بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک پیغام میں لکھا: جو چیز ملتِ صلح پسند ایران پر مسلط کی گئی ہے، وہ ایک روایتی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ جنگ پیشہ ور جھوٹوں کے درمیان ہے جو اپنے تشدد کے لئے بہانے گھڑتے ہیں، اور ایک ایسی شریف قوم کے درمیان جو صرف اپنی صلاحیت اور ارادے پر بھروسہ کرتے ہوئے، اپنے وطن اور اپنی انسانی عزت کا دفاع کرتی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان، اسماعیل بقائی نے آج صبح (بدھ 13 مئی 2026 کو) ایکس نیٹ ورک پر ایک پیغام میں ایرانی قوم پر امریکہ اور صہیونی ریاست کی مسلط کردہ جنگ کی نوعیت کے بارے میں لکھا:
"تمام باوقار اور باضمیر انسانوں کے نام جو مذہب، قومیت، ملیت، نسل یا کسی دوسرے فرق سے بالاتر ہیں؛ مسلمانوں، یہودیوں، عیسائیوں، سکھوں، ہندوؤں، بدھ مت اور کسی بھی دوسرے عقیدے کے پیروکاروں کے نام، اور ان لوگوں کے نام جو خود کو کسی مذہب کا پیروکار نہیں سمجھتے لیکن امن، انصاف اور انسانی عزت و وقار کی عالمی اقدار کے پابند ہیں":
• دو جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں 'امریکہ اور اسرائیل' نے، 28 فروری 2026 کو، ایک سال سے بھی کم عرصے میں دوسری بار، مذاکراتی عمل کے دوران ایران پر ایک جارحانہ اور غیرقانونی جنگ مسلط کی۔
• ہم یہ نہ بھولیں کہ ان دو قانون دشمنوں نے جون 2025 میں اسی بہانے ایران پر حملہ کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔
• ہوشیار رہیں: یہ جنگ سرزمین، وسائل یا جغرافیائی سیاست کے لئے نہیں ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جو ہمارے دور اور آنے والی نسلوں کے لئے 'خیر' اور 'شرّ' کے حقیقی معنی کا تعین کرے گی۔
• جو چیز امن پسند ایرانی قوم پر مسلط کی گئی ہے، وہ ایک روایتی جنگ نہیں ہے۔
• ایک طرف وہ شرپسند حکومتیں کھڑی ہیں جو جنگی قوانین کی خلاف ورزی اور انسانی اصولوں کی پامالی سے لطف اندوز ہوتے ہیں؛ وہی جو تفریح کے لئے انسانوں کو قتل کرتے ہیں، بچوں کو ذبح کرتے ہیں تاکہ ان کے خاندانوں کو اذیت دیں، اور خواتین کے سپورٹس ہالوں پر حملہ کرتے ہیں صرف اپنے نئے راکٹوں کی تباہ کن طاقت کو آزمانے کے لئے۔
• یہ جنگ ان لوگوں کے درمیان ہے جو 'مزید تفریح' کے لئے غیر مسلح جہازوں کو ڈبونے پر فخر سے بات کرتے ہیں، اور ان لوگوں کے درمیان جو ان دشمنوں کے حملوں کے عین موقع پر بھی، بے گناہوں کی جان بچانے کے لئے پوری کوشش کرتے ہیں۔
• یہ جنگ پیشہ ور جھوٹوں کے درمیان ہے جو اپنے تشدد کے لئے بہانے گھڑتے ہیں، اور ایک ایسی شریف قوم کے درمیان جو صرف اپنی صلاحیت اور عزم و ارادے پر بھروسہ کرتے ہوئے، اپنے وطن اور اپنی انسانی عزت و وقار کا دفاع کرتی ہے۔ یہ جنگ ان لوگوں کے درمیان ہے جن کے فیصلے اخلاقی تصفیوں سے متاثر ہوتے ہیں اور ان لوگوں کے درمیان جو صاف اور بے داغ ضمیر کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
• یہ جنگ، بنی نوع انسان کے مستقبل کے لئے ایک فیصلہ کن جنگ ہے۔ یہ جنگ طے کرے گی کہ آیا انسانی تہذیب کی کامیابیاں - انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور بنیادی اخلاقی اصول - باقی رہیں گے یا مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے۔
• ہمیں انتخاب کرنا ہے: کیا ہم ایسی دنیا چاہتے ہیں جو مغرور، ظالم، غیر جواب دہ اور غیر ذمہ دار غلام پروروں کے زیر تسلط ہو؟ جو طاقت، جھوٹ اور بھتہ خوری کے ساتھ حکومت کرتی ہے؟ یا کیا ہم ایسی دنیا کے لئے کھڑے ہوں گے جو احترام، انصاف، امن اور انسانی عزت و وقار پر استوار ہو؟
• بنی نوع انسان کا ضمیر ابھی مرا نہیں ہے۔ لیکن ایسے دنوں میں، خاموشی کا مطلب برائی میں شراکت داری اور شرّ کا حصہ بننا ہے۔
• اگر ہم درندگی، خونخواری اور بربریت، [طفل کُشی اور طفل خوری] اور تسلط پسندی کے کے خلاف ہیں، تو ہمیں اخلاقی جرأت سے کام لینا چاہئے، بولنا چاہئے، عمل کرنا چاہئے اور تاریخ کی صحیح سمت میں کھڑا ہونا چاہئے؛ اس سے پہلے کہ دنیا لاقانونیت اور غلامی کی کھائی سرنگون ہو جائے۔
انتخاب کا اختیار آپ کے پاس ہے۔
اور تاریخ ہمارے اعمال اور کارکردگی کو ہمارے نام، ریکارڈ کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ