15 جولائی 2026 - 15:45
مآخذ: ابنا
محاصرہ ختم نہ ہوا تو جدوجہد جاری رہے گی، فیصلہ اب ریاض کے ہاتھ میں

یمن کی صنعاء حکومت کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور عبداللہ صبری نے اعلان کیا ہے کہ "نہ جنگ، نہ امن" کی صورتحال ختم ہو چکی ہے اور اب آئندہ پیش رفت کا انحصار سعودی عرب کے فیصلوں پر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے نتائج کی ذمہ داری ریاض پر عائد ہوگی۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی صنعاء حکومت کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور عبداللہ صبری نے اعلان کیا ہے کہ "نہ جنگ، نہ امن" کی صورتحال ختم ہو چکی ہے اور اب آئندہ پیش رفت کا انحصار سعودی عرب کے فیصلوں پر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے نتائج کی ذمہ داری ریاض پر عائد ہوگی۔

المیادین سے گفتگو کرتے ہوئے عبداللہ صبری نے کہا کہ اب معاملہ صرف صنعاء ایئرپورٹ کا محاصرہ ختم کرانے تک محدود نہیں رہا بلکہ یمن پر جاری حملوں کے خاتمے اور مکمل محاصرے کے خاتمے سے متعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے خود "نہ جنگ، نہ امن" کی کیفیت کا خاتمہ کیا ہے اور وہ کشیدگی میں اضافے کے ممکنہ نتائج کا ذمہ دار ہوگا۔ ان کے مطابق یمن اس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا جب تک حملے مکمل طور پر بند نہیں ہوتے اور محاصرہ ختم نہیں کیا جاتا۔

صبری نے کہا کہ یہ غیر یقینی صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی، جبکہ سعودی عرب یمنی عوام کے حقوق کی ادائیگی اور سیاسی حل پر عمل درآمد سے گریز کرتا رہا اور اس نے دوبارہ اپنی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صنعاء ایئرپورٹ کا محاصرہ ختم کرنے کی پہلی عملی پیش رفت ہو چکی ہے اور یہ مقصد چاہے سیاسی مذاکرات کے ذریعے حاصل ہو یا دیگر ذرائع سے، ہر صورت میں پورا کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اب فیصلہ سعودی عرب کے ہاتھ میں ہے۔

یمنی نائب وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ سیاسی حل کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات حقیقت پسندانہ، جامع اور یمنی عوام کے حقوق کا احترام کرنے والے ہوں اور ملک کو دوبارہ سابقہ تعطل کی کیفیت میں نہ دھکیلا جائے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن کے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر جاری پابندیوں کے تناظر میں یمنی مسلح افواج نے فضائی کمپنیوں کو سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ بعض عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اس انتباہ کے بعد خلیجی اور چند دیگر عرب ممالک کی بعض فضائی کمپنیوں نے سعودی عرب کے لیے اپنی بعض پروازیں منسوخ یا معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یمنی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی فضائی حدود سے متعلق انتباہ کا مقصد یمن کے ہوائی اڈوں پر عائد محاصرے کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے، جبکہ اس پابندی کے خاتمے کو یمنی ہوائی اڈوں سے محاصرہ اٹھائے جانے سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha