21 جون 2026 - 22:26
حصۂ دوئم ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ؛ تسدید (Deterrence) کی نئی تعریف

 لبنانی لکھاری اور اسرائیلی امور کے تجزیہ کار 'علی حیدر' کہتے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، ہر ایک فریق کی حقیقی طاقت کی حدود کا تعین کرنے کے لئے تزویراتی امتحان تھی، اپنے مقابلے میں، حریف کے مقابلے میں اور علاقائی و بین الاقوامی ماحول کے مقابلے میں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ لبنانی لکھاری اور اسرائیلی امور کے تجزیہ کار 'علی حیدر' نے لبنانی روزنامے 'الاخبار' میں شائع ہونے والی ایک تحریر میں لکھا:

حصۂ دوئم:

آبنائے ہرمز؛ امریکہ اور دنیا کے لئے جنگ کا اہم ترین اسٹراٹیجک سبق

اس دوران "آبنائے ہرمز" پر کنٹرول اس جنگ کے اہم ترین اسٹراٹیجک اسباق میں سے ایک کے طور پر ابھرا؛ ایک ایسا سبق جو امریکی اور بین الاقوامی شعور پر گہرا نقش چھوڑے گا اور ایران کی اپنی قومی سلامتی کو عالمی معیشت کی حفاظت سے جوڑنے کی دائمی صلاحیت کو مستحکم کرے گا۔

لیکن شاید اس عمل اور اس جنگ کے نتائج کا سب سے اہم مفہوم دوسری علاقائی فریقوں، اور ان میں سرفہرست اسرائیل، کے مقابلے میں ایران کی قوت کی اہم بنیادی علاقائی حدود ہیں۔

ایران کے بارے میں اسرائیلی تصور ٹوٹ گیا

28 فروری (2026ع‍) سے قبل، اسرائیل کے سیاسی اور سیکورٹی اداروں میں یہ تصور عام تھا کہ تہران اور محور مقاومت (محاذ مزآحمت) پر شدید فوجی دباؤ، ممکنہ طور پر تل ابیب کے حق میں بڑی اور شاید تاریخی اسٹراٹیجک تبدیلیوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ لیکن اس تاریخ کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ ایران کا تختہ الٹ دینا، یا اسے علاقائی کھاتوں سے نکال باہر کرنا، یا اس کو تزویراتی طور پر سرتسلیم خم کرنے پر مجبور کرنا، کوئی حقیقت پسندانہ ہدف نہیں ہے؛ چاہے اس جنگ میں امریکہ کی براہ راست فوجی طاقت بھی شریک کیوں نہ ہو۔

جنگ کی وجہ سے اسرائیل کی مبینہ 'قومی سلامتی' کودرپیش پانچ خطرناک اثرات

ان حقائق اور اعداد و شمار کے سائے میں، اسرائیل کی داخلی سلامتی کے لئے پانچ خطرناک اثرات کا ذکر کیا جا سکتا ہے جو درج ذیل ہیں:

1: "اسٹریٹجک یقینیت" کے امکان کا زوالِ:

ان بنیادی ستونوں میں سے ایک ـ جن پر تاریخی طور پر اسرائیل کا سکیورٹی عقیدہ قائم رہا ہے، ـ دشمنوں کے مقابلے میں حتمی اور آخری فتح کے امکان پر یقین ہے۔ لیکن اس جنگ نے اس تصور کو تقویت دی کہ ایران ایک ایسا دشمن ہے جس پر حتمی فتح یا اسے علاقائی قواعد اور فارمولوں سے خارج کرنا بالکل ناممکن ہے؛ جس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل خود کو مجبور پا سکتا ہے کہ وہ ایران کے خاتمے یا اسے کھیل سے باہر کرنے کے لمحے کا انتظار کرنے کے بجائے، ایک مستقل اور مؤثر اور پیشرو ملک اور نظام حکومت کے طور پر، اسلامی جمہوریہ کے وجود کے ساتھ سمجھوتہ کر لے!

2: "ایران کی تسدید" (Iranian Deterrence) کے تصور کی توسیع: اگر اسرائیل روایتی طور پر تسدید کو میزائلوں اور فوجی قوتوں کے زاویئے سے دیکھتا تھا، تو اس جنگ نے اسے پڑھا دیا کہ ایران کی تسدید "کثیر پرتوں پر مشتمل"(Multilayered Deterrence) تسدید بن چکی ہے۔ یہ تسدید ایران کی سرزمین سے شروع ہوتی ہے اور لبنان اور محور مقاومت کے دیگر میدانوں سے گذرتی ہے اور عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین‌الاقوامی معیشت کے تحفظ تک پھیلی ہوئی ہے۔ بایں معنی، مستقبل میں ایران کے ساتھ کوئی بھی تصادم، ایسے اخراجات کا تقاضا کرتا ہے جو براہِ راست فوجی محاذ کی حدود سے کہیں زیادہ ہیں: کسی بھی جارح کے لئے ناقابل برداشت۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محترمہ فتانہ غلامی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha