31 جولائی 2026 - 01:45
ایران تاریخ سازی کی دہلیز پر؛ ٹرمپ کے پاس بس صرف 'ایک'  راستہ باقی ہے – 5

ٹرمپ کو دو شکستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا / ٹرمپ کو صہیونیوں نے ایسی جنگ میں پھنسایا ہے جس میں جیت ناممکن ہے / ٹرمپ حتیٰ کہ ایک جنگ کا انتظام کرنے سے بھی قاصر و عاجز ہے، جنگ جیتنا تو دور کی بات ہے / ٹرمپ نے "اب تک کی کسی بھی چیز سے بڑا، زبردست حملہ" کرنے کی دھمکی دی اس کا فیصلہ حملے میں تبدیل نہ ہو سکا / پینٹاگون نے مئی سے جولائی تک تقریباً 160 ملین بیرل مصنوعات (تقطیر شدہ خام تیل اور جیٹ ایندھن) بیرون ملک بھیج کر خرچ کر دیں! / ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ کیا: "ہم ان [ایرانیوں] سے بات چیت کر رہے ہیں۔" لیکن ایران نے ٹرمپ حکومت کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کو واضح طور پر مسترد کر دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛

پانچویں قسط:

علاوہ ازیں، [محمد باقر] قالیباف کے ایک قریبی ذریعے کا اندازہ ہے کہ پچھلے 15 گھنٹے کی آپریشنل خاموشی، حملوں میں شدت لانے کی ایک تمہید ہے نہ کہ مذاکرات کے لئے ایک نئی کوشش؛ جبکہ امریکی فوج ابھی بھی بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں میں واپسی کے منصوبے بنا رہی ہے۔"

یہ وہ قیمت ہے جو ٹرمپ حکومت صدر کے اس اصرار پر ادا کرنا پڑ رہی ہے کہ نیویارک کے دو ٹھگ (ایک ٹرمپ کا ریئل اسٹیٹ ڈیلنگ کے زمانے کا دوست اسٹیو وٹکاف [Steve Witkoff] اور ایک اس کا داماد اور وہ بھی اسی شعبے کا سرگرم شخص جیرڈ کشنر [Jared Kushner]) ایران، روس، اور کسی بھی اور فریق کے ساتھ سفارتی مذاکرات کرنے کے اہل قرار پائے ہیں!

"میں ہمیشہ جانتا تھا کہ ٹرمپ کی طرف سے پیشہ ور ماہرین کے بارے میں گھٹیا اور توہین آمیز تصور، اور سیاست کے بارے میں کم از کم اور بالکل ابتدائی سمجھ بوجھ ایک دن امریکہ کو بڑی قیمت ادا کرنے پر مجبور کرے گی؛ اور آج امریکہ کو وہ بڑی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

▬ ٹرمپ حتیٰ کہ ایک جنگ کا انتظام کرنے سے بھی قاصر و عاجز ہے، 'جنگ جیتنا' تو دور کی بات ہے۔ دشمن ان سے بات چیت کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ ٹرمپ پھنس گیا ہے بری طرح۔ وہ صہیونی ریاست کے ساتھ بھی، پھنس گیا ہے۔ نیتن یاہو کے ساتھ ٹرمپ کی تازہ ترین ملاقات کے قریب آتے ہی، قیاس آرائیاں تھیں کہ اسرائیلی وزیراعظم 'ہمیشہ تَغَيُر پَذير (Alterable)' قابل 'ٹرمپ' کو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کرے گا اور اسرائیلی بھی دوبارہ اس جنگ میں شامل ہو جائیں گے۔ لیکن ٹرمپ نے جمعہ کی رات اپنی پسپائی کے ذریعے نیتن یاہو کی اس سوچ پر سبقت لے لی۔ (اس پسپائی کا وقت، یقینی طور پر منگل کو نیتن یاہو کی آمد سے پہلے ہی، اس کی سوچ پر سبقت لینے کے لئے، متعین کیا گیا تھا)۔

ٹرمپ کو "زو" (جیسا کہ نیویارک پوسٹ، خوشی خوشی، نیویارک کے میئر کو پکارتا ہے) کی بات سننا چاہئے تھا اور جب نیتن یاہو نے، منگل کو، وائٹ ہاؤس کے پورچ پر قدم رکھا، تو اسے گرفتار کر لینا چاہئے تھا۔ لیکن اس وقت، ایسا لگتا ہے کہ حکومت، صہیونیوں کے ساتھ، ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ میرے خیال میں، یہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں ایک باریک موڑ ہوگا۔ [گوکہ ان کے اختلافات کو فی الحال بہت سنجیدہ لینا قبل از وقت ہے]۔

▬ ٹرمپ کیا کرے گا؟ یہ وہ سوال ہے جو ان دنوں بہت سے ذہنوں میں گھوم رہا ہے۔ مختصراً، ٹرمپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ اسے کیا کھونا چاہئے! اور پھر، اسے اس بات کی منصوبہ بندی کرنا چاہئے کہ وہ اس چیز کو کس طرح کھو دے گا؟

- یا تو ایک جنگ، ایک طرف سے، یا

- دوسری طرف سے، عالمی معیشت، امریکی ووٹرز اور وسط مدتی انتخابات۔

میرا فوری جواب: اگرچہ ٹرمپ کو کچھ کھونا پسند نہیں ہے، لیکن وہ [اگر اس مرحلے میں حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں تو] ایک ایسی جنگ ہارے گا جو ابھی تک علاقائی رہی ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ جنگ پھیلنے کے دہانے پر ہے۔

گذشتہ ہفتے سے، ایسا لگتا ہے کہ، وہ قبول کر نے لگا ہے کہ اس کے لئے یہ جنگ جیتنا ممکن نہیں ہے؛ کیونکہ وہ اب اسے جاری نہیں رکھ سکتا اور اسے جاری رکھنے کے معاشی نتائج، جلد ہی، قابو سے باہر ہو جائیں گے۔

ٹرمپ کی بڑی جنگ (اس کے اپنے ذہن میں، جہاں اس کے لئے تمام تر اہم واقعات رونما ہوتے ہیں) ایک "ورثہ" چھوڑنے کے لئے ہے جو اس کے خیال میں، رشمور پہاڑی (Mount Rushmore National Memorial) پر جگہ دیئے جانے کا مستحق ہے! یہ وہ جنگ ہے جو وہ اب شروع کرے گا۔ ایران کی جنگ میں شکست قبول کرنا ایک گندی اور بے ترتیب اور بگڑی ہوئی آلودگی، ہوگا جسے امریکی عوام اس کے لئے اس مقصد کے لئے نہیں پڑھ سکیں گے، جو اس کے لئے مد نظر رکھا گیا ہوگا، اور اسے کبھی شکست نہیں کہا جائے گا!

میرے خیال میں، ہم امریکہ کی طرف سے ایک کسی قسم کی "باعزت مصالحت" کے منتظر ہیں (جو فریق مقابل [ایران] کی فتح کا دوسرا نام ہے، جیسا کہ 1975 میں ویتنام کی فتح کے بعد وضع کی گئی تھی)۔

اس "باعزت مصالحت" کا وقت اور پیش کرنے کا طریقہ، ابھی تک واضح نہیں ہے، لیکن میں ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے کوئی دوسرا آپشن نہیں دیکھ رہا ہوں۔

یہاں ایک بڑا ثمره ہے جسے نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ اگر ٹرمپ، اس شاخ سے واپسی کا یہ راستہ منتخب کرتا ہے ـ جس پر وہ چڑھ کر بیٹھا ہے اور اس پر آری چلا رہا ہے، ـ تو جو نیا شگاف ااس وقت واشنگٹن اور صہیونی ریاست کے درمیان نمایاں ہؤا ہے ـ وہ بہت واضح طور پر وسیع تر ہو جائے گا۔

میں نے پہلے یہاں اور فلوٹسٹ پر استدلال کیا تھا کہ ٹرمپ ایران کے خلاف جارحیت جاری رکھے گا کیونکہ وہ مکمل طور پر اسرائیلیوں کی گرفت میں ہیں۔

ٹرمپ کے لئے، "اسرائیل، سب سے اوپر تھا" (جیسا کہ میں نے پہلے جنگ کے دوران کہا تھا)۔ لیکن اب، ایسا لگتا ہے کہ اس کے پاس مزید پاگل اور جنگ زدہ نیتن یاہو اور ان تمام دولت مند صہیونیوں کی اطاعت کرنے کا کوئی راستہ نہیں بچا، جن کی ٹرمپ نے اب تک خدمت کی ہے۔ اگر وہ انہیں دھوکہ دیتے ہیں (اور ایک کرسٹل بال یا اویجا بورڈ [Ouija Board Online] کے بغیر، میں توقع کرتا ہوں کہ وہ خالص ذاتی مفاد کی بنیاد پر ایسا کرے گا)، تو اس لمحے، ہم "تاریخ کی تعمیر" دیکھیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: حامد حاجی حیدری، فیکلٹی ممبر، تہران یونیورسٹی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha