24 مئی 2026 - 19:15
امام شہید مقلدین کی ذمہ داری کیا ہے؟

جامعۂ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے نائب سربراہ آیت اللہ شیخ عباس کعبنی نے حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی شہادت کے بعد آپ کے مقلدین کے شرعی فرائض کی تشریح کرتے ہوئے "تقلید پر بقاء" اور نوبالغ افراد کی "ابتدائی تقلید" نیز ولی فقیہ کو شرعی واجبات کی ادائیگی کے احکام کے بارے میں اہم مسائل کا جواب دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کے مطابق، مجلس خبرگان کے رکن اور جامعۂ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے نائب سربراہ آیت اللہ شیخ عباس کعبنی نے حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی شہادت کے بعد آپ کے مقلدین کے شرعی فرائض کی تشریح کرتے ہوئے "تقلید پر بقاء" اور نوبالغ افراد کی "ابتدائی تقلید" نیز ولی فقیہ کو شرعی واجبات کی ادائیگی کے احکام کے بارے میں اہم مسائل کا جواب دیا ہے:

بسم الله الرّحمن الرّحیم

الحمدلله ربّ العالمین و الصّلاة والسّلام علی سیّدنا و نبیّنا ابی القاسم المصطفیٰ محمّد وعلیٰ آله الأطیبین الأطهرین المنتجبین الهداة المهدیّین المعصومین سیّما بقیّة الله فی الأرضین

ؤمنین سوال پوچھتے ہیں امام شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (قَدَّسَ اللہُ نَفسَہُ الزَّکِیّۃَ) کی تقلید پر باقی رہنے کے بارے میں، تو نجف اور قم میں تمام بقید حیات مراجع تقلید کے فتوؤں کے مطابق جائز ہے یا واجب۔ لہٰذا ـ ان تمام مراجع تقلیدکے فتوؤں کے مطابق، جو اعلم سمجھے جاتے ہیں ـ امام شہید کے مقلدین آپ کی تقلید پر باقی رہ سکتے ہیں۔

شرعی واجبات اور خمس کے بارے میں، امام خمینی (قَدَّسَ اللہُ نَفسَہُ الزَّکِیّۃَ) کے فقہی مبانی نیز امام شہید (قَدَّسَ اللہُ نَفسَہُ الزَّکِیّۃَ) کے فقہی مبانی کے مطابق، خمس حاکم شرع اور ولی فقیہ کو ادا کرنا چاہئے۔ امام خمینی (قَدَّسَ اللہُ نَفسَہُ الزَّکِیّۃَ) نے "کتاب البیع" کی دوسری جلد میں "فقیہ" کی بحث کے ضمن میں اور "سہم امام" کے موضوع کے ذیل میں، اس موضوع مفصل بحث فرمائی ہے۔ 

چنانچہ جو مؤمنین قبل ازیں اپنا خمس امام شہید کے دفتر میں جمع کراتے تھے، اب اگر اپنا خمس حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے دفتر میں جمع کردیں تو مُجزی (کافی، درست اور اطمینان بخش) ہے؛ اور آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی (حفظہ اللہ) سمیت بعض موجودہ مراجع عظام نے بھی اس پر تصریح کی ہے: حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی فقاہت پر بھی؛ اور اس بات پر بھی کہ مؤمنین کے لئے جائز ہے کہ اپنا خمس ولی فقیہ کو ادا کریں، اس سے بھی بڑھ کر بعض اصولوں کے مطابق، یہ لازم اور واجب ہے۔ 

امام شہید کی ابتدائی تقلید

سوال یہ ہے کہ جو لوگ نوبالغ ہیں، اور تقلید کرنا چاہتے ہیں، کیا وہ امام شہید آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی تقلید کر سکتے ہیں؟! تو جواب یہ ہے کہ آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی جیسے بعض بقید حیات مراجع تقلید ـ جو اعلم سمجھتے ہیں ـ فرماتے ہیں: معاصر میت مرجع تقلید کی ابتدائی تقلید جائز ہے اور امام شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کا بھی اصول یہی تھا کہ معاصر میت مرجع کی ابتدائی تقلید جائز ہے۔

چنانچہ جو افراد سن بلوغت پر پہنچے ہیں، وہ لڑکیاں اور لڑکے جن پر عبادات واجب ہو گئی ہیں اور وجوب احکام کی عمر میں پہنچے ہیں، اس اصول کے مطابق، امام شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی تقلید کریں۔

وصلیٰ اللہ علیٰ محمد و آله الطاہرین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha