1 جون 2026 - 13:28
حصۂ اول | ایران کی قوت برداشت اور دشمن کی صلاحیتوں کی بوسیدگی مغربی تھنک ٹینکس کا تجزیہ

رینڈ (RAND) اور مرکز برائے اسٹراٹیجک و بین الاقوامی تعلقات (CSIS) جیسے معروف تھنک ٹینکس کے تجزیے بتاتے ہیں کہ تہران امریکہ کے مقابلے میں، اپنی ذہانت سے کھیل کے قواعد بدل کر بھاری فوجی دباؤ کو، اپنا اثر و رسوخ مستحکم کرنے کے لئے موقع (Opportunity) میں تبدیل کر رہا ہے۔ یہ دستاویزات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ایران کے "نظریۂ استقامت (Sustainability Doctrine)" کے سامنے واشنگٹن کی ناکامی محض ایک عارضی پسپائی نہیں، بلکہ مغرب کی روایتی تسدید (Classical deterrence) کی افادیت کے خاتمے کا مظہر ہے؛ ایک حقیقت جسے اب امریکی تھنک ٹینکس بھی امریکی فوجی طاقت کے زوال کے دور کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مورخہ 13 جون 2025ع‍ کو اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف پہلی براہ راست فوجی جارحیت (بارہ روزہ جنگ) سے لے کر حالیہ جنگ (جنگ رمضان) تک، ـ جو فی الحال جنگ بندی اور مذاکرات کے مرحلے میں ہے، ـ مغربی ایشیا کا خطہ تصادم کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ اس دور میں روایتی وار پیٹرن اور تسدید کے نظریات میں بنیادی تبدیلی آئی ہے۔ ایران اور ـ خاص طور پر لبنان میں ـ محور مقاومت کے خلاف، امریکہ اور صہیونی ریاست کی مشترکہ جارحیت ـ اب محدود لڑائیوں یا پراکسی جنگوں کی شکل میں نہیں دیکھی جا سکتی، بلکہ ـ ایک براہ راست، کثیر الجہتی اور مکمل تصادم کی سطح تک بڑھ گئی ہے۔

تاہم، امریکی اور صہیونی منصوبہ سازوں کی ابتدائی منصوبہ بندی کے برعکس ـ جو اسلامی جمہوریہ ایران اور محور مقاومت کو محدود یا ساختی طور پر کمزور کرنے پر مرکوز تھی ـ میدانی شواہد اور معتبر تھنک ٹینکس کے تجزیئے بتاتے ہیں کہ اس حکمت عملی نے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے اور عملی طور پر اسلامی جمہوریہ کی قیادت میں، خطے میں محور مقاومت (محاذ مزاحمت) میں طاقت اور ڈیٹرنس کی ایک نئی شکل کو جنم دیا ہے۔

"قابو میں لانے" اور "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کے نظریئے کی شکست

چتھم ہاؤس (Chatham House) کے تجزیئے کے مطابق، سنہ 2025-2026ع‍ کی جنگ کے بعد کے عبوری مرحلے میں امریکہ اور صہیونی ریاست کی حکمت عملی اس مفروضے پر استوار تھی کہ تصادم کو براہ راست جنگ کی سطح پر لے جایا جائے، کمانڈ کے ڈھانچے اور اعلیٰ قیادت کے قتل پر توجہ مرکوز کی جائے، تو ایران میں فیصلہ سازی کے مرکز کو کمزور کیا جا سکتا ہے اور محور مقاومت کے علاقائی نیٹ ورک کی یکجہتی کو توڑا جا سکتا ہے!

تاہم اس مرکز کی رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ یہ نیٹ ورک وسیع فوجی دباؤ اور "اپنے ڈھانچے کو کمزور کرنے یا منتشر کرنے" کے [دشمن کے] عزائم کے باوجود، علاقائی سطح پر برقرار ہے اور ایک نئی شکل میں ترتیب پا کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، اس طرح سے کہ میدان جنگ ـ اس نیٹ ورک کے ٹوٹنے کے بجائے ـ ایک کثیر الجہتی اور وسیع تر تصادم میں تبدیل ہو گیا ہے۔

اس تصادم کے پہلو اس قدر وسیع اور فیصلہ کن تھے کہ حتیٰ چتھم ہاؤس جیسے قدامت پسند تھنک ٹینک نے بھی مارچ سنہ 2026ع‍ میں اپنی توجہ "ایران کو محدود کرنے" کے منصوبے سے ہٹا کر "محور مقاومت کی بقا" کے جائزے پر مرکوز کر دی۔ جنگ کے درمیان ایران اور اس کے اتحادیوں کی بقاء اور پامردی اور حالات سے مطابقت پیدا کرنے کے طریقوں پر مرکوز نشستوں اور خصوصی مباحثات کا انعقاد خود امریکہ اور اسرائیل کے اصل مقصد ـ یعنی مزاحمتی ڈھانچے کے خاتمے ـ میں ناکامی کا ثبوت ہے۔ دوسرے لفظوں میں، فوجی کارروائیوں اور کثیر الجہتی دباؤ کے عروج پر، یہ مزاحمت کی مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیتِ اور از سر نو استعداد پیدا کرنے کی طاقت تھی جس نے مغربی تھنک ٹینکس کے اسٹریٹجک حسابات اور پیش گوئیوں کو شدت سے چیلنج کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: قبس زعفرانی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha