بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ہالی ووڈ کے مصنف اور پروڈیوسر، جیف شیفر (Jeff Schaffer)، نے ایک تند و تیز طنز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کا "نارنجی مہاسہ" قرار دیا اور کہا: میرا نیا سیریل ڈرامہ "زندگی، لیری اور ناخوشنودی کی تلاش"، ریاست ہائے متحدہ کی تاریخ کو "اس کی تمام خامیوں اور زخموں کے ساتھ" منانے والی ہے، لیکن وہ خواہش رکھتے ہیں کہ یہ "مسہ" جلد از جلد ختم ہو جائے۔ایچ بی او کی نئی سیریز "زندگی، لیری اور ناخوشنودی کی تلاش" (Life, Larry and the Pursuit of Unhappiness) کے مصنف اور ایگزیکٹو پروڈیوسر جیف شیفر، کا خیال ہے کہ اس ڈرامے کی نشریات کا امریکہ کی آزادی کی دو سو پچاسویں سالگرہ کے ساتھ ہم آہنگ ہونا، اسے ایک مختلف کام بنا دیتا ہے جو آج کے اس ملک کے سیاسی ماحول کے مطابق ہے۔ یہ سات اقساط پر مشتمل ڈرامہ امریکی مصنف اور معروف اداکار لیری ڈیوڈ، اور امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل کی ملکیت والی کمپنی ہائر گراؤنڈ کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے، اور امریکی تاریخ کے طنزیہ جائزے کے ساتھ ساتھ، موجودہ سیاسی اور سماجی مسائل کا بھی تنقیدی جائزہ لیتا ہے۔
اس ڈرامے میں، ڈیوڈ مزاحیہ اسکیچز کی ایک سیریز کی صورت میں، امریکی تاریخ کے اہم کرداروں اور واقعات کو اپنے مخصوص طنز کے ساتھ دوبارہ پیش کرتے ہیں، اور سیاسی اور سماجی لطیفوں کے ذریعے، اس ملک کی تاریخ کے تضادات اور اتار چڑھاؤ کی ایک تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہ ڈرامہ 2026 کے موسم گرما سے ایچ بی او چینل سے نشر ہو رہا ہے۔
جیف شیفر نے، جو برسوں سے لیری ڈیوڈ کے شریک مصنف رہے ہیں، ہالی ووڈ ریپورٹر کو بتایا کہ وہ امریکہ کا یوم تاسیس کی تمام خامیوں کے ساتھ منا رہے ہیں، مگر اس پر ایک "نارنجی مہاسہ" (ٹرمپ) بیٹھا ہے اور ہماری آرزو ہے کہ یہ مہاسہ جلد از جلد زائل ہوجائے۔
انھوں نے ٹرمپ کے دور کو کلینک میں بستے دوست سے تشبیہ دی جس سے محبت ہے مگر اس کی حالت زار پر افسوس ہے۔

لیری ڈیوڈ نے تاریخ میں دلچسپی کی وجہ سے یہ پروجیکٹ قبول کیا۔ تخلیق کاروں نے جان بوجھ کر اسکرپٹ میں جگہ چھوڑی تاکہ ٹرمپ کی تازہ ترین حرکتوں پر طنز شامل کیا جا سکے، چنانچہ نومبر 2025 میں جیمی کیمل کے ساتھ ایک منظر فلمایا گیا جو تین ادوار تک اقتدار میں رہنے کی کوشش پر ایک طنز ہے۔
شیفر کا کہنا تھا کہ مقصد محض سیاست دانوں پر حملہ نہیں، بلکہ یہ بتانا ہے کہ امریکہ کے آج کے بحران کی جڑیں تاریخی بحرانوں میں پیوست ہیں۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ سامعین طنز کے ساتھ یہ پیغام بھی لیں گے کہ امریکہ تضادات کے باوجود اصلاح اور دشوار دور سے گذرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ