1 جون 2026 - 22:09
حصۂ سوئم | ایران کی قوت برداشت اور دشمن کی صلاحیتوں کی بوسیدگی، مغربی تھنک ٹینکس کا تجزیہ

رینڈ (RAND) اور مرکز برائے اسٹراٹیجک و بین الاقوامی تعلقات (CSIS) جیسے معروف تھنک ٹینکس کے تجزیے بتاتے ہیں کہ تہران امریکہ کے مقابلے میں، اپنی ذہانت سے کھیل کے قواعد بدل کر بھاری فوجی دباؤ کو، اپنا اثر و رسوخ مستحکم کرنے کے لئے موقع (Opportunity) میں تبدیل کر رہا ہے۔ یہ دستاویزات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ایران کے "نظریۂ استقامت (Sustainability Doctrine)" کے سامنے واشنگٹن کی ناکامی محض ایک عارضی پسپائی نہیں، بلکہ مغرب کی روایتی تسدید (Classical deterrence) کی افادیت کے خاتمے کا مظہر ہے؛ ایک حقیقت جسے اب امریکی تھنک ٹینکس بھی امریکی فوجی طاقت کے زوال کے دور کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مورخہ 13 جون 2025ع‍ کو اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف پہلی براہ راست فوجی جارحیت (بارہ روزہ جنگ) سے لے کر حالیہ جنگ (جنگ رمضان) تک، ـ جو فی الحال جنگ بندی اور مذاکرات کے مرحلے میں ہے، ـ مغربی ایشیا کا خطہ تصادم کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ اس دور میں روایتی وار پیٹرن اور تسدید کے نظریات میں بنیادی تبدیلی آئی ہے۔ ایران اور ـ خاص طور پر لبنان میں ـ محور مقاومت کے خلاف، امریکہ اور صہیونی ریاست کی مشترکہ جارحیت ـ اب محدود لڑائیوں یا پراکسی جنگوں کی شکل میں نہیں دیکھی جا سکتی، بلکہ ـ ایک براہ راست، کثیر الجہتی اور مکمل تصادم کی سطح تک بڑھ گئی ہے۔

حصۂ سوئم:

غیر متناسب تسدید: میدان میں مستحکم شدہ حقیقت

رینڈ (Research and Development Corporation [RAND]) کے تجزیوں میں ایران کے اسٹراٹیجک طرز عمل کو "غیر متناسب تسدید (Asymmetric deterrence)" کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ایک ایسا نمونہ جس میں بیرونی دباؤ, صلاحیتوں کے خاتمے کے بجائے ان کی از سر نو ترتیب و تشکیل میں تبدیل کرنے کا باعث بنا ہے۔

اس نقطہ نظر کے مطابق، ایران بیرونی دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے ساختی پسپائی اختیار کرنے کے بجائے، اپنے عمل کے نمونے کو میدان کے حالات کے مطابق تبدیل کرتا ہے اور اپنی تسدید کی صلاحیتوں کو منتشر اور متعدد پرتوں کی شکل میں برقرار رکھتا ہے۔ اسٹراٹیجک نقطۂ نظر سے اس کا مطلب روکنے والی مکمل طاقت کے خاتمے پر مبنی پالیسیوں کی ناکامی ہے۔

خلاصہ:

محدود کرنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا اور ایران کی قیادت میں مزاحمتی تسدید مستحکم

چتھم ہاؤس (Chatham House)، بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ برائے تزویراتی مطالعات (IISS)، مرکز برائے تزویراتی و بین الاقوامی مطالعات (CSIS) اور رینڈ (RAND) کے تجزیوں کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کالج لندن (University College London [UCL]) کی تعلیمی رپورٹوں کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی جغرافیائی-سیاسی حیثیت پر انحصار کرتے ہوئے تسدید کی ایک نئی اور طاقتور تہہ کو مستحکم کر لیا ہے۔ یہ حکمت عملی امریکہ اور اس کے علاقائی و بین الاقوامی اتحادیوں کو ڈکٹیٹ کرتی ہے کہ کوئی بھی فوجی کارروائی ایک عالمی اقتصادی بحران کے یقینی خطرے کا سبب بنے گی۔ ایسا بحران جو بین الاقوامی کھلاڑیوں کے برداشت کی حد سے ماورا ہے۔ یہ حقیقت بتاتی ہے کہ فوجی دباؤ پر مبنی پالیسیاں نہ صرف "ساختی کمزوری" یا "محور مقاومت کا خاتمہ" جیسے مقاصد پر منتج نہیں ہوئیں بلکہ اس نے ایران کو محدود کرنے کے اخراجات کو ـ محدود کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لئے ـ شدت سے بڑھا دیا ہے۔

اس کے برعکس، میدان میں جو شکل ابھری ہے وہ [دشمن کو] فرسوده  کردینے والی تسدید (Deterrence to Attrition) کی ایک نئی شکل ہے؛ جس میں کہ:

• ایران اور محور مقاومت بدستور فعال اور اثرانداز ہیں

• امریکہ کوئی حتمی اسٹرٹیجک برتری قائم کرنے میں ناکام رہا ہے

• امریکہ اور اسرائیل کو در پیش سیاسی اور فوجی اخراجات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں، اور

• طاقت کا معادلہ ایک پیچیدہ اور پائیدار توازن کی طرف مائل ہو گئی ہے

ایسے حالات میں، جو کچھ "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی کے طور پر اپنایا جا رہا تھا، عملاً ریاستہائے متحدہ کے لئے ایک فرسودہ کر دینے اولی اور تھکا دینے والی مہم بن گیا ہے؛ ایک ایسا عمل جو نہ صرف ایران میں نظام کے خاتمے کا باعث نہیں بن پایا، بلکہ اس کے علاقائی حریفوں کی مکمل برتری کو مستحکم کرنے میں بھی ناکام رہا۔ اس صورتحال کا حتمی نتیجہ خطے میں ایک نئے نظام کا قیام ہے جس میں ایران کو ایک محدود اور زیر کنٹرول کھلاڑی کے طور پر نہیں، بلکہ مستقبل کے فارمولوں اور مساواتوں (Equations) میں "تعین کن قوت اور استحکام کے اعلیٰ معمار" کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: قبس زعفرانی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha