بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ چونکہ لبنان میں امن، ایران-امریکی جنگ بندی کی پیشگی شرط تھی، چنانچہ اسلامی جمہوریہ ایران نے پیر کے روز لبنان میں صہیونیوں کے مسلسل جرائم کے امتداد کی وجہ سے، اعلان کیا کہ وہ "امریکیوں کے ساتھ بات چیت، اور ثالث کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ" روک دیتا ہے۔"
نیز ایران اور محاذ مقاومت نے آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب کی مکمل بندش کے لئے اپنے عزم کا اعلان کر دیا۔
ایران کی مسلح افواج کے سینئر ترجمان "جنرل شکارچی" نے اعلان کیا: "جارح اور طفل کُش صہیونی ریاست جنگ بندی سے ناجائز فائدہ اٹھاکرلبنان پر جارحیت کرکے خواتین اور بچوں سمیت 3000 بے گناہ افراد کو شہید کر چکی ہے؛ جبکہ مغربی حکام نے خاموشی یا پھر لبنان کے خلاف ان وحشیانہ جرائم کی حمایت کی روش اپنا رکھی ہے۔ درندہ صفت صہیونی ریاست کے سرغنوں اور ان کے حامیوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ لبنان کے خلاف وحشیانہ جرائم کا تسلسل اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے لئے قابل برداشت نہیں ہے۔"
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف اور مذاکراتی وفد کے ارکان نے بھی کہا: "بحری ناکہ بندی اور لبنان میں نسل کش صہیونی ریاست کے جنگی جرائم میں شدت، امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی عدم پابندی کی واضح علامت ہے۔ ہر انتخاب کی ایک قیمت ہوتی ہے۔۔۔"
وزیر خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران، ڈاکٹر "عراقچی" نے اعلان کیا: "ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی،کسی ابہام کے بغیر، لبنان سمیت تمام محاذوں پر مشتمل ہے۔ کسی بھی محاذ پر اس جنگ بندی کی خلاف ورزی، تمام محاذوں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی گردانی جاتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اس جنگ بندی کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کے ذمہ دار ہونگے۔"
ایسے حال میں کہ مقبوضہ اراضی میں صہیونیوں پر ایرانی حملوں کی الٹی گنتی شروع ہو چکی تھی، ٹرمپ ـ ایرانی دھمکیوں کی وجہ سے ـ میدان میں آیا اور مجرم صہیونی فوج کی نکیل کھینچ لی!
طفل خوار امریکی صدر نے لکھا:
"میں نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ایک تعمیری رابطہ کیا۔ کوئی بھی فوج بیروت نہیں جائے گی اور جو فوج بیروت جا رہی تھی، پہلے ہی واپس کر دی گئی ہے۔ اسی طرح اعلی سطحی نمائندوں کے ذریعے حزب اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھا رابطہ کیا اور انہوں نے اتفاق کیا کہ تمام جنگجوئیاں رک جائیں۔ اسرائیل ان پر حملہ نہ کرے اور وہ بھی اسرائیل پر حملہ نہ کریں!۔"
ذرائع نے بتایا کہ: " ٹرمپ نے انتہائی تند و تیز لہجے میں صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلی فون رابطے میں، اس کو پاگل اور دیوانہ قرار دیا اور کہا کہ "میں نے تجھے جیل سے نجات دلائی ہے، تو کیا تو اب میری حکم عدولی کرے گا۔
ادھر لبنانی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ مارچ کے مہینے سے لبنانی سرزمین پر جاری صہیونی حملوں میں اب تک 3442 لبنانی شہید ہو گئے ہیں۔
گوکہ صہیونی ایرانی دھمکی کی وجہ سے بیروت پر حملے سے باز آئے لیکن جنوبی لبنان پر صہیونی حملے جاری ہیں اور حزب اللہ کی طرف سے بھی مزاحمت زوروں پر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ