بینالاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اردن کی سرزمین سے امریکی افواج کی کارروائیوں کے جواب میں ان اڈوں کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں اور ساتھ ہی اردن کے عوام کے نام بیان جاری کرتے ہوئے امریکی افواج کی موجودگی کا مقابلہ کرنے اور اس ملک کی سرزمین کو اسلامی ممالک کے خلاف حملوں کا مرکز بننے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان بیانات میں اردن کے عوام سے کہا گیا کہ وہ اپنی سرزمین پر "شیطان اکبر کی فوج" کی موجودگی کو ختم کرنے کے لئے اقدام کریں۔
نیز سپاہ پاسداران نے اردن کے علاقے العقبہ میں امریکی ہوائی اڈے کے خلاف آپریشن اور بڑی تعداد میں امریکی تزویراتی اثاثے تباہ کرنے کے بعد ایک بیانی جاری کرکے، امریکی ٹھکانوں کا سراغ لگانے اور انہیں نشانہ بنانے میں تعاون پر پر اردن کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور امریکی افواج کو نکالنے اور امریکہ سے منسلک مراکز کا مقابل کرنے کے کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔
مغربی ایشیا کے امور کے ماہر اور تجزیہ کار سیدرضا صدرالحسینی، نے ابنا خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ان بیانات کے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اردن کی آبادی کا ایک اہم حصہ فلسطینی مہاجرین پر مشتمل ہے جن کا نقطۂ نظر صیہونیت مخالف ہے اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ امریکہ صہیونی ریاست کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے۔
صدر الحسینی کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ہمیشہ خطے میں کچھ حالات پیدا کرکے امریکہ کے سیاسی اور سیکیورٹی رجحانات کو صہیونی ریاست کو تقویت دینے کی سمت میں آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ خطے کی حکومتیں امریکہ سے وابستگی کی وجہ سے اس ملک کی بیشتر پالیسیوں اور اقدامات میں برابر کے شریک ہیں جن کا بنیادی مقصد صہیونی ریاست کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ اسی لئے سپاہ پاسداران نے اپنی انٹیلی جنس برتری پر انحصار کرکے، اردن کی سرزمین سے ایران پر ہونے والے حملوں اور جرائم کا جواب دیا اور ان جارحیتوں کا پلیٹ فارم بننے والے مراکز کے خلاف فوجی-جوابی کارروائی کی ہے۔
صدرالحسینی نے زور دے کر کہا کہ فوجی جواب پورے ماجرا کا محض ایک حصہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ، خطے کی قوموں کو امریکہ اور صہیونی ریاست کے عزائم و جرائم سے آگاہ کرنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق، سپاہ پاسداران کے بیانات کا اجرا درحقیقت تبیینی (تبصیری) جہاد کے علاقائی محاذ میں داخل ہونا اور جارحین کے مقابلے اور خطے کی رائے عامہ کو آگاہ کرنے کے لئے میدانی اقدامات کا تَک٘مِلَہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ نرم جنگ اور سخت جنگ ایک واحد حکمت عملی کے دو رخ ہیں جو ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں؛ سپاہ پاسداران، اسلامی جمہوریہ ایران کی سیکیورٹی اور مفادات کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ، خطے کی قوموں کو امریکی-صہیونی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لئے آگاہ کرنے کی خواہاں ہے۔
انھوں نے اردن کے عوام کی طرف سے غزہ کی مسلسل حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی اڈوں کو ختم کرنے کے مطالبے میں ان کے کردار کو بہت اہم قرار دیا اور ان اڈوں کی موجودگی کو خطے کی بدامنی، عدم تحفظ اور اختلاف کے تسلسل کا باعث قرار دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ