بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسرائیل کی طرف سے ضاحیۂ بیروت پر حملے کی دھمکی تخمینوں اور اندازوں ميں دہرائی جانی والی بے غلطی ہے جس کے نتیجے میں حزب اللہ اور دیگر محاذہائے مقاومت کا تیز اور طاقتور ردِ عمل سامنے آئے گا۔
حزب اللہ اپنی قوت اور ذہانت کے ساتھ خطے میں نئے قواعد بنا رہا ہے اور تل ابیب اور حیفا میں اسٹراٹیجک اہداف کو تباہ کر دے گا۔ ایران نے بھی لبنان کے تئیں اپنی حمایت کا باضابطہ اور پُرزور اعلان کر دیا ہے۔ مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کے کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضاحیہ اور بیروت پر بمباری کی گئی تو مقبوضہ سرزمینوں کے باشندوں کو جان پیاری ہے تو علاقہ خالی کریں۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی انٹیلی جنس تنظیم نے بھی زور دے کر کہا: "اسلامی جمہوریہ ایران لبنان اور غزہ میں سرخ لکیروں سے تجاوز کو اپنی اور مقاومتِ اسلامی کی قومی سلامتی پر براہِ راست جنگ اور بلاواسطہ بوجھ عائد کرنے کے مترادف سمجھتا ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے دفاعی کارروائیوں اور آج تک کے رائج جنگی قواعد توڑنے اور آبنائے ہرمز کے علاوہ، نئے محاذ کھولنے کے لئے اپنے پختہ عزم کا اعلان کرتا ہے؛ یقینا جو آندھی بوئے گا، اسے طوفان کاٹنا پڑتا ہے۔"
لبنانی اخبار "الاخبار" نے بھی رپورٹ دی کہ اسرائیل کی طرف سے جنگ میں شدت لانے کا جواب محاذ مقاومت کی طرف سے وسیع البنیاد اور مربوط اور منظم اقدام کی صورت میں دیا جائے گا اور صنعا بھی لبنان کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
یہ حمایتیں، طاقت کے مقاومتی فارمولے کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ مقاومت کی پشت پر صرف ایک قوت نہیں، بلکہ ایک پورا محور مقاومت کھڑا ہے۔ ضاحیہ اور بیروت کو نشانہ بنایا گیا تو تل ابیب اور حیفا کو زمین بوس کر دیا جائے گا۔
محاذ مقاومت نے ضاحیہ اور بیروت پر حملے کی صہیونی دھمکی کے مقابلے میں، پوری قوت سے ایک نیا فارمولا تشکیل دیا اور امریکہ اور اسرائیل مقاومتِ اسلامی کی قوت کے سامنے مغلوب ہو گئے۔ صہیونی ریاست کے سرکاری ٹی وی / ریڈیو نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ پر بڑا حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن آخری لمحات میں ایران کی دھمکی اور امریکہ کی مداخلت کے بعد یہ آپریشن ملتوی کر دیا گیا۔
صہیونی ریاست کا چینل 12 کہتا ہے: "ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان فون کال ایک گھنٹے سے زائد عرصے تک جاری رہی"، "واشنگٹن ایران کی دھمکیوں کو امریکی مفادات کے خلاف براہِ راست دھمکی سمجھتا ہے۔"
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل نیٹ ورک پر لکھا: "میری اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو، کے ساتھ بہت تعمیری ٹیلی فونک گفتگو ہوئی اور کوئی بھی فورس بیروت نہیں جائے گی، اور جو بھی فوجی بیروت کے طرف جا رہے تھے، وہ پہلے ہی واپس بلا لئے گئے ہیں"۔
نیتن یاہو سوچ رہا تھا کہ لبنان پر حملہ کرکے، اور لوگوں کو ڈرا کر، وہ مقاومت کو شکست دے گا لیکن اس نے مقاومت کی آہنی طاقت اور ارادے کو کم سمجھا ہے۔ حزب اللہ کے ڈرون انتہائی ذہانت کے ساتھ بہت درست نشانے پر لگتے ہیں اور انہوں نے اسرائیلیوں کو لاچارگی سے دوچار کر دیا ہے۔ عبرانی ذرائع ابلاغ اعتراف کرتے ہیں کہ حزب اللہ کے ڈرون حملوں میں اسرائیلی فوج کو ناقابل تلافی جانی اور مالی نقصانات پہنچے ہیں اور ان کے لاتعداد ٹینک، فوجی گاڑياں، بلٹوزر نیز متعدد میزائل دفاعی سسٹمز (آئرن ڈوم) تباہ ہو چکے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محمد حسین حمزہ ای
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ