23 جون 2026 - 03:58
حصۂ اول | آبنائے ہرمز کا انتظام ایرانی ترتیبات کے تحت، ایران کے ہاتھ میں باقی رہے گا، قالیباف

ایران کے مذاکراتی وفد کے سربراہ نے سوئٹزرلینڈ میں چار فریقی مذاکرات سے واپسی کی پرواز کے دوران کہا: بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے، آبنائے ہرمز کو ایرانی ترتیبات کے تحت، چلایا جائے گا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایران کے مذاکراتی وفد کے سربراہ، ٹاکٹر محمد باقر قالیباف نے سوئٹزرلینڈ میں چار فریقی مذاکرات سے واپسی کی پرواز میں کہا: کچھ دوستوں کو لگتا ہے کہ سفارت کاری کا میدان فوجی میدان سے متصادم ہے؛ بنیادی طور پر یہ سوچ غلط ہے۔

انھوں نے مزید کہا: فوجی میدان میں جو بھی کامیابی حاصل ہوتی ہے، اس کے ثمرات تب دیکھے جا سکتے ہیں جب وہ فتح سیاسی اور قانونی طور پر ریکارڈ اور مستحکم کیا جائے۔ سفارت کاری کے بغیر، میدان کی محنت ثمر نہیں دے گی۔

سوئٹزرلینڈ کا دورہ چار فریقی مذاکرات میں فوجی میدان سے ہم آہنگ تھا

• چار فریقی مذاکرات کے لئے، سوئٹزرلینڈ کا دورہ بالکل فوجی میدان سے ہم آہنگ تھا۔ ہماری مسلح افواج نے فخر، طاقت اور بہادری کے ساتھ یہ بڑی فتح حاصل کی۔

• جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے مرحلے میں، ہم نے اس مرحلے کو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھایا۔ اگر اس پر عملدرآمد میں کوئی خرابی آتی ہے تو ہم میزائل سے بھی جواب دے سکتے ہیں اور مذاکرات سے بھی اسے حل کر سکتے ہیں۔

جب تک لبنان کی علاقائی سالمیت یقینی نہ بنے، ہم اسے چھوڑیں گے نہیں

• فطری طور پر مسلح افواج اور سفارتی مشینری آپس میں مربوط ہیں۔ میں سفارت کار نہیں ہوں؛ ایک مجاہد ہوں۔

• جنگ کے خاتمے اور محاصرے کے خاتمے کو 'ہم نے جنگ کے انداز سے گفتگو کرکے' اور فوجی میدان کی طاقت کے سہارے حتمی شکل دی۔

• لبنان کے معاملے میں، جب سے ہم سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں شامل ہوئے، ہم نے دیکھا کہ لبنان کے خلاف دشمن کی جنگ بند ہو گئی ہے اور لبنانی عوام کا ایک بڑا حصہ اپنے گھروں کو لوٹ چکا ہے۔

• ان شاء اللہ سوئٹزرلینڈ میں کئے گئے فیصلے کے ساتھ، ہم لبنان کی علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کو نتیجے تک پہنچائیں گے اور جب تک نتیجہ برآمد نہ ہوگا، اسے چھوڑیں گے نہیں۔

** اسلامی جمہوریہ کی نرم طاقت اور سخت طاقت کے امتزاج کا نتیجہ تھا۔

• عقلمندی کا تقاضا ہے کہ ہمیشہ امریکیوں پر بے اعتماد رہیں۔ امریکی فریق کے ساتھ مذاکرات میں، ہم روڈ میپ اور واضح ماڈل کے ساتھ آگے بڑھے۔

• مفاہمت نامے میں دفعہ 13 شامل کی گئی جس کے تحت، امریکی فریق پر بے اعتمادی کی وجہ سے، دفعات 1، 4، 5، 10 اور 11 میں مفاہمت پر دستخط کے فوراً بعد امریکہ کے اقدامات شروع ہونا تھے یا کم از کم ان پر عملدرآمد شروع ہونا تھا تاکہ ہمیں یقین ہو جائے کہ کام شروع ہو گیا ہے؛ پھر ہم دیگر موضوعات میں داخل ہوں۔

• مذاکرات کے دوران اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ ہی، بحری ناکہ بندی ختم ہو گئی اور ناکہ بندی کا مسئلہ ایک رات میں حل ہو گیا۔

• ٹرمپ نے مفاہمت پر دستخط کے بعد اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز آج رات سے کھلا ہے؛ جبکہ مفاہمت کی دفعہ 4 کے مطابق، اسے 30 دنوں میں اور ایران کے ضوابط کے تحت کھلنا ہونا تھا۔

• یہ اسلامی جمہوریہ کی طاقت ہے کہ ہم نے ٹرمپ کو اس کی شائع کردہ ٹویٹ درست کرنے پر مجبور کیا اور یہ ہماری نرم اور سخت طاقت کے امتزاج کا نتیجہ تھا۔

** دورہ سوئٹزرلینڈ میں منجمد اثاثوں کی آزادی اور پابندیوں کے خاتمے کو حتمی شکل دی گئی

• بلاک شدہ اموال کی آزادی کے لئے، دفعہ 11 کے تحت دو 6 ارب ڈالر کی دو رقوم آزاد ہونا تھیں جن کے لئے اس سے پہلے قطر کے دورے میں اقدامات کئے گئے تھے، لیکن ان پر حتمی دستخط سوئٹزرلینڈ کے سفر میں ہونا تھے جو کر دیئے گئے۔

• خام تیل، پٹرو کیمیکلز اور متعلقہ مصنوعات کی فروخت کے ساتھ ساتھ بینکنگ، انشورنس اور ٹرانسپورٹ کے مسائل زیر بحث ہیں۔ چونکہ ابھی حتمی معاہدہ نہیں ہوا، پابندیاں برقرار ہیں؛ لہٰذا دستخط شدہ معاہدے کے تحت، حتمی معاہدے تک پہنچنے تک، تیل اور پٹروکیمیکلز پر پابندیاں ختم کر دی گئیں۔

• ایران اور امریکہ دونوں، کو لبنان کی علاقائی سالمیت کی ضمانت دینا ہوگی۔

• صہیونی ریاست مذاکرات کے عمل کی شدید مخالف کرتی ہے؛ کیونکہ وہ اس راستے میں اپنی تباہی دیکھتی ہے اور رکاوٹیں ڈالنا چاہتی ہے۔

• سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں ہمارے داخلے اور پیروی کے ساتھ، لبنان میں جنگ کی شدت اور فائرنگ میں کمی آئی  اور دو دنوں میں جنگ بند ہو گئی۔

• مذاکرات میں ہم نے ایسے نتائج بھی حاصل کئے کہ ایران اور امریکہ دونوں کو لبنان کی علاقائی سالمیت کی ضمانت دینا ہوگی۔

• لبنان کی علاقائی سالمیت کی ضمانت مفاہمت نامے میں بھی درج ہے۔

• طے پایا کہ ہم آہنگی کے لئے ایک مرکز بنایا جائے تاکہ مسائل حل ہوں، اور لبنان کے لوگ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں اور صہیونی ریاست کی افواج لبنانی سرزمین سے پیچھے ہٹ جائیں۔

• اگر ہم سوئٹزرلینڈ نہ جاتے، تو ہر لمحے زیادہ سے زیادہ لبنانی مسلمان اور شیعہ قتل ہو جاتے۔

-----------------

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha