بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ دہشت گرد صدر نے اپنی متوازی دنیا میں بیٹھ کر کہا: ہم نے کل رات ان پر شدید بمباری کی ہے، آبنائے ہرمز کھلا ہے۔
حالانکہ MarineTraffic سسٹم کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلان کے بعد اس اسٹراٹیجک آبراہ میں جہازرانی صرف ایران کے پرچم کے حامل جہاز اس آبراہ سے گذر سکے ہیں۔
متوازی دنیا کے باسی ٹرمپ نے پھر بھی اسی دنیا میں بیٹھ کر کہا: "ہم نے کل ان سے ملاقات کی تھی، انہوں نے سمجھوتہ قبول کر لیا تھا، جو مکمل طور پر امریکہ کے مفاد میں تھا لیکن آج ایرانیوں نے اس سمجھوتے سے چشم پوشی کی لیکن اجلاس کے بعد انہوں نے دوبارہ حملے کئے! ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے کس سے کہاں ملاقات کی تھی اور سمجھوتہ کیا تھا، کیونکہ اس قسم کے سمجھوتے اس کی اپنی خیالی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں نہ کہ حقیقی دنیا سے۔
ٹرمپ نے حال ہی میں ایسے حال میں جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا کہ جنگ بندی کا دور بہت پہلے ایک سمجھوتے پر منتج ہوئی تھی اور اس کی پہلی شق میں جنگ کے مکمل خاتمے کا اعلان ہؤا تھا اور اس پر ایرانی صدر اور ٹرمپ نے دستخط کئے تھے!!!
امریکہ نے باربار سمجھوتے کی تمام شقوں کی خلاف ورزی کی چنانچہ ایران کی مسلح افواج نے بھی فیصلہ کن جوابات دیئے اور امریکی اڈوں اور ان کے ایندھن کے مراکز اور ساحلی اڈوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کی بندش کا اعلان کیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو امریکی غنڈہ گردی نہیں کھول سکتی اور یہ آبنائے کھلے گا تو ایران کے انتظام کے تحت اور ایران کے اعلان سے، کھلے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ