30 جون 2026 - 23:36
ایک کتاب کا خلاصہ؛ ایران پر جارحیت کے ٹرمپی فیصلے کے پس پردہ عوامل- 4

کتاب "نظام کی تبدیلی" اس بات پر سے پردہ اٹھاتی ہے کہ ٹرمپ جنگ میں کیسے داخل ہؤا اور آشکار کرتی ہے کہ کس طرح اندرونِ حکومت مذاکرات، صدر کی جِبِلّتیں، اس کے اندرونی حلقے کے اختلافات اور وائٹ ہاؤس پر اس کے انتظام کے طریقے کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ کتاب گمنام رہنے کی کی شرط بات چیت کرنے کے لئے تیار ہونے والے افراد کے وسیع سطح پر مکالموں  کو اندرونی مباحثوں اور حساس امور کی تشریح کے لئے، بروئے کار لاتی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کتاب "نظام کی تبدیلی: ڈونلڈ ٹرمپ کی بادشاہانہ صدارت اندر سے" (Regime Change: Inside the Imperial Presidency of Donald Trump) ایک انکشافی کام ہے جو میگی ہیبرمین (Maggie Haberman) اور جوناتھن سوان (Jonathan Swan)، نیویارک ٹائمز کے نامور صحافیوں کی 1000 سے زائد انٹرویوز اور تین سالہ روداد نگاری کا نتیجہ ہے۔ یہ کتاب جو ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے صرف 17 ماہ بعد شائع ہوئی اور اسی پہلے دن ایک لاکھ 50 ہزار نسخے فروخت کرنے کا غیرمعمولی ریکارڈ قائم کیا، وائٹ ہاؤس میں اقتدار کے ڈھانچے کی تبدیلی اور اس کی ایک "شہنشاہی صدارت (Imperial Presidency)" اور لامحدودیت اور مطلق العنانیت کی طرف حرکت کی چونکا دینے والی اور بے‌پردہ تصویر پیش کرتی ہے۔

حصۂ چہارم:

ٹرمپ نے فوری طور پر اس جائزے کو پرکھا۔ اصل نکتہ یہ تھا کہ ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں اس کا فیصلہ نیتن یاہو کی پیشکش کے تیسرے اور چوتھے کے قابل حصول ہونے پر منحصر نہیں تھا۔

لگتا تھا کہ ٹرمپ اب بھی پہلے اور دوسرے حصے کی انجام دہی میں بہت دلچسپی رکھتا ہے: آیت‌اللہ اور ایران کے سینئر رہنماؤں کا قتل اور ایران کی فوج کا خاتمہ۔

جنرل کین کوئی سیاسی وفادار [اورسیاسی کردار] نہیں تھا اور اس کو ایران کے ساتھ جنگ کے بارے میں سنگین تحفظات تھے۔ لیکن وہ صدر ٹرمپ کو اپنی رائے پیش کرنے کے طریقے میں بہت محتاط تھا۔ [اور اس کے فیصلے کی مخالفت کرنے سے عاجز تھا]

جس طرح کہ ٹرمپ کے منصوبوں سے آگاہ مشیروں کے اس چھوٹے گروپ نے، اگلے دنوں میں ان کا جائزہ لیا، جنرل کین نے ٹرمپ اور دوسروں کو اپنی اس پریشان‌کن فوجی تشخیص سے آگاہ کیا کہ ایران کے خلاف ایک بڑی کارروائی، امریکی اسلحے کے ذخائر ـ بشمول انٹرسیپٹر میزائلوں کو، جو یوکرین اور اسرائیل کی برسوں کی حمایت کے بعد کافی کم ہو چکے تھے، ـ کو شدید قلت سے دوچار کر دے کی۔ جنرل کین کو ان ذخائر کو تیزی سے پُر کرنے کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔

کین نے آبنائے ہرمز کی حفاظت کو یقینی بنانے کی بڑی مشکل اور ایران کے ہاتھوں اس کی بندش کے خطرات کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ٹرمپ نے اس امکان کو اس مفروضے کی بنیاد پر مسترد کر دیا تھا کہ ایران کی حکومت اس مرحلے تک پہنچنے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دے گی!

ایسا لگتا تھا کہ صدر کو لگتا ہے کہ یہ ایک بہت تیز رفتار جنگ ہوگی اور بہت جلد ختم ہوگی اور مطلوبہ نتائج اس کی خواہش کے مطابق بہت جلد حاصل ہونگے - ایک ایسا تاثر جو جون میں ایران کے جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری کے کم ہی فیصلہ کن ردعمل، سے تقویت پا چکا تھا۔

ان تمام خارجہ پالیسی چیلنجوں میں ـ جن کا ٹرمپ کو صدارت کی دو مدتوں کے دوران سامنا کرنا پڑا ـ ایران کا ایک خاص مقام تھا۔ وہ ایران کو ایک منفرد اور خطرناک دشمن سمجھتا تھا اور رجیم چینج کی جنگ لڑنے یا جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت  روکنے کے لئے بڑے خطرات مول لینے کو تیار تھا۔

علاوہ ازیں، ایران کی مذہبی حکومت کے خاتمے کے بارے میں نیتن یاہو کی باتیں ٹرمپ کی خواہش سے ہم آہنگ تھیں جو 1979ع‍ میں، ـ جب ٹرمپ 32 سال کا تھا ـ اقتدار میں آئی تھی۔ اس وقت سے، یہ حکومت امریکہ کی_آنکھ میں کانٹا رہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیشکش: سید محمد حسین راجی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha