بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ہاآرتص اخبار کے مطابق، اسرائیل نے قطر اور سعودی عرب کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود، دوحہ اور ریاض کے ساتھ پس پردہ تعلقات برقرار کر رکھے ہیں جن میں میزائل دفاعی نظام اور جدید ایف-15 جنگی طیاروں کے لئے جنگی ہیلمٹ کی برآمدات بھی شامل ہیں۔
حصۂ دوئم:
پیش کردہ رپورٹوں کے مطابق، البیت کی دو ذیلی کمپنیوں یعنی "البیت امریکہ" اور "سائیکلون" کو قطر کے ساتھ معاہدے کے تحت مصنوعات کا ایک حصہ فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
"کولنز ایل بٹ ویژن سسٹمز (Collins Elbit Vision Systems)" نے بھی آر ٹی ایکس (RTX) کمپنی کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری میں جدید جنگی ہیلمٹ JHMCS تیار کرنے کا عہد کیا ہے۔
یہ ہیلمٹ پرواز کی معلومات کو ہیلمٹ کے ڈسپلے (ویزر) پر منعکس کرتا ہے اور پائلٹ کو ہدف پر توجہ مرکوز کرنے اور اس کی طرف میزائل یا بم فائر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ البیت نے قطر کے ایف-15 پروگرام کے لئے ایک اور اہم جزو کے طور پر AN/AVS-9 نائٹ ویژن عینک بھی فراہم کئے ہیں۔
ہاآرتص کی رپورٹ کے مطابق، سرکاری دستاویزات اور تصاویر یہ بھی آشکار کرتی ہیں کہ سعودی عرب بھی اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کا بالواسطہ خریدار ہے۔
سعودی عرب نے پچھلی دہائی میں بوئنگ کے ساتھ ایک بڑے معاہدے کے تحت درجنوں جدید ایف-15 جنگی طیارے حاصل کئے ہیں۔ ان طیاروں کی فراہمی کے معاہدوں میں کچھ جگہوں پر اسرائیلی کمپنیوں بشمول "کولنز البیت وژن سسٹمز" اور "سائیکلون" کا نام لیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ جنگ نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن اور ریاض کے درمیان معاہدے میں 462 جدید JHMCS جنگی ہیلمٹ (اسرائیلی کمپنی البیت کی مصنوعات) اور 462 AN/AVS-9 نائٹ ویژن عینک – جو قطر کو فروخت کردہ ماڈلز سے ملتے جلتے ہیں ـ کی فراہمی شامل تھی۔ سوشل میڈیا پر جاری کردہ تصاویر بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ یہ ہیلمٹ سعودی جنگی پائلٹس کے زیر استعمال ہیں۔
ان معلومات کی بنیاد پر، اندازہ لگایا گیا ہے کہ البیت کا ہر JHMCS ہیلمٹ تقریباً دو لاکھ ڈالر لاگت آتی ہے؛ لہٰذا صرف سعودی عرب کو فروخت کردہ اسرائیلی مصنوعات کا تخمینہ تقریباً 100 ملین ڈالر ہے۔ قطر نے بھی علیحدہ طور پر 35 ملین ڈالر کے معاہدے میں اس ماڈل کے 160ہیلمٹ خرید لئے ہیں۔
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ