26 جون 2026 - 21:28
حصۂ دوئم | امریکہ کے عرب اتحادیوں کے درمیان ایران کے ساتھ مصالحت کی دوڑ +  تصاویر

سی این این نیٹ ورک نے ایران پر مسلط کردہ امریکی جنگ کے اثرات پر ایک مفصل رپورٹ میں خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی امریکہ پر 'بڑھتی ہوئی بد اعتمادی' پر گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس بداعتمادی نے خلیج فارس کے خطے میں امریکہ کی علاقائی عرب ریاستوں کو ایران کے ساتھ طویل مدتی مفاہمت و مصالحت کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سی این این کے مطابق، 'اس جنگ نے خلیجی رہنماؤں کو مجبور کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ طویل مدتی مفاہمت کے بارے میں زیادہ سنجیدگی سے سوچیں۔'

سی این این نے لکھا:

حصۂ دوئم:

- بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز (IISS) کے سینئر رکن حسن الحسن کا کہنا ہے کہ: "خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے نقطہ نظر سے، ایران کی خلاف جنگ علاقائی سلامتی کے نظام کے لئے ایک تباہ کن موڑ ہے۔ خلیج فارس سے امریکہ کا انخلا اور ایران کی طرف مالی اور اقتصادی وسائل کا بہاؤ ممکنہ طور پر تہران کو مزید دلیر کرے گا۔"

حصۂ دوئم | امریکہ کے عرب اتحادیوں کے درمیان ایران کے ساتھ مصالحت کی دوڑ +  تصاویر

- الحسن نے کہا: "اس کے باوجود، خلیج فارس کی عرب ریاستوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو سہولت فراہم کی اور اس کی حمایت کی؛ کیونکہ ان کے لئے اب بھی، ایک برا معاہدہ [بھی]، جنگ سے بہتر ہے۔"

۔ روبیو نے امارات، بحرین اور کویت کا دورہ کیا؛ خلیج فارس کی یہ تین ریاستیں جنگ کے دوران ایران کے سب سے زیادہ حملوں کا شکار ہوئے اور ممکنہ طور پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے عمل کے بارے میں سب سے زیادہ مایوس بھی یہی تین ریاستیں ہیں۔ [واضح رہے کہ ایرانی حملوں میں ان ریاستوں کو نہیں بلکہ ان میں موجود امریکی مفادات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا]۔

حصۂ دوئم | امریکہ کے عرب اتحادیوں کے درمیان ایران کے ساتھ مصالحت کی دوڑ +  تصاویر

- 'خلیج فارس کی ریاستوں نے سنہ 2015ع‍ میں [اسرائیل کے ساتھ ہم صدا ہوکر] ایران کے جوہری معاہدے (JCPOA) کی مخالفت کی اور جب ٹرمپ نے 2018 میں اسے پھاڑ دیا، تو انہوں نے [اسرائیل کی مانند] اس کا خیرمقدم کیا کیونکہ یہ ان کے خدشات کو دور نہیں کرتا تھا۔ امریکہ اور ایران کا ابھرتا ہؤا نیا معاہدہ ممکنہ طور پر خلیجی دارالحکومتوں میں مزید خدشات پیدا کرے گا، نہ صرف اس لئے کہ یہ ان میں سے بہت سے خدشات کو حل نہیں کرتا، بلکہ اس لئے کہ یہ معاہدہ اس چیز کے موقع پر سامنے آ رہا ہے جس کو الحسن نے "امریکہ پر ان ریاستوں کے اعتماد کو وسیع پیمانے پر پہنچنے والے نقصان" کے طور پر بیان کیا۔

- ایک سینئر خلیجی سفارت کار نے کہا کہ اس جنگ نے واضح کیا کہ: "ایران کے پاس خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنانے کا مکمل طور پر ترقی یافتہ منصوبہ موجود تھا۔"

حصۂ دوئم | امریکہ کے عرب اتحادیوں کے درمیان ایران کے ساتھ مصالحت کی دوڑ +  تصاویر

سی این این نے دعویٰ کیا کہ:

"یہ معاہدہ (امریکہ اور ایران کا باہمی مفاہمت نامہ) تہران کو عمان کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی ٹریفک کی نگرانی میں رسمی کردار دیتا ہے؛ جس کا مطلب یہ ہے کہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی سمندری تجارت کا بڑا حصہ اور خاص طور پر ان کی توانائی کی برآمدات ایران کی نگرانی میں ہونگی۔ یہ معاہدہ ایران کے میزائل پروگرام اور [اور سی این این کے بقول] اس کے پراکسی نیم فوجی گروپوں کے نیٹ ورک کے مسئلے کو بھی ہاتھ نہیں لگاتا۔"

سی این این کی رپورٹ میں امریکہ اور ایران کے مفاہمت نامہ کی بعض شقوں کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے:

- اس معاہدے میں خلیج فارس کی ریاستوں کی شمولیت بھی ضروری ہے کیونکہ اس میں ایران کے لئے 300 ارب ڈالر کا تعمیر نو فنڈ شامل ہے۔ ٹرمپ نے اس اقدام کے لئے خلیجی ریاستوں [کی طرف] کی مالی اعانت کا عہد کیا ہے! لیکن اس بات کے شواہد کم ہیں کہ ان ریاستوں نے بھی ایسا ہی وعدہ دیا ہو! سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس کے پاس اس تجویز کے بارے میں "تفصیلات بالکل نہیں" ہیں، جبکہ قطر نے باضابطہ طور پر دستخط کئے بغیر ٹرمپ کے اس عہد پر عملدرآمد کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

حصۂ دوئم | امریکہ کے عرب اتحادیوں کے درمیان ایران کے ساتھ مصالحت کی دوڑ +  تصاویر

سی این این کی اس رپورٹ میں، واشنگٹن کے عرب اتحادیوں کے موقف پر ایران پر مسلط کردہ امریکی-اسرائیلی کے منفی اثرات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے:

- خلیج فارس کی ریاستیں تسلیم کرتی ہیں کہ فی الحال، ان کے پاس، بنیادی سیکیورٹی پارٹنر کے طور پر، امریکہ کے کم ہی متبادل موجود ہیں۔ حتیٰ، اگرچہ امریکہ کا سیکیورٹی کردار کم ہو رہا ہے، خطے کی ریاستوں کے ساتھ اس کی اقتصادی شراکت داری اب بھی مضبوط ہے اور متحدہ عرب امارات جیسی ریاستوں نے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو "دو گنا" کرنے کا عہد کیا ہے۔

کچھ خلیجی ریاستیں اس وقت اپنی فوجی خریداری کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہی ہیں، اور خاص طور پر ہتھیار فراہم کرنے والے متبادل کے طور پر ترکی سے رجوع کر رہے ہیں۔

- خلیج فارس کے جنوبی علاقے کے ایک سینئر سفارت کار نے، مفاہمت نامے پر واشنگٹن اور تہران کے دستخطوں سے قبل  سی این این کو بتایا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ جنگ کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ خلیج فارس کی ریاستوں کے تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی؛ منجملہ یہ کہ واضح نہیں ہے کہ کیا یہ تعلقات زیادہ رسمی سیکیورٹی انتظامات میں تبدیل ہو جائیں گے جو واشنگٹن کو خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں، مداخلت کا پابند بنائیں گے یا نہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مهدی عباس زادہ

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha