بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛
گوکہ ٹرمپ ایران کے خلاف بار بار دھمکیوں کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ کرنے اور جنگِ رمضان میں اپنی ناکامی کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن میدانی حقائق بتاتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران ٹیکٹیکی اور تزویراتی لحاظ سے اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت پر دشمن کو غیر متوقعہ جواب دیتا ہے۔ نئی صورت حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران کی حکمت عملی جارحانہ ہے اور اگر دشمن سے کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے تو نئے محاذ کھل جائیں گے۔
ایران کی حکمت عملی کی دفاعی حالت سے بامقصد جارحانہ پوزیشن میں اسٹراٹیجک منتقلی، دشمن کے تخمینوں کو تبدیل کر دیتی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی تصور کرتے تھے کہ فوجی اور معاشی دباؤ ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکتا ہے، لیکن یہ ثابت ہو گیا کہ یہ خیال غلط تھا اور ایران اپنی غیر متناسب صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن پر بھاری قیمت مسلط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکہ حملہ کرے گا، تو ایران باب المندب بند کرکے اس کا جواب دے گا، نیویارک ٹائمز
نیویارک ٹائمز نے اپنی حالیہ شائع کردہ ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ ایران خود کو ممکنہ دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں کے لئے تیار کر چکا ہے اور اگر امریکہ دوبارہ حملہ کرتا ہے تو وہ نئے حربوں اور شدید میزائل حملوں کے ذریعے امریکی مفادات اور عالمی معیشت کو نشانہ بنائے گا۔
نیویارک ٹائمز یہ بھی لکھتا ہےکہ 'خلیج فارس کے عرب ممالک کو اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر ایران کے شدید حملوں کے لئے تیار رہنا چاہئے'۔ 'اگر امریکہ ایران کے معاشی بنیادی ڈھانچے پر حملہ کرتا ہے، تو ایران باب المندب میں آمد و رفت بند کرکے اس کا جواب دے گا۔ عالمی تجارت کا دسواں حصہ آبنائے باب المندب سے گذرتا ہے۔'
غیر ملکی تجزیئے ایران کی فوجی طاقت کی عکاسی کرتے ہیں اور دشمنوں کی زدپذیریوں اور اقتصادی دباؤ کے ان اہم ذرائع کے بارے میں تہران کی گہری سمجھ بوجھ کو عیاں کرتے ہیں جو عالمی قواعد پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل بھی سمجھ چکا ہے کہ ایران اپنے جغرافیائی سیاسی مقام کو دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لئے استعمال کرنے کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہے اور اسرائیلی بھی جانتے ہیں کہ علاقائی اور عالمی نتائج پر غور کئے بغیر فوجی اور معاشی حملے، کامیاب حکمت عملی، نہیں ہو سکتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تالیف و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ