11 جولائی 2026 - 19:19
مشہد میں امامِ شہیدِ اُمت کے جنازے میں کتنے عقیدتمندوں نے شرکت کی؟

صوبہ خراسان رضوی کے نائب گورنر برائے سیکورٹی  امور نے مشهد مقدس میں امامِ شہیدِ اُمت کے جنازے کے عدیم المثال شان و شوکت کے ساتھ انعقاد میں شریک عقیدتمندوں کی تعداد 7 سے 8 ملین تک بتائی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ صوبہ خراسان رضوی کے نائب گورنر برائے سیکورٹی  امور، امیر اللہ شَمَقدَری، نے آج 11 جولائی کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، انقلاب اسلامی کے رہبر شہید کے جنازے کے انعقاد کے لئے صوبائی ہیڈکوارٹر کے اجلاس کے موقع پر پر کہا: ہم اللہ کے شکر گزار ہیں کہ مشهد مقدس میں یہ شاندار مراسمات کسی جانی نقصان کے بغیر منعقد ہوئے۔

انھوں نے اتنی وسیع پیمانے پر سیکورٹی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: یہ کامیابی سلامتی کے، قانون نافذ کرنے والے اداروں، مسلح افواج، پولیس فورسز اور انٹیلیجنس اداروں کی ذہانت اور کوششوں کی مرہونِ منت ہے۔

ان کا کہنا تھا: ان مراسمات کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز اور مسلح افواج کے تقریبا 60 ہزار اہلکار تعینات کئے گئے تھے، جن میں سے 10 ہزار براہِ راست تشییع کے راستے پر اور باقی متعلقہ راستوں اور گذرگاہوں نیز ملکی سرحدوں پر موجود تھے۔

شرکاء کی تعداد کی تفصیلات اور مراسمات کے اوقات کی تفصیل

شَمَقدَری نے شرکاء کی تعداد کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: تخمینوں کے مطابق، مشهد میں امامِ شہیدِ اُمت کی تشییع کے مراسمات 7 سے 8 ملین افراد نے شرکت کی ہے۔

انھوں نے مراسمات کے اوقات میں تبدیلی کے بارے میں بتایا: چونکہ عراق سے شہداء کے پیکروں کی منتقلی پروگرام کے مطابق انجام نہیں پائی، مشہد میں تشییع کے مراسمات کے انعقاد میں 8 گھنٹے کی تاخیر سے ہوئی، چنانچہ ہم نے اطلاع رسانی کے ذریعے، 14:00 بجے مراسم کے آغاز کا اعلان کر دیا تاکہ لوگ مناسب وقت پر موقع پر پہنچ سکیں۔

مشہد میں امامِ شہیدِ اُمت کے جنازے میں کتنے عقیدتمندوں نے شرکت کی؟

انھوں نے تشییع کے روز مشہد کی سڑکوں کی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا: بہت سے لوگ ایک روز پہلے ہی مشهد پہنچ گئے تھے۔ خیابانِ امام رضا(ع) تک جانے والی سڑکیں، 15 خرداد اسکوائر کے دونوں اطراف، شارع خرمشہر، شارع جمہوری اسلامی، شارع ملک الشعراء بہار، شارع فدائیان اسلام، شارع دانش کے دونوں اطراف، شارع طبرسی، شارع شیرازی، شارع نواب صفوی اور حتیٰ کہ حرمِ مطہر کے اطراف میں زیر زمین پارکنگ اور سڑک، سب عقیدتمندوں سے بھرے ہوئے تھے۔

انھوں نے یہ بھی اشارہ کیا کہ مرکزی مقامات پر حد سے زیادہ ہجوم کی وجہ سے، عوام کا ایک حصہ مراسمات کے آغاز میں حفاظت کو یقینی بنانے اور مناسب جگہ تلاش کرنے کے لئے پچھلے راستوں کی طرف منتقل ہو گیا، جنہیں اعداد و شمار میں شامل کر لیا گیا ہے۔

35 کمیٹیوں اور تمام ذمہ داروں کا شکریہ

آخر میں، شَمَقدَری نے پروگرام کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کیا اور انتظامات میں کردار ادا کرنے والے تمام شعبوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا: میں عوام، ذرائع ابلاغ، نامہ نگاروں، مسلح افواج، طبی عملے اور تشییع کے ہیڈکوارٹر کی تمام 35 کمیٹیوں کے اراکین کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہر شعبے میں کردار ادا کیا۔

مشہد میں امامِ شہیدِ اُمت کے جنازے میں کتنے عقیدتمندوں نے شرکت کی؟

فارس کی رپورٹ کے مطابق؛ رہبرِ شہیدِ انقلاب سے وداع اور تشییع کے مراسمات چھ روزہ مدت میں ـ اور پانچ شہروں تہران، قم، نجف، کربلا اور مشهد میں ـ منعقد ہوئے، جو عوام کی حماسی اور عدیم المثال شرکت کے ساتھ، تاریخِ عالم کا سب سے بڑا تدفینی واقعہ بن گئے۔ یہ مراسمات تہران میں تین روز (دو روز تک تہران کی بڑی مصلیٰ میں وداع اور ایک روز مرکزی تشییع) اور قم، نجف اور کربلا اور مشہد، ہر ایک میں ایک روز تک، جاری رہے، جس میں مختلف شہروں میں افراد کی بار بار شرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے، بے مثل ہجوم اکٹھا ہؤا۔

سرکاری ذرائع نے مجموعی شرکاء کی تعداد تقریباً 41 سے 43 ملین افراد کی تصدیق کی ہے۔

مشہد میں امامِ شہیدِ اُمت کے جنازے میں کتنے عقیدتمندوں نے شرکت کی؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha