18 جولائی 2026 - 02:28
حصۂ اول | جے ڈی وینس کے اعترافات: امریکی پالیسی سازی پر اسرائیلی تسلط؛ ایک تجزیہ

"جو روگن (Joe Rogan)" کے ساتھ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے متنازعہ انٹرویو نے ـ جو بی بی سی نے شائع کیا ہے، ـ ایک ایسی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے جو برسوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کی ابلاغیاتی حکمت عملی کا محور رہی اور وہ یہ "صہیونی ریاست" امریکہ میں رائے عامہ کو انجینئر کر رہی ہے اور امریکی معاشرے کی افکار میں ہیرا پھیری کر رہی ہے، اور وائٹ ہاؤس کو ایران کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والے میدان جنگ میں گھسیٹ رہی ہے۔ [۔۔۔]

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "جو روگن (Joe Rogan)" کے ساتھ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے متنازعہ انٹرویو نے ـ جو بی بی سی نے شائع کیا ہے، ـ ایک ایسی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے جو برسوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کی ابلاغیاتی حکمت عملی کا محور رہی اور وہ یہ "صہیونی ریاست" امریکہ میں رائے عامہ کو انجینئر کر رہی ہے اور امریکی معاشرے کی افکار میں ہیرا پھیری کر رہی ہے، اور وائٹ ہاؤس کو ایران کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والے میدان جنگ میں گھسیٹ رہی ہے۔ [۔۔۔] واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ مفاہمت کی یادداشت (MOU) کے معماروں میں سے ایک کی جانب سے یہ عدیم المثال اعتراف نہ صرف امریکی-صہیونی اتحاد کے اندر گہری دراڑ کو عیاں کرتا ہے بلکہ ایران کے سلامتی کے نظریئے میں ایک اسٹراٹیجک اصول کی تصدیق بھی کرتا ہے: ذہین مزاحمت اور 'جنگی میدان اور سفارت کاری کی ہم آہنگی' نے دشمن کو تعطل اور بند راستوں سے دوچار کر دیا ہے اور اب وہ ایک دوسرے کے ساتھ دست بگریباں ہوچکے ہیں۔ 

تزویراتی پس منظر: 60 دن کی جنگ بندی سے دو طرفہ حملوں تک

پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان گڈشتہ مہینے کے دستخط شدہ نام نہاد "مفاہمت کی یادداشت" اس فرسودگی کے عمل (attrition process) کی پیداوار تھی جس میں اسلامی جمہوریہ نے اپنی میدانی صلاحیت (خطے میں تزویراتی گہرائی، آبنائے ہرمز کا کنٹرول اور میزائل کی درست صلاحیت) کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ـ اور اسلام آباد کی جانب سے فعال سفارت کاری (اسلام آباد اور سوئٹزرلینڈ میں وینس کی بات چیت) ـ کے ذریعے مذاکراتی کوششوں کو آگے بڑھایا اور پہل کی صلاحیت واشنگٹن سے چھین لی۔ اس یادداشت کی بنیادی شرط آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور 60 روزہ جنگ بندی کا قیام تھا جس کو جلد ہی امریکہ نے پامال کر دیا اور اس اہم آبی گذرگاہ پر کشیدگی ایک بار پھر بھڑک اٹھی۔ یہ سلسلہ ـ امریکہ کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی، امریکی حملوں میں اضافہ اور پھر خلیج فارس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پوزیشنوں پر ایران کا فیصلہ کن ردعمل ـ بالکل اسلامی جمہوریہ کے "آنکھ کے بدلے آنکھ" کے نظریئے کا مظہر ہے، جس نے دشمن کو کبھی بھی یکطرفہ کاروائیاں کرکے جواب سے بچ کر رہنے کا مزہ نہیں چکھنے دیا۔

وینس کا اعتراف: اسرائیل کس طرح رائے عامہ کو یرغمال بناتا ہے؟

وینس نے جو روگن سے گفتگو میں صراحت کے ساتھ اعلان کیا کہ "اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر، امریکی رائے عامہ میں ہیرا پھیری کر رہے ہیں تاکہ اس جنگ کو غیر محدود مدت تک جاری رکھا جا سکے۔" انھوں نے مذاکرات کو پٹری سے اتارنے کے لئے "ایک انتہائی خفیہ اور غیر معمولی مہنگی مہم" پر سے پردہ اٹھایا اور اس بات پر زور دیا کہ ان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حلقے ایران کے ساتھ امریکہ کے معاہدے سے "نفرت" کرتے ہیں۔ اس اعتراف کو وینس کی اس سابقہ تنبیہ کے ساتھ ملا کر دیکھنا چاہئے جس میں اس نے اسرائیلی رہنماؤں کو خبردار کیا تھا کہ وہ کہیں "دنیا میں اپنے واحد طاقتور باقی ماندہ اتحادی" کو کھو نہ بیٹھیں! بیانات کا یہ سلسلہ واشنگٹن میں ایک داخلی بحران کی تصویر کشی کرتا ہے: ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس صہیونی لابی اور امریکی قومی مفادات کے درمیان الجھ کر رہ گیا ہے اور نائب صدر مجبوراً کھل کر پردہ دری کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

سیاسی نفسیات اور ٹرمپ کے معروف تزویراتی نمونے - جسے "ٹاکو"  (Trump Always Chickens Out 'TACO') (یعنی دھمکی، الزام تراشی، جبر و زبردستی اور موقع پرستی) کہا جا سکتا ہے ـ کے تحت یہ اعتراف اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ امریکی دباؤ کی منصوبہ بندی کی زوال پذیری کا ایک نیا مرحلہ ہے۔ ٹرمپ اس وقت درمیانی مدت کے انتخابات کی دہلیز پر کھڑا ہے اور اس کو سفارتی کامیابی کا مظاہرہ درکار ہے، مگر اسرائیل اور امریکہ کے اندر اس کی ہم خیال لابیاں رائے عامہ رائے میں ہیرا پھیری کے ذریعے انہیں انتہا پسندی کی جانب دھکیل رہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ کا "اسٹراٹیجک پارٹنر" [یعنی اسرائیل] امریکی قومی مفادات کو پھانسی دینے کا پھندا بن چکا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: سید ابراہیم حسینی فرد

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha