بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کے قائم مقام وزیر دفاع، بریگیڈیئر جنرل پاسدار سید مجید ابن الرضا نے مجلس شورائے اسلامی کے اقتصادی کمیشن کے اراکین سے ملاقات کے موقع پر، جنگ رمضان میں وزارت دفاع کے اقدامات، ملک کی دفاعی صلاحیت کی تقویت کے عمل اور مسلح افواج کی تیاری کو بہتر بنانے میں دفاعی صنعت کی کارکردگی پر مبنی رپورٹ پیش کی۔
انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی بہادری اور طاقت و صلاحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران نے ثابت کرکے دکھایا ہے کہ بیک وقت جنگ اور مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کی پوری استعداد اور صلاحیت رکھتا ہے اور امریکیوں کی بدعہدی کے مقابلے میں میدان جنگ میں بھی مناسب جواب دے سکتا ہے۔
سرپرست وزارت دفاع نے مزید کہا: اسلامی اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے دشمن کی ماضی کی بدعہدیوں اور رویوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، مذاکرات کے دوران ـ اور 60 روزہ مفاہمت کی مدت میں، ـ تمام شعبوں میں اپنی جنگی ترتیب کو برقرار رکھا ہے اور مضبوط کیا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل پاسدار سید مجید ابن الرضا نے آخر میں اسلامی جمہوریہ ایران کی سرخ لکیروں پر زور دیتے ہوئے واضح کیا: اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں، اور میزائل اور ڈرون صلاحیت نہ تو قابلِ مذاکرہ (Negotiable)) ہے اور نہ کبھی ہوگی، اور یہ صلاحیتیں مقامی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے اور ملک کی سلامتی اور تسدید (Deterrence) کو یقینی بنانے کے لئے، مضبوطی سے ترقی اور بہتری کا راستہ جاری رکھیں گی۔
مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) میں اقتصادی کمیشن کے سربراہ سید شمس الدین حسینی، نے بھی اس موقع پر میں شہید کمانڈروں بالخصوص شہید وزیر دفاع، فلائٹ میجر جنرل عزیز نصیرزاده کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے، 12 روزہ مقدس دفاع اور جنگ رمضان میں مجاہدین، مسلح افواج اور دفاعی صنعت کے سائنسدانوں کی جانفشانیوں، ایثار اور بہادریوں کو سراہا اور کہا کہ پارلیمان کا اقتصادی کمیشن مسلح افواج اور ملک کی دفاعی صنعت کی ہر ممکن حمایت کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔
انھوں نے دفاعی صنعتوں کی ترقی میں جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال، مسلح افواج کے اہلکاروں کی معیشت کی بہتری، علم کی بنیاد پر قائم کمپنیوں، (Knowledge based companies) اساتذہ، سائنسدانوں اور جامعات کی صلاحیتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور خاص طور پر میزائل اور ڈرون شعبوں میں دفاعی صنعت کی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے جیسے اقدامات کو اقتصادی کمیشن کے اراکین کا اہم ترین محور قرار دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ