24 مئی 2026 - 12:31
حصۂ پنجم | امریکہ مکمل شکست سے دوچار ہوگیا ہے کنزرویٹو رابرٹ کیگان

بہت بمشکل ایسی گھڑی يا آ سکتی ہے کہ امریکہ کسی تصادم میں مکمل شکست کا شکار ہؤا ہو؛ ایسی قطعی شکست جس کا اسٹریٹجک نقصان نہ قابل تلافی ہو اور نہ ہی نظرانداز کرنے کے قابل۔ / ٹرمپ بہت تیزرفتار حل کا محتاج ہے۔ لہٰذا، امریکہ کو ہتھیار ڈالنا پڑیں گے، / اسی وقت پسپائی اختیار کرنا سب سے سستا، اسان اور کم ضرر آپشن ہے۔ / "خلیج فارس کی عرب معیشتیں امریکی تسلط کی چھتری کے سائے میں تعمیر ہوئی ہیں۔ اس چھتری کو ہٹا دو (اور اس کے ساتھ بحری تجارت کی آزادی کو بھی) تو خلیج فارس کے یہ عرب ممالک ناگزیر طور پر تہران کے در پر بھیک مانگنے جائیں گے۔"

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ رابرٹ کیگن (Robert Kagan)، امریکہ کے بااثر ترین نو-قدامت پرست شخصیات (Neo-conservatives) میں سے ایک ہیں، جنہوں نے ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی تزویراتی شکست اور ایران کی فتح کے بارے میں، دی اٹلانٹک (The Atlantic) میں ایک مضمون لکھا ہے جس کے اہم نکات پیش خدمت ہیں:

حصۂ پنجم:

- جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز پر گشت کرنے کا برطانیہ اور فرانس کا اقدام قدرے مضحکہ خیز ہے۔ فرانس کے صدر

- ایمانوئل میکرون نے واضح کر دیا ہے کہ یہ "اتحاد" آبنائے میں صرف پرامن حالات میں ہی کام کرے گا [ایران کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر]: وہ جہازوں کو اسکورٹ کرے گا، لیکن صرف اس صورت میں جب اسکورٹ کی ضرورت ہی نہ ہو۔ حالانکہ ایران کے کنٹرول میں، آبنائے طویل عرصے تک دوبارہ محفوظ نہیں ہوسکے گا، چنانچہ فرانس اور برطانیہ بھی یہاں کچھ کرنے کے روادار نہیں ہونگے!

- ممکن ہے چین کا تہران پر اثر و رسوخ ہو، لیکن چین بھی اکیلے زبردستی آبنائے نہیں کھول سکتا۔

- اس پیش رفت کا ایک نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا کے بڑے ممالک وسیع پیمانے پر بحری اسلحے کی دوڑ میں شام ہو جائیں [لیکن دوسری طرف سے ڈرونز اور کروز میزائلوں کی ترقی بھی جاری رہی ہے!]

- ماضی میں، دنیا کے بیشتر ممالک، بشمول چین، امریکہ کا بھرم رکھتے تھے کہ وہ اس طرح کی ہنگامی صورت حال کو روک بھی لے اور اس کا انتظام بھی کرے۔ لیکن آج ایسا نہیں ہے؛

- آج وہ یورپی اور ایشیائی ممالک جو خلیج فارس کے وسائل تک رسائی پر، انحصار کرتے ہیں، توانائی کی رسد کھو بیٹھے ہیں حالانکہ یہ ان کے معاشی اور سیاسی استحکام کے لئے اہم ہے؛ چنانچہ وہ بالکل بے بس ہو گئے ہیں؛ لیکن وہ

- یورپی ممالک کب تک اس صورتحال کو برداشت کرپائیں گے اس سے پہلے کہ وہ اپنے بحری بیڑے بنانا شروع کر دیں، جو ایک ایسی دنیا میں اثر و رسوخ استعمال کرنے کا ذریعہ بن سکے، جہاں ہر ملک اپنی فکر میں  ہے، نظم و ترتیب ختم ہو گئی ہے اور کسی بھی چیز کا پہلے سے اندازہ لگانا ممکن نہیں رہا اور سب کچھ غیر متوقعہ ہے؟

خلیج فارس میں امریکی شکست کے وسیع تر عالمی نتائج بھی ہوں گے:

- پوری دنیا دیکھ سکتی ہے کہ دوسرے درجے کی ایک فوجی طاقت [ایران] کے ساتھ صرف چند ہفتوں کی جنگ نے امریکی اسلحے کے ذخائر کو کم کرکے خطرناک سطح تک پہنچا دیا ہے اور

- ایران کے ساتھ جنگ کے لئے کوئی بھی تیزرفتار راہ حل موجود نہیں ہے۔

یہ مسئلہ ایک بڑی جنگ کے لئے امریکہ کے سامنے متعدد سوالات اٹھاتا ہے؛

- شاید ایران کے مقابلے میں امریکی فوج کی شکست چینی صدر شی جن پنگ کو تائیوان پر حملے کی ترغیب دلائے! یا

- شاید ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی شکست روسی صدر کو یورپ پر اپنی جارحیت وسیع تر اور شدید تر کرنے کی طرف راغب کر دے۔ لیکن

- یہ امر مسلّم ہے کہ مشرقی ایشیا اور یورپ میں امریکی اتحادی، امریکہ کی حرکت پذیری کی صلاحیت، اور مستقبل میں کسی بھی جنگ کی صورت میں امریکہ کی بقاء کے حوالے سے تذبذب اور شک و تردد سے دوچار ہو گئے ہیں۔

"عالمی ترتیب (World Order)، "بعد از امریکہ دور" (Post American Era) والی دنیا کی طرف تیز رفتاری سے منتقل ہو رہی ہے۔

خلیج فارس میں امریکہ کی بالادست ـ اور یقیناً کھوئی ہوئی ـ پوزیشن، صرف پہلی مثال ہے اُن بہت سی قربانیوں میں سے، جو امریکہ کو وقت کے ساتھ ساتھ دینا ہوں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ: علی رضا دائی چین

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha