22 جون 2026 - 02:05
حصۂ سوئم ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ؛ تسدید (Deterrence) کی نئی تعریف

 لبنانی لکھاری اور اسرائیلی امور کے تجزیہ کار 'علی حیدر' کہتے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، ہر ایک فریق کی حقیقی طاقت کی حدود کا تعین کرنے کے لئے تزویراتی امتحان تھی، اپنے مقابلے میں، حریف کے مقابلے میں اور علاقائی و بین الاقوامی ماحول کے مقابلے میں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ لبنانی لکھاری اور اسرائیلی امور کے تجزیہ کار 'علی حیدر' نے لبنانی روزنامے 'الاخبار' میں شائع ہونے والی ایک تحریر میں لکھا:

حصۂ سوئم:

3: "منسلک محاذوں کی علیحدگی" کا مفروضہ شکست کھا گیا:

ایران [مقاومت کے] "مختلف محاذوں کے درمیان پیوستگی" کا تصور مستحکم کرنے میں کامیاب رہا۔ خلیج فارس کی سلامتی، بحری جہازرانی کی سلامتی، لبنان کی صورت حال، [علی حیدر کے بقول] اسرائیل کی سلامتی اور دیگر معاملات؛ یہ سب وہ مسائل ہیں جنہیں مزید ایک دوسرے سے الگ نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ موضوع اسرائیل کے سکیورٹی ماحول کو مزید پیچیدہ کرے گا، کیونکہ ان میدانوں میں سے کسی میں بھی کوئی بحران، ایک کثیر المحاذ (Multi front) اور کثیر الجہت بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے اور وہ مزید کسی قسم کی من مانی نہیں کر سکے گا اور اگر کرنا چاہے تو اس کا عملی مؤاخذہ ہوگا۔

4: "غیر فوجی طاقت کے کارڈز" کی قدر میں اضافہ:

اس جنگ نے واضح کیا کہ معاشی اور جغرافیائی-سیاسی دباؤ کے کارڈز، بعض اوقات براہِ راست فوجی طاقت سے زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔ اسرائیل کے نقطہ نظر سے، یہ ایک بڑا چیلنج ہے؛ خاص طور پر اس لئے کہ اسرائیل اگرچہ [بزعم خود] واضح فوجی برتری رکھتا ہے، لیکن وہ پتے اور کارڈز جو ایران کے پاس عالمی توانائی کے شعبے یا اسٹراٹیجک بحری گذرگاہوں کے حوالے سے موجود ہیں، وہ اس کے پاس نہیں ہیں گوکہ اس کے پاس دشمن کو اپنی جگہ بٹھانے کے لئے ہتھیاروں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے اور جنگ کے بعد اس کی فوجی صلاحیتوں میں ـ کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے ـ قابل قدر اضافہ ہؤا ہے۔

5: اتحادیوں اور دشمنوں کا "اسرائیلی طاقت کی تصویر" کا از سرِ نو جائزہ:

جس طرح اس جنگ نے امریکہ کی طاقت کی تصویر کی ازسرِ نو تعریف کی، اسی طرح اس نے اسرائیل کی طاقت کی  بھی نئی تصویر پیش کی ہے۔ اتحادیوں اور دشمنوں، ـ دونوں، ـ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ "اپنے دشمنوں کے مقابلے میں طویل مدتی اسٹراٹیجک حقائق کو مستحکم کرنے میں اسرائیل کی صلاحیت" کے سلسلے میں اپنے سابقہ مفروضات پر نظرثانی کریں۔ البتہ اس کا مطلب اسرائیل کی فوجی طاقت کا قطعی زوال نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ "اس کی فوجی طاقت فیصلہ کن سیاسی تبدیلیوں میں پر منتج نہیں ہوتی" اور وہ مزید اپنے تحفظ کے لئے ایک اٹل قاعدہ مسلط کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔

اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محترمہ فتانہ غلامی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha