16 جون 2026 - 02:07
امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدہ؛ ایران کہاں کھڑا ہے؟

ابھی تک معاہدے کا رسمی متن شائع نہیں ہؤا اور اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہو گا؛ لیکن موجودہ خبروں کی بنیاد پر، بنیادی فارمولا یہ ہے: ایران آبنائے کو کھول دے گا اور امریکہ ناکہ بندی اٹھا لے گا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ہ سمجھنے کے لئے کہ ہم اس ڈیل میں کہاں کھڑے ہیں، کچھ پس منظر کی طرف دیکھنا ہوگا:

امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدہ؛ ایران کہاں کھڑا ہے؟

معاہدے تک طے شدہ راستہ

ابتدائی معاہدہ:

جنگ بندی کے بعد، یہ طے پایا تھا کہ ایران آبنائے کو کھول دے گا۔

امریکہ کے حریصانہ مطالبے: امریکہ نے مذاکرات کو ناکام بنا کر ناکہ بندی شروع کر دی تاکہ جوہری اور علاقائی شعبوں میں "زیادہ سے زیادہ رعایتوں" تک پہنچ سکے۔

ایران کا جواب:

اسلامی جمہوریہ ایران نے اس دباؤ کے جواب میں دوبارہ آبنائے ہرمز بند کر دیا۔

موجودہ صورت حال:

اب امریکی مرضی کے اس "بڑے معاہدے" تک واشنگٹن کی رسائی کے بغیر؛ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے اور دونوں فریقوں کو ابھی مذاکرات کے لئے تیار ہونا ہے۔ اس دوران، ترازو کا پلڑا کئی وجوہات کی بنا پر ایران کے حق میں بھاری ہے:

1۔ آبنائے ہرمز پر حکمرانی:

صورتحال جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں گئی۔ آبنائے کی چابی اب ایران کے ہاتھ میں ہے اور جب چاہے اسے بند کر سکتا ہے؛ یہاں تک کہ خدمات کی فراہمی جیسے مختلف عناوین کے تحت محصولات بھی وصول کر سکتا ہے۔

2۔ معاشی اور فوجی تَنَفُّس (Breathtaking) کا موقع کا موقع:

یہاں تک کہ اگر اگلے دو ماہ کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ بھی ہوں، یہ مدت ایران کے لئے ناکہ بندی اور تیل کی عدم فروخت کے دور کے بعد، اپنی فوجی اور معاشی تعمیر نو اور بحالی کے لئے ایک سنہری موقع ہے۔ 

3۔ علاقائی پوزیشن کا استحکام:

امریکہ کو ایرانی کی قیادت اور مرکزیت کے ساتھ محاذ مزاحمت (محور مقاومت) کے اتحاد کو عملی طور پر تسلیم کرنا پڑا ہے۔

4۔ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت:

ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو اصولی طور پر دو طرفہ مذاکرات سے مکمل طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔

5۔ امریکہ کو کیا ملا:

امریکہ اس مرحلے پر جنگ بندی کے بعد کے معاہدے کی ایک رعایت  ـ یعنی آبنائے کے کھلنے کے علاوہ ـ کچھ زیادہ حاصل نہیں کر پایا، [یہی وہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ٹرمپ کو اندرون خانہ شدید سرزنش کا سامنا ہے اور اس سے پوچھا جا رہا ہے کہ جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز کھلا تھا اور تم نے جنگ دوسرے مقاصد کے لئے شروع کردی جن میں تم ناکام ہو گئے اور آبنائے ہرمز اسی جنگ کی وجہ سے بند ہو گیا اب تمہیں صرف جنگ سے پہلے حالت میں واپسی کے لئے معاہدہ کرنا پڑ رہا ہے، اور کچھ نہیں]۔

سوال: اگر امریکہ بدعہدی کرے تو کیا "جوہری معاہدہ 2" دہرایا جائے گا؟

نہیں۔ اس معاہدے کا ماڈل جوہری معاہدے سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ جوہری معاہدے میں، ایران نے نقد مراعات دیں اور ادھار کے وعدے وصول کئے جو پورے نہیں ہوئے۔ لیکن اس معاہدے میں، ایران کچھ بھی نہیں کھوئے گا؛ معاہدے کا ڈھانچہ قابل واپسی ہے؛ یعنی امریکہ کی بدعہدی کی صورت میں، سب کچھ تیزی سے زیرو پوائنٹ پر واپس چلا جائے گا، کیونکہ آبنائے کا کھلا رہنا دوسرے فریق کی مرضی اور رویے پر منحصر ہے۔

بہرحال، حتمی رائے دینے لئے ابھی بھی معاہدے کے متن کا انتظار کرنا ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha