11 جون 2026 - 00:31
آبنائے ہرمز کو ایران نہیں، امریکہ کنٹرول کرتا ہے، ٹرمپ

امریکی صدر نے آج بدھ کو دعویٰ کیا کہ اس نے گذشتہ ماہ ایک "خفیہ آپریشن" [یعنی چوری] کے ذریعے کروڑوں بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گذار دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سائیکو پیک امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل نیٹ ورک پر ایک پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پچھلے مہینے اپنے ملک کی فوج کو آبنائے ہرمز سے تیل کے ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت کی حمایت کے لئے ایک "خفیہ آپریشن" کرنے کا حکم دیا!

اس نے دعویٰ کیا کہ اس آپریشن کی وجہ سے 100 ملین بیرل سے زائد تیل آبنائے ہرمز سے گذر کر مارکیٹ میں داخل ہؤا۔

اس کا دعویٰ تھا کہ 200 سے زائد تجارتی جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز سے گذرنے میں کامیاب ہوئے۔

ٹرمپ نے اپنے پیغام کے آخر میں لکھا: "یہ انتہائی کامیاب کوشش اس وجہ سے ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے نہ کہ ایران۔"

اس کے بعد اس نے اپنی معمول کی خیالی باتیں دہراتے ہوئے لکھا کہ ایران کی فوج شکست خوردہ ہے اور ان کی معیشت گڈمڈ ہے۔

اس سے کچھ گھنٹے پہلے بھی اس نے فخر آمیز لہجے میں دعویٰ کیا تھا کہ ریاستہائے متحدہ "ایران کا کروڑوں بیرل تیل" قبضے میں لے رہا ہے!

اس نے کہا: "آج پہلی بار ہے کہ میں اعلان کر رہا ہوں۔ ہم کروڑوں بیرل تیل پر قبضہ کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے تیل کے ہر بیرل کی قیمت 250 ڈالر کے بجائے 85 سے 90 ڈالر ہے۔ ایران اب تک یہ نہیں جانتا تھا۔"

ان دعوؤں کے چند گھنٹے بعد امریکی وزیر توانائی نے کہا: "میں ایران کے کروڑوں بیرل تیل کی ضبطی کے کسی آپریشن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔"

امریکی میڈیا کی فیکٹ چیکنگ سے پتہ چلتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتظامیہ کی پالیسیوں کے حوالے سے کامیابیاں پیش کرنے کے لئے جو دعوے کرتا ہے ان کا عام طور پر حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، وہ بڑھاپے کی اس عمر میں تقریبا 12 گھنٹے سوتا ہے اور اٹھتے ہی لکھنے لگتا ہے اور جو کچھ اس نے اپنے خیالات اور سپنوں میں settle کیا ہوتا ہے ان ہی کو حقیقت سمجھ کر لکھ ڈالتا ہے۔

مثال کے طور پر، اس نے کئی بیانات میں کہا ہے کہ اس نے 8 یا 9 ناقابل حل جنگیں ختم کر دی ہیں، جبکہ ان میں سے بعض تنازعات، جیسے ڈیموکریٹک جمہوریہ کانگو اور روانڈا کے درمیان جنگیں، اب بھی فعال جنگیں تصور کی جاتی ہیں، ان میں سے بعض کبھی سنگین فوجی تنازع تھے ہی نہیں،  اور بعض جنگیں چھیڑنے میں اس کا اپنا کردار ہے۔ غزہ کی جنگ بدستور جاری ہے، لبنان کی جنگ بدستور جاری ہے، ایران پر اس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر دو بار جنگیں مسلط کی ہیں، وغیرہ۔۔۔

دوسرے دعوے جو ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں سرمایہ کاری کے اعداد و شمار، افراط زر کی شرح، پٹرول کی قیمت یا ملازمتوں کی شرح کے بارے میں کئے ہیں، وہ بھی غلط نکلے ہیں اور اندرون ملک ہی سے ان پر سوال اٹھائے جا چکے ہیں۔

پچھلے مہینے ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے جہازوں اور تیل کے ٹینکروں کی آمدورفت کی حمایت کے دعوے کے ساتھ "پروجیکٹ فریڈم" کے نام سے ایک آپریشن شروع کیا تھا جو ناکام ہو گیا اور یہ پروجیکٹ اپنے آغاز کے اعلان کے صرف 36 گھنٹے بعد روک دیا گیا دوبارہ شروع کرنے کے وعدےکے ساتھ جس کے دوبارہ آغاز کا گویا انتظار ہے۔ بلومبرگ نیوز نیٹ ورک نے رپورٹ دی تھی کہ بہت سی شپنگ کمپنیاں کہہ رہی ہیں کہ وہ صرف ٹرمپ کے بیانات پر بھروسہ کرکے آبنائے ہرمز سے گذرنے کو تیار نہیں ہیں بلکہ ان کو ایران کی منظوری درکار ہے۔

ان کمپنیوں نے اعلان کیا تھا کہ ایران، آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کے کسی بھی معاہدے کا حصہ ہونا چاہئے۔

۔۔۔۔

مذکورہ ٹرمپیات پر کچھ نکات:

مسٹر ٹرمپ پھر بھی خیالی پلاؤ پکا رہا ہے اور توہمات کی دنیا سے پیغامات لکھ رہا ہے؛ اگر اس کے یہ دعوے درست سمجھ لئے جائیں جن پر وہ فخر بھی کرتا ہے، تو ایک بڑی طاقت ایک ملک پر قبضے اور اس کی حکومت بدلنے اور اس کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کے نعرے سے گر گر تیل چوری پر اتر آیا ہے۔ لیکن لگتا نہیں ہے کہ وہ حقیقی دنیا کی بات کر رہا ہو۔ دو سو جہازوں کو آبنائے ہرمز سے نکالنا اور دو ہفتے بعد اس کا اعلان کرنا، ایران کا کروڑوں بیرل تیل چرانے اور ایران کی لاعلمی کا دعوی کرنا، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر اس چوری کے اثرات کا دعوی کرنا وغیرہ وغیرہ۔۔۔

واہ بھئی واہ، یہ وجہ بھی ہے، کہ تجزیہ کار اس ملک کے حتمی زوال کی بات کر تے ہیں جس کا صدر یہ ہو! اگر اس رپورٹ کو کو عنوان دینا ہو تو یقینا اس کا عنوان ہوگا "امریکی سلطنت کا حتمی زوال"۔

ٹرمپ نے سینکڑوں مرتبہ 8 یا 9 ناقابل حل جنگیں ختم کرنے کے دعوے کئے ہیں، جبکہ ان میں سے بعض تنازعات، جیسے ڈیموکریٹک جمہوریہ کانگو اور روانڈا کے درمیان جنگیں، اب بھی فعال جنگیں تصور کی جاتی ہیں، ان میں سے بعض کبھی سنگین فوجی تنازع تھے ہی نہیں،  اور بعض جنگیں چھیڑنے میں اس کا اپنا کردار ہے۔ غزہ کی جنگ بدستور جاری ہے، لبنان کی جنگ بدستور جاری ہے، ایران پر اس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر دو بار جنگیں مسلط کی ہیں، وغیرہ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha