بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کل جمعرات کی صبح، دہشت گرد امریکی صدر نے ایران پر راتوں کے حملے جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے پہلی مرتبہ "زمینی حملے" کی دھمکی دی اور لکھا کہ امریکی افواج عنقریب جزیرہ خارک پر قبضہ کرکے ایران کے تیل پر قابض ہوجائے گا!
ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایران کے انتباہات
ٹرمپ کی دھمکی پر ڈاکٹر قالیباف کا رد عمل:
ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں میں، پارلیمان کے اسپیکر ڈاکٹر "قالیباف" نے ٹرمپ سے مخاطب ہوکر لکھا:
- غلط حکمت عملیاں اور سوچے سمجھے بغیر کے فیصلے، صورتحال کو المناک انداز سے زیروپوائنٹ کی طرف پلٹا دیتے ہیں؛
- توانائی کے بنیادی ڈھانچوں اور منڈیوں کو دھماکے کی طرف لے جاتے ہیں اور ایک ایسی دلدل معرض وجود میں لاتے ہیں جس میں تم دھنس جاؤگے۔
- ایک مختلف ایران، دیکھ لو گے۔"
نائب صدر اول کا رد عمل:
اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب صدر اول، ڈاکٹر "عارف" نے لکھا:
- آج ایران کا دفاعی اور تسدیدی ڈھانچہ تیسرے دفاع مقدس کے ایام سے میلوں اگے ہے۔
- آج کی صلاحیتیں دو ماہ قبل سے بھی قابل قیاس نہیں ہیں۔
- اللہ پر توکل اور مسلح افواج کی طاقت کے سہارے سے کوئی بھی جارحیت دشمن کی حتمی اور پشیمان کرنے والی شکست پر منتج ہوگی۔"
امریکی حملوں کا زیادہ شدید اور سنگین جواب دیں گے، ڈاکٹر محمد مخبر
رہبر انقلاب کے مشیر اور سابق نائب صدر اول ڈاکٹر محمد مخبر نے کہا:
امریکی حملہ کریں گے، تو ہم زیادہ شدت اور طاقت کے ساتھ جواب دیں گے۔
- ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اسلامی جمہوریہ اپنی آزادی اور قومی مفادات سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور حملہ آوروں کو ان کے کئے پر پشیمان کر دے گا۔
- اگر امریکہ نے اسلامی جمہوریہ کے مفادات کا احترام نہ کیا تو جنگ جاری رہے گی۔
وزارت دفاع کا انتباہ
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت دفاع نے اعلان کیا:
- اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج آج پہلے سے کہیں بہتر تیاری، صلاحیت اور دفاعی قوتوں سے لیس ہیں اور
- ملکی سلامتی اور ارضی سالمیت کے خلاف کوئی بھی جارحیت ہوئی تو دشمنوں کو اپنے غلط تصورات سے کہیں بالاتر، فیصلہ کن، پشیمان کن اور حیران کن جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر کا اعلان
مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کے کمانڈر، فلائٹ میجر جنرل عبداللٰہی نے ٹرمپ کی ہرزہ سرائیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا:
- اگر امریکہ ایک بار پھر ایران پر حملہ کرے تو جنگ کی آگ کا دائرہ مشرق وسطیٰ سے بہت آگے پھیل جائے گا۔
- امریکہ کے رویئے اور قول و فعل میں یہ واضح تضاد علاقے میں عدم تحفظ کی اصل وجہ ہے اور اسی وجہ سے اس نے بین الاقوامی تجارت اور معیشت اور ممالک کی سلامتی، خاص طور پر آبنائے ہرمز کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
- امریکہ کے سرغنے ایران کی باوقار اور بہادر قوم اور اس کی طاقتور مسلح افواج کو صحیح طریقے سے نہ پہنچاننے کی وجہ سے ایک باطل "دورِ و تسلسل (Vicious circle)" میں الجھے ہوئے ہیں اور امریکی صدر اور دیگر حکام کے بار بار جھوٹے اعلانات، دعوے اور نعرے اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے۔
- ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف امریکہ کی حالیہ دھمکیوں کے پیش نظر، اعلان کیا جاتا ہے کہ یا تو تیل اور گیس کی برآمد سب کے لئے ہوگی، یا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں ہوگی۔
جو پہلے آزمایا جا چکا ہے اسے آزمانا ندامت کا سبب ہے، سپاہ پاسداران
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے ایکس پیج پر لکھا:
- "مَن جَرَّبَ المُجَرَّبَ، حَلَّت بِهِ النَّدَامَةُ؛ (جس نے آزمودہ کو آزمایا اس پر ندامت طاری ہوئی)، - اگر آمریکہ پچھلی شکستوں کے تجربے سے دوبارہ گذرنا چاہے، تو پھر بھی پشیمان ہوجائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ