بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ پاکستانی وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران، ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا:
• میں ایران کے صدرِ جمہوریہ اور ان کے ہمراہ ایرانی وفد کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
• جناب پزشکیان! آپ ایک عالم اور معالج ڈاکٹر ہیں۔
• آپ اور ٹرمپ کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط، امن کے لئے ایک شاندار موقع تھا جو پاکستان کی ثالثی میں طے پایا۔
• میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے حساس حالات میں اپنے ملک کی عمدہ قیادت کی۔
• ایرانی عوام نے جنگ کے پورے عرصے میں اپنا کردار عمدگی سے ادا کیا اور ہم اس عوامی ہمت کو سراہتے ہیں۔
• آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت انتہائی افسوسناک تھی اور وہ تمام اسلامی ممالک میں قابلِ احترام تھے۔
• ایران کا غم، پاکستانی قوم کا غم ہے۔ آپ کی کامیابی ہماری کامیابی ہے۔
• میں جناب پزشکیان کی دعوت پر اگلے ہفتے ایران کا دورہ کروں گا۔ ایران اور پاکستان زندہ باد۔
• میں مذاکرات میں معاونت کرنے پر امیر قطر کے کردار کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
• میں محمد بن سلمان، رجب طیب اردوان اور عبدالفتاح السیسی کا بھی انتہائی شکرگزار ہوں۔
• میں نے اس اجلاس میں پاکستان کے عوام کو مبارکباد دی کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہم ایک سہ فریقی مفاہمت نامے پر دستخط کرکے ایک اہم کامیابی حاصل کر پائے؛ اس طرح کہ یہ دستاویز اسلام آباد، تہران اور نیز دیگر فریقوں کے تعاون سے طے پائی ہے۔
• میں نے مسعود پزشکیان کو پاکستانی پارلیمنٹ پاکستان میں آنے کی دعوت دی ہے اور پاکستانی عوام نے بھی ان کے دورے کے بعد ایرانی وفد کا بہت گرمجوشی سے استقبال کیا ہے۔
• بیلسٹک میزائلوں کا موضوع کبھی بھی ایران اور امریکہ کے مذاکرات میں شامل نہیں تھا اور مفاہمت نامے کے متن میں بھی کسی عنوان کے تحت اس کا ذکر نہیں ہے اور اس سلسلے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔
• اگر ایران بطور پڑوسی ملک دفاعی مقاصد کے لیے میزائل صلاحیت رکھتا ہے تو یہ ایک فطری امر ہے؛ کیونکہ دنیا کے بہت سے ممالک ایسی صلاحیتوں کے حامل ہیں اور یہ موضوع اعتراض کا باعث نہیں بن سکتا۔
• کچھ ممالک ان معاہدوں کے قیام سے ناخوش ہیں اور اس راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ایران اور پاکستان سنجیدہ ارادے کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے اور امن و استحکام کے حصول کے خواہاں ہیں۔
• کچھ ممالک جو اس معاہدے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، ایران اور دیگر فریقوں کے تعلقات کی پیشرفت سے ناخوش ہیں، لیکن ہم اور میرے عزیز بھائی جناب پزشکیان ان کوششوں کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ