بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ معاشیات کے پروفیسر، ڈاکٹر مہدی منصوری بیدکانی نے ایک مضمون میں لکھا: نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ پڑھنے کو ملی؛ پچاس ایف-16 اور ایف-15 ای لڑاکا طیارے، 11 بحری جاسوسی طیارے۔ 8 ایئر ریفیولنگ طیارے، ایک میزائل داغنے والی آبدوز۔ ایک طیارہ بردار بحری جہاز، ایک بمبار طیاروں کا ایک گروپ جو نیٹو کی فضائی اور بحری طاقت کا ایک تہائی حصہ تشکیل دے رہے تھے ـ اور یہ سب امریکہ فراہم کر رہا تھا، ـ اور اب یہ سب یورپ سے نکالا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار درست ہیں۔ عمل درآمد کا وقت: اس سے کہیں جلد جتنا یورپی تصور کر رہے ہیں۔
حصۂ سوئم:
ٹرمپ نے کانگریس سے جو 350 ارب ڈالر مانگے ہیں، وہ عالمی امن کے لئے نہیں، بلکہ فوجی شکستوں کی تلافی اور خالی گودام بھرنے کے لئے ہیں۔ یہ ایران کے ساتھ جنگ کے بعد امریکی فضائیہ کی بحالی کا بجٹ ہے۔ لیکن ریپبلکن پارٹی کے اندر گہری تقسیم ـ جس کے بارے میں جان کورنین نے واضح طور پر خبردار کیا ہے ـ اور نئی سیاسی آزادی حاصل کرنے والے سینیٹرز کی مخالفت کے پیش نظر، اس بجٹ کی منظوری آسان نہیں ہے۔
ایران کے ساتھ امن کے اعلان کرنے کے لئے ٹرمپ کے تین فوری محرکات:
1۔ تیل کی قیمت کم کرنا؛ اکتوبر اور نومبر میں کانگریس کے درمیانی مدت کے انتخابات سر پر ہیں؛ ریپبلکن پارٹی پٹرول کی بلند قیمت کے ساتھ ووٹنگ بوتھ تک نہیں جا سکتی۔ ایران کے ساتھ امن کا مطلب خلیج فارس میں کشیدگی میں کمی، یعنی تیل کی سپلائی میں اضافہ، یعنی قیمتوں میں کمی۔
2۔ اسٹاک مارکیٹ۔ جنگ کے خاتمے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد، اسپیس ایکس نے امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ابتدائی عوامی پیشکش کی۔ امن کی خبر کے نتیجے میں پیدا ہونے والا مثبت نفسیاتی ماحول، براہِ راست ایلون مسک ـ اور اس کے ساتھ ہم آہنگ لوگوں ـ کی جیب میں جا گرا۔
3۔ پھر بھی حملے کے لئے تیاری۔
ٹرمپ اور اس کی ٹیم اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ امن عارضی ہے۔ وہ انتخابات کے بعد، پوری طاقت کے ساتھ ایران کی طرف آئیں گے۔ لیکن فی الحال انہیں وقت چاہئے۔ سانس لینے کے لئے فرصت چاہئے۔ ٹرمپ کے لئے امن صرف ایک چال (Tactic) ہے، اسٹراٹیجی نہیں۔
خلیج فارس تعاون کونسل کے ممالک ـ جو جغرافیائی طور پر کسی بھی دوسری جگہ سے زیادہ ایران کے قریب [واقع] ہیں ـ اس مساوات میں کیا مقام رکھتے ہیں؟ وہ یہ پسند نہیں کرتے کہ ایران طاقتور ہو۔ لیکن وہ ایک کمزور امریکہ سے بھی ڈرتے ہیں۔ چنانچہ ان کی نئی حکمت عملی مشرق کی طرف رخ موڑنے سے عبارت ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات برکس میں شامل ہو چکے ہیں۔ قطر اور عمان نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھا لئے ہیں۔ امریکہ یہ جانتا ہے۔ اسی لئے وہ خلیج فارس کے اڈوں سے اپنا سامان نہیں نکال سکتا۔ لیکن وہ بیک وقت یورپ، ایشیا اور خلیج فارس کا دفاع بھی نہیں کر سکتا۔ پس معاشی منطق کہتی ہے: "کمزور ترین کڑی کو چھوڑ دو"۔ "یورپ، کمزور ترین کڑی ہے۔"
ایران اس بڑے کھیل میں، تماشائی نہیں بلکہ نئی ترتیب (New Order) کے معماروں میں شامل ہے۔ ایران آج شنگھائی اور بریکس کا مکمل رکن ہے۔ اس کی مقاومتی معاشیات (Resistive economics) کا نمونہ ـ تیل کی بجائے دانش بنیاد، سوئفٹ کے بجائے، مبادلۂ اجناس (Barter Exchange)، بیرونی انحصار کے بجائے اندرونی وسائل اور صلاحیتوں پر انحصار ـ دنیا میں زیرِ مطالعه ہے اور اس کی نقلیں تیار کی جا رہی ہیں۔ لیکن سب سے اہم بات، ایران نے ایک نیا تسدیدی ہتھیار (Deterrent Weapon) بنا لیا ہے:
عالمی تجارت کے دو بنیادی اہمیت کی شاہراہوں پر کنٹرول۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی بند ہو چکی ہے۔ آبنائے باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی، یعنی امریکہ جانتا ہے کہ ایران پر کوئی بھی زمینی حملہ، عالمی معیشت کو جہنم میں دھکیل دے گا۔ یہ وہی طاقت ہے جو کسی فوجی کتاب میں تحریر نہيں ہوئی ہے۔ جو چیز ایران کو وینزویلا یا لیبیا سے الگ کرتی ہے، وہ صرف علم کی بنیاد پر قائم نظامات (Knowledge-based systems) یا پائیدار شراکت دار نہیں ہے۔ بہت بڑا سماجی سرمایہ ہے۔
تقریبا 4 مہینوں سے سڑکوں پر کروڑوں کی تعداد میں انقلابی عوامی موجودگی، 22 بہمن (11 فروری)، یوم القدس، اربعین، وغیرہ میں عظیم عوامی ریلیاں؛ کسی بھی صدمے کے خلاف سب سے بڑا جھٹکا ہضم و برداشت کرنے کی قوت فراہم کرتی ہیں۔
Trap of the Century | The American Empire is Digging Its Own Grave.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ