بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایران نے اردن میں ایک اہم اڈے پر میزائل حملہ کیا اور ٹرمپ ناراض اور بے چین ہو گیا؛ بولا: "ہمیں اس حملے کی توقع نہ تھی"، اور ہمیشہ کی طرح دھمکیاں دیں اور شیخیوں کا سہار لیا کہ وہ کیا کرے گیا اور کیا نہیں کرے گا، جو بہرحال معمول کے مطابق، غیر اہم باتیں تھیں۔
لیکن کیوں؟
پہلے دیکھتے ہیں کہ یہ اڈا کتنی اہمیت رکھتا ہے؟
یہ اڈا یعنی موفق السلطی، اردن، شام اور عراق کے درمیان، تزویراتی لحاظ سے اہم مقام پر واقع ہے، جو پورے خطے میں امریکی انٹیلیجنس نگرانی اور فضائی کارروائیوں کا مرکز ہے۔
موفق السلطی، ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی فرنٹ لائن ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ دفاعی ڈھال کا ایک اہم حصہ ہے۔
یہ اڈہ "ایم کیو 9" ڈرونز، "ایف 15" اور "ایف 16" جنگی طیاروں، "ایف 35" اور "اے 10" حملہ آور طیاروں کی تعیناتی کا مرکز ہے اور امریکی جاسوسی اور فضائی معاونت کے بھاری بنیادی ڈھانچے کا گڑھ ہے۔
لیکن موفق السلطی کی اہمیت اس سے بھی زیادہ ہے۔
قطر کے العدید اڈے کے کمزور پڑنے اور وسیع سطح پر تباہی کے بعد، امریکہ نے موفق السلطی کو، ایران سے زیادہ فاصلے اور بیک وقت عراق، شام اور مقبوضہ فلسطین تک رسائی کی وجہ سے، اپنی کمان اور فضائی کارروائیوں کا زیادہ محفوظ مرکز بنا لیا۔
ایران نے بالکل اسی امریکی تصور کو نشانہ بنایا۔
لیکن خود ہدف سے بھی زیادہ اہم، حملے کا وقت تھا۔
امریکہ کا خیال تھا کہ وہ یکطرفہ طور پر جنگ اور خاموشی [نام نہاد جنگ بندی] کا وقت طے کر سکتا ہے؛ جب چاہے حملہ کرے اور جب اسے رک کر اپنی طاقت کی تجدید کی ضرورت پڑے تو کارروائی روک دے اور اسے مذاکرات کا موقع قرار دے اور سفارتکاری کو موقع دینے کے نعرے لگا دے!
ایران نے اس استکباری قاعدے کو توڑ دیا۔
حملے کا پیغام واضح تھا:
- امریکہ ـ مزید ـ اکیلے تنازع کے شروع اور اختتام کا وقت طے نہیں کرتا
- جنگ بندی، ـ مزید ـ دشمن کے لئے نئی صف بندی کا محفوظ موقع نہیں بنے گی
- جغرافیائی گہرائی (اور وہ بھی امریکہ سے ہزاروں کلومیٹر دور اور وہ بھی مغربی ایشیا میں)، امریکی اڈوں کو محفوظ نہیں بناتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محسن مہدیا
ترتیب و ترجمہ:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ