-
اسلامی جمہوریہ ایران کی فتح
نیوز سروس1 اللہ کے اذن سے، آخری جنگ سے سوپر پاور بن کر نکلیں گے، بریگیڈیئر جنرل محبی
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان نے ایران اور خطے کے مستقبل پر موجودہ تبدیلیوں کے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا: یہ تصادم ایران کی سرحدوں سے آگے تک، نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، اور دیگر…
تازہ ترین خبریں۔
-
اسلامی جمہوریہ ایران کی فتح
نیوز سروس1 اللہ کے اذن سے، آخری جنگ سے سوپر پاور بن کر نکلیں گے، بریگیڈیئر جنرل محبی
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان نے ایران اور خطے کے مستقبل پر موجودہ تبدیلیوں کے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا: یہ تصادم ایران کی سرحدوں سے آگے تک، نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، اور دیگر قوموں کی قسمت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لئے ایرانی معاشرے کو چاہئے کہ وہ حالات صحیح ادراک کرے، اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھے اور اندرونی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے، شعوری طور پر ذمہ داری کے ساتھ اپنی قسمت کا تعین کرے۔/ موجودہ تصادم ایک فوجی جھڑپ سے بڑھ کر ہے۔ دشمن ایرانی قوم کی مذہبی، تاریخی اور ثقافتی تشخص کو کمزور کرنے اور ایرانی-اسلامی تہذیب کو مٹا دینے کے درپے ہے اور ہمیں ثابت قدمی اور استقامت کے ساتھ ملک کی علاقائی سالمیت، تہذی و ثقافت اور تشخص کا دفاع کرنا چاہئے۔ / دشمن اسلامی-ایرانی تشخص اور تہذیب کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔
-
نئی اسلامی تہذیب
نیوز سروسکیا عظمت کی بحالی کے لئے جوہری ہتھیاروں کی ضرورت ہے یا نہیں؟ - 2
اس مضمون میں، "ایرانی سلطنت" سے مراد ملک گیری، عالمگیری یا قدیم سرحدوں کی طرف واپسی نہیں ہے؛ بلکہ مقصود اس مقام، طاقت اور اثر و رسوخ کی طرف واپسی ہے جو ایران کو اپنے تاریخی ادوار میں حاصل رہا ہے، جب دنیا میں اس کی بات کو اہمیت دینا پڑتی تھی اور مشرق وسطیٰ کے توازن میں اس کی بات حرف آخر ہوتی تھی۔
-
خلیج فارس کی نئی ترتیب؛
نیوز سروسدشمن کی معمولی سی غلطی پر بھی کئی گنا بڑا جواب دیں گے، بریگیڈیئر جنرل محبی
سپاہ پاسداران کے ترجمان نے کہا: امریکہ اور اسرائیلی رجیم کے سربراہان کی دھمکیاں زیادہ تر میڈیا اور اندرونی استعمال کے لئے ہیں، لیکن اگر دشمن کوئی محدود حرکت بھی کرے تو موجودہ تیاریوں اور مسلح افواج کے آپریشنل منصوبوں کے مطابق ایران کا جواب کئی گنا بڑا ہوگا۔
-
نیوز سروسپاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار تشویش، سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق
پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
-
نیوز سروسایران کے خلاف جنگ سے مشرقِ وسطیٰ میں معاشی بحران؛ خلیجی عرب ممالک کو سب سے زیادہ نقصان کا سامنا
امریکہ اور صیہونی ریاست کی ایران کے خلاف جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کی معیشتوں کو غیر معمولی دھچکا پہنچایا ہے۔ توانائی کی فراہمی، بحری آمدورفت اور تجارت میں رکاوٹوں کے باعث خطے کی معاشی ترقی منفی ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود خلیج فارس کے عرب ممالک کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔
-
نیوز سروساردن: چرچ میں میت کی آخری رسومات کے دوران فائرنگ سے8 افراد ہلاک
یہ واقعہ صوبہ کرک کے علاقے میں واقع حمود چرچ میں پیش آیا جہاں ایک چرچ کے اندر میت کی آخری رسومات جاری تھیں، حکام
-
نیوز سروسپاکستان سکیورٹی اور معاشی مشکلات میں گھِر گیا؛ ایران اور امریکہ میں ثالثی کی کوششیں، تین ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدیں بند
پاکستان ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی ختم کرانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب بھارت، افغانستان اور ایران کے ساتھ اس کی سرحدی گزرگاہیں بند ہیں، جس سے ملک کو معاشی اور سکیورٹی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
-
نیوز سروسیمن میں ماضی کی تلخ جنگ؛ کیا مصر ایک بار پھر فوجی مداخلت کے جال میں پھنسنے جا رہا ہے؟
سعودی عرب کے دفاع میں فوجی مدد فراہم کرنے کے لیے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی آمادگی نے 1962ء سے 1967ء کے دوران یمن میں مصر کی فوجی مداخلت کی تلخ یادیں تازہ کر دی ہیں۔ لبنانی اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، ماضی کا یہ تجربہ خبردار کرتا ہے کہ جلد بازی میں کیے گئے فوجی فیصلے طویل جنگ، بھاری نقصانات اور ملک کے سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
-
نیوز سروسلیبیا کی تباہی سے ایران کی جنگ تک؛ کیا ٹرمپ امریکہ کی ایک اور تزویراتی غلطی دہرانے جا رہے ہیں؟
امریکی جریدے نیوزویک نے 2011ء میں لیبیا میں مغربی مداخلت کے تباہ کن نتائج کو ایران کے خلاف جنگ کے تناظر میں امریکہ کے لیے ایک انتباہ قرار دیا ہے۔ جریدے کے مطابق، ایران کے نظام کو گرانے کے بعد کی صورتِ حال کے بارے میں واضح منصوبہ بندی نہ ہونے سے ایسے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں جو معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے بحران سے بھی زیادہ خطرناک ہوں۔
-
جغرافیے کی مزاحمت
نیوز سروسوہ جنگ ہار جائیں گے، لیکن کیوں؟
وہ جغرافیے کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران جغرافیے کا دفاع کر رہا ہے، جنگ اسی بات پر ہے۔ جنگ اسی بات پر ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ خطے کے جغرافیے کو اپنی مرضی کے مطابق دوبارہ تقسیم کریں اور ایران اپنے متحدہ وجود کا دفاع کر رہا ہے؛ جنگ کا اہم سبب یہی ہے۔