اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی جریدے دی اٹلانٹک نے اپنے تجزیے میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں فیصلہ کن کردار ایران ادا کر رہا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی حکمتِ عملی پر کنٹرول کھو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جریدے نے لکھا ہے کہ ٹرمپ کو یقین تھا کہ وہ جنگی صورتحال پر قابو رکھے ہوئے ہیں، لیکن عملی طور پر حالات ان کے اندازوں کے برعکس ثابت ہوئے اور ایران نے متعدد مواقع پر امریکی پالیسی کو چیلنج کیا۔
تجزیے میں یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ ماہ اعلان کردہ جنگ بندی مؤثر ثابت نہیں ہوئی کیونکہ دونوں جانب سے کارروائیاں جاری رہیں۔ رپورٹ کے مطابق، موجودہ صورتحال ایک طویل اور محدود نوعیت کی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
دی اٹلانٹک نے دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں پر حملوں اور ایران و امریکہ کے درمیان جوابی کارروائیوں نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ رپورٹ میں ایرانی پاسداران انقلاب کے اس دعوے کا بھی ذکر کیا گیا کہ اس نے بحرین اور کویت میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق، ایک حالیہ صحافتی گفتگو میں جب صدر ٹرمپ سے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں جنگ بندی ختم ہو چکی ہے اور وہ اب ایران کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے کے خواہاں نہیں۔
جریدے نے اپنے تجزیے میں دعویٰ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ واضح حکمتِ عملی کے بغیر اس تنازع میں داخل ہوئی اور اس نے پرانی معلومات اور غیر مصدقہ اندازوں پر انحصار کیا۔ رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن کو توقع تھی کہ ایران پر دباؤ کے فوری نتائج سامنے آئیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
تجزیے میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی معیشت پر اس کے ممکنہ اثرات اب امریکی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، جبکہ صرف فضائی حملوں کے ذریعے مطلوبہ سیاسی اور عسکری اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔
رپورٹ کے آخر میں جریدے نے رائے دی کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایک ایسے رہنما کی عکاسی کرتے ہیں جو بدلتی ہوئی صورتحال پر پیشگی کنٹرول رکھنے کے بجائے ردِعمل کی سیاست پر انحصار کر رہا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ ٹرمپ اس عارضی مفاہمت کے نتائج کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت، علاقائی کردار اور آبنائے ہرمز کی سلامتی جیسے بنیادی مسائل بدستور حل طلب ہیں۔
نوٹ: یہ خبر امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے تجزیات اور دعووں پر مبنی ہے، جنہیں متعلقہ میڈیا اداروں نے اپنی رائے اور تجزیے کے طور پر پیش کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ