18 جون 2026 - 00:00
ایران کی فتح پر امریکی مشاہیر کی مُہر تصدیق

ایران اور امریکہ کا سمجھوتہ ٹرمپ کے اعلان کردہ اہداف و مقاصد سے پسپائی ہے، فرانسس فوکویاما / یہ معاہدہ تمام اسرائیلیوں اور ان کی اگلی نسل کے لئے غم انگیز ہے، ایلن بن ڈیوڈ/ ایران جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہو گیا ہے، ڈین شاپیرو/ امریکہ اور اسرائیل کمزور ہو گئے، جیفری ساکس۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛

سٹینفورڈ (Stanford) یونیورسٹی کے پروفیسر اور سیاسیات کے اہم ترین مفکرین میں سے ایک، "فرانسس فوکویاما": "ایران اور امریکہ کا سمجھوتہ ان اہداف سے پسپائی ہے ہے جن کا امریکہ نے جنگ کے آغاز میں اعلان کیا تھا۔

ٹرمپ اس سمجھوتے کو ایک فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن اس عملی نتیجہ جنگ کے پہلے کے حالات میں واپسی ہے۔

جس سمجھوتے کی ان دنوں وکالت کر رہا ہے، امریکہ کے لئے 2015 کے جوہری معاہدے سے کہيں زیادہ کمزور ہے؛ وہی معاہدہ جس کو ٹرمپ برسوں سے "المناک" قرار دیتا آیا تھا۔

امریکی حکومت پر اندرونی معاشی اور سیاسی دباؤ نے ٹرمپ کو اپنے ابتدائی مطالبات کا ایک بڑا حصہ ترک کرنے پر مجبور کر دیا۔

امریکہ کئی مہینوں کی جنگ اور بھاری اخراجات برداشت کرکے، جنگ کے پہلے کی سی حالت میں پلٹ گیا ہے۔

 ٹرمپ ایک "بے بس اور نادان صدر" ہے۔

ایران نے اپنا نظام، اپنے جوہری پروگرام کا ایک بڑا حصہ اور اپنے علاقائی اوزاروں کو محفوظ رکھ کر ـ اس سمجھوتے میں ـ امریکہ کے مقابلے میں زیادہ رعایتیں حاصل کی ہیں۔"

عسکری اور سلامتی کے امور کے مشہور اسرائیلی تجزیہ کار 'ایلن بن ڈیوڈ (Alon Ben David)': "اس وقت، تمام اسرائیلیوں اور ہماری اگلی نسل کے لئے غم انگیز دن ہے۔ یہ سمجھوتہ ایران کے لئے راستہ ہموار کرتا ہے کہ خطے کی سب سے بڑی طاقت بنے۔"

تل ابیب میں سابق امریکی سفیر "ڈین شاپیرو (Daniel B. Shapiro): "یہ جنگ ایک غلطی تھی۔

ایران امریکہ اور اسرائیل کے بھاری حملوں کے مقابلے میں مزاحمت کرکے، تزویراتی لحاظ سے مضبوط ہو گیا ہے۔

ایران نے ایک ایک نظری لیوریج پوائنٹ (Theoretical leverage point) (آبنائے ہرمز) کو ایک طاقتور اور حقیقی دباؤ کا اوزار بنا دیا اور ٹرمپ پر لرزہ طاری کیا۔

اس سمجھوتے میں ہماری سب سے بڑی کامیابی آبنائے ہرمز کھولنے سے عبارت ہے جو جنگ سے پہلے کھلا تھا؛ اب ہم ایران کی پابندیاں اٹھا کر آبنائے ہرمز کھلوانے کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔

بہت سے علاقائی ممالک ایران کی توجہ حاصل کرنے میں مصروف ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہوا کس سمت میں چل رہی ہے۔"

معاشیات کے امریکی پروفیسر اور تجزیہ کار پروفیسر "جیفری ساکس (Jeffrey Sachs)": یہ امریکہ اور اسرائیل کے لئے ہار - ہار کی جنگ تھی؛ ایسی جنگ جسے انہوں نے احمقانہ انداز سے شروع کیا۔ نہ امریکہ کچھ حاصل کر پایا اور نہ ہی اسرائیل؛ اس کے برعکس دونوں کمزور ہو گئے اوران کا اعتبار دنیا میں، پہلے سے زیادہ نقصان سے دوچار ہؤا۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha