بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کونسل آن فارن ریلیشنز تھنک ٹینک کے قلمکار اور تجزیہ کار، اسٹیون کوک نے "وقت آ گیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ مشرق وسطیٰ چھوڑ دے (یا 'امریکہ خلیج فارس سے بھاگنے پر مجبور کیوں ہے؟')" کے عنوان سے ایک مضمون میں، ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی کارروائی کو اسٹراٹیجک کامیابی سے عاری قرار دیا اور لکھا کہ اس جنگ کا اصل نتیجہ خطے میں امریکہ کی پوزیشن کا استحکام نہیں، بلکہ نتیجہ مشرق وسطیٰ سے واشنگٹن کے بتدریج انخلا کے عمل کی تقویت ہے۔
حصۂ دوئم:
ایران کے مقابلے میں امریکہ کی شکست، خطے سے امریکی انخلا کو تیزتر کر دے گی
- ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ایران نے مفاہمت نامے میں مندرجہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہ کیا تو امریکہ "مشرق وسطیٰ کے نگہبان" کا کردار ادا کرے گا۔ لیکن
- یہ دعویٰ اس بات کا اشارہ نہیں ہے کہ امریکہ کا عزم و عہد قائم و دائم ہے، بلکہ یہ یک مختلف حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے؛ اور وہ یہ کہ
- امریکہ کی یہ شکست خطے سے اس ملک کے انخلا کو تیزتر کر سکتی ہے۔
- یہ امکان محض ٹرمپ کے فیصلے تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ
- کانگریس کے بہت سے اراکین، صدارت کے ممکنہ امیدوار، سرکاری اہلکار اور یہاں تک کہ مستقبل میں اقتدار کے ڈھانچے میں داخل ہونے کا ارادہ رکھنے والے لوگ، اب مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی موجودگی جاری رکھنے کے بھاری سیاسی، مالی اور فوجی اخراجات برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوں گے۔
- سنہ 1960 اور سنہ 1970 کی دہائی کے اوائل، میں خلیج فارس سے برطانیہ کا انخلا ایک اہم مثال ہے۔ -
- جنوری 1968 میں، اس وقت کے برطانوی وزیراعظم ہیرالڈ ولسن (Harold Wilson)، نے اعلان کیا کہ لندن اپنی افواج کو خلیج فارس سے نکال لے گا؛ کیونکہ اس کے پاس اپنی عالمی سلطنت کی باقیات اور خطے میں موجود اپنے اڈے قائم رکھنے کی مالی صلاحیت نہیں رہی تھی۔
- امریکی صدر لنڈن بی جانسن (Lyndon Baines Johnson) کی انتظامیہ نے برطانیہ کو اس فیصلے سے روکنے کی کوشش کی، لیکن کامیاب نہ ہو سکی۔
- دسمبر سنہ 1971 میں "سوئز کے مشرق" کے علاقوں سے برطانیہ کا انخلا مکمل ہؤا اور اس کے بعد، واشنگٹن نے بتدریج خطے میں لندن کی خالی جگہ پر کر دی۔
پچھلے 35 سالہ ناکام امریکی کارکردگی اور اس کی بھاری قیمت عیاں ہو گئی
- ریاستہائے متحدہ ابتدا میں مشرق وسطیٰ کی خشکی میں وسیع پیمانے پر داخلے سے گریز کرتا تھا؛ اور
- اس نے بحر ہند میں طیارہ بردار جہازوں کی متواتر روانگی اور بحرین میں ایک محدود بحری اڈہ قائم کرکے اپنی موجودگی کا اظہار کیا؛ لیکن یہ
- [امریکہ] اگست سنہ 1990 میں کویت پر صدام حسین کے حملے تک، عملی طور پر خطے میں ایک مستقل اور مقیم قوت نہیں بنا تھا۔
- آپریشن "ڈيزرٹ شیلڈ (Desert Shield)" اور "ڈیزرٹ اسٹارم (Desert Storm) کا زمانہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت اور اثر و رسوخ کے عروج کا زمانہ تھا [لیکن ان کاروائیوں میں پوری دنیا اس کے ساتھ تھی جبکہ ایران جنگ میں کسی نے بھی امریکہ سے آملنے کی جرات نہیں کی] بہر حال
- [عراق جنگ] کا دور دور اب ماضی کا قصہ بن گئی ہے اور اسے مستقبل کے لئے نمونۂ عمل نہیں سمجھا جا سکتا۔
- مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی 35 سالہ کارکردگی بالکل بے کار اور ناکام رہی۔
- واشنگٹن نے اس دوران ایک فلسطینی ریاست قائم کرنے، عراقی معاشرے کی تعمیر نو اور تبدیلی کرنے اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کو جمہوریت کی طرف لے جانے کے نعرے لگآئے لیکن حقیقت حال ہمارے سامنے ہے۔
- ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ کو بھی انہی ناکامیوں کے تسلسل میں دیکھانا چاہئے؛
- ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ ایک اور جوا بازی تھی جس نے نہ صرف اسٹراٹیجک فتح حاصل نہیں کی، بلکہ خطے میں امریکہ کی موجودگی کے اخراجات اور نقصانات کو مزید نمایاں کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: رضا حسینی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ