے، ڈاکٹر قالیباف / دشمنوں سے غلطی سرزد ہوجائے تو اس کے ہاتھ کاٹ کر رکھ دیں گے، میجرجنرل عبداللٰہی / جارحیت دہرائی گئی تو ایران کا ردعمل علاقائی حدود سے آگے ہوگا، سپاہ پاسداران / فوج دشمن کی ہر قسم کی مہم جوئی سے نمٹنے کے لئے تیار ہے، میجرجنرل امیر حاتمی / اس جنگ نے تیسری اسلامی جمہوریہ کو شکل دینے میں مدد دی ہے، اسرائیلی تجزیہ کار

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛

حصۂ پنجم:

اس جنگ نے تیسری اسلامی جمہوریہ کو شکل دینے میں مدد دی ہے، اسرائیلی تجزیہ کار

اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس (آمان) میں ایران ڈیسک کے سابق سینئر افسر "ڈینی سیترینووچ" نے ان ہی حالات میں کہا ہے: "آبنائے ہرمز میں ایران کے بڑھتے ہوئے عزم سے لے کر (آیت اللہ سید) مجتبیٰ خامنہ ای کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور سپاہ پاسداران کی طاقت کے پھیلاؤ تک، ایرانی نظام بہت سے پہلوؤں میں زیادہ مضبوط اور نظریاتی ہو گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ نے تیسری اسلامی جمہوریہ کو شکل دینے میں مدد دی ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی غلط اسٹراٹیجک حساب کتاب کی وجہ سے وجود میں آئی۔ اسلامی جمہوریہ اندرونی طور پر مضبوط ہو گئی ہے اور یہ ممکنہ طور پر جنگ میں ہماری سب سے بڑی اسٹراٹیجک غلطی ہوگی۔۔۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایرانی قیادت کا ہتھیار ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے'۔"

ایک اہم نکتہ:

واضح رہے کہ جملہ "ایران کے ہتھیار نہ ڈالنے" کو بار بار دہرانے کا مقصد ایک اہم حقیقت کو خفیہ رکھنے کے لئے ہے اور وہ یہ کہ دشمن اس جنگ میں انتہائی بری طرح شکست کھا چکا ہے اور یہ جتانا کہ "اس جنگ میں مغرب اور صہیونیت نے فتح حاصل کر لی ہے"، چنانچہ اب ایران کو فطری طور پر سر تسلیم خم کرنا چاہئے حالانکہ یہ غلط بیانی ہے،میدان کا حال بیان کر رہا ہے کہ دشمن شکست کھا گیا ہے تو پھر دشمن ہی کے قواعد کے مطابق، ہتھیار کس کو ڈالنا چاہئے؛ غالب کو یا مغلوب کو، فاتح کو یا مفتوح کو؟ جو ظالم طاغوت ایران پر قبضہ کرنے، اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے، اس کی فوجی طاقت خاتم کرنے، اس کی کایا پلٹ کرنے اور اس کے توانائی کے ذخائر پر قبضہ کرنے اور اس میں کئی اسرائیل نواز عملداریاں قائم کرنے جیسے مقاصد کا اعلان کرکے اس ملک پر چڑھ دوڑے تھے اب وہ میدان میں کوئی بھی مقصد حاصل کئے بغیر شکست کھا چکے ہیں، ایران اور اس کی حکومت، اور اسکی عملداری اور اس کے توانائی کے ذخائر، اور اس کی فوجی طاقت قائم و دائم ہے اور اس کی سالمیت نہ صرف برقرار ہے بلکہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے، تو اب یہ باطل تصور اتنی بے شرمی سے اچھالا جا رہا ہے کہ بھئی ایران ہتھیار نہیں ڈال رہا ہے، ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا، یا ایران پسپا نہیں ہوگا، اس لئے جن کو ہتھیار ڈالنا ہے، اور جن کو پسپا ہونا ہے وہ ایرانی نہیں بلکہ امریکی اور صہیونی ہیں۔ گویا وہ ان باتوں سے اس حقیقت کو کچھ ملتوی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ امریکہ اور صہیونی ریاست ہیں، جن کو ہتھیار ڈالنے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تالیف و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha