جو خبریں یورپی ممالک سے آبنائے ہرمز کے بارے میں، یا اسے کھولنے اور امریکہ سے الحاق کے بارے میں شائع ہوتی ہیں، سرکاری ذرائع انہیں بہت جلد مسترد کر دیتے ہیں۔
اکثر و بیشتر، اس آبنائے میں فرانس اور برطانیہ اور کبھی کبھار جرمنی کی فوجی موجودگی کی خبریں دی جاتی رہی ہیں لیکن یہ خبریں بہت جلد مسترد کر دی گئی ہیں اور میدانی پیش رفت اور وقت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ خبریں بنیادی طور پر جھوٹی تھیں۔
اس سلسلے میں شائع ہونے والی تازہ ترین جھوٹی خبروں کے بارے میں، فرانس نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی مشن میں نیٹو کے کردار کے تصور کو مسترد کر دیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا: "ہمارا موقف واضح اور مستحکم ہے۔ نیٹو کا تعلق شمالی اوقیانوسی خطے سے ہے۔ نہ تو نیٹو کا ہدف ایسی چیز ہے اور نہ ہی عملاً یہ مشرق وسطیٰ اور ہرمز کے کسی مسئلے پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے مناسب اتحاد شمار ہوتا ہے۔"
اس سے قبل بلومبرگ نے رپورٹ دی تھی کہ نیٹو کے اراکین آبنائے ہرمز میں بحری مشن متعین کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
گذشتہ ہفتے بھی فرانسیسی وزارت مسلح افواج نے آبنائے ہرمز میں طیارہ بردار بحری جہاز چارلس ڈی گال کی موجودگی کی تردید کی اور تصدیق کی کہ یہ جہاز بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے بین الاقوامی مشن پر ہے۔
اس سال 10 مئی کو فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں پریس کانفرنس میں، اسلامی جمہوریہ ایران کے اس انتباہ کے جواب میں کہ اگر فرانسیسی اور برطانوی فوجیں آبنائے ہرمز میں تعینات کی گئیں تو "فیصلہ کن اور فوری جواب" دیا جائے گا، کہا: "فرانس نے کبھی بھی آبنائے ہرمز میں جنگی جہاز بھیجنے کے بارے میں نہیں سوچا۔"
فرانسیسی نیٹ ورک "بی ایف ایم ٹی وی" کی رپورٹ کے مطابق، فرانسیسی صدر نے اس موقف پر "پابند" رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا: "میں یقین دلاتا ہوں کہ فرانس نے کبھی بھی آبنائے ہرمز میں فوجی بحریہ تعینات کرنے پر غور نہیں کیا، بلکہ اس نے ایران کے ساتھ ہم آہنگ سیکیورٹی مشن پر غور کیا ہے۔"
اگر اس قسم کی خبروں کا مقصد ایران کو ڈرانا دھمکانا اور مرعوب کرنا ہے تو ان کی فوری اور لمحہ بہ لمحہ تردید کی وجہ سے مغرب اور خاص طور پر یورپ اس شعبے میں زیادہ بدنام ہو جائے گا۔
اگرچہ یہ کہنا چاہئے کہ ایک تو مغربی ممالک یوکرین کی جنگ میں شدت سے الجھے ہوئے ہیں اور اس جنگ کا خطرہ ہر چیز سے زیادہ ان سے قریب تر ہے اور دوسری جانب، جب امریکہ ایران کے سامنے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے اور بالکل بے بس ہے تو یہ ممالک آبنائے ہرمز کو کھولنے کا دعویٰ کیونکر کر سکتے ہیں؟
یہ خبریں شاید [امریکہ کے لئے] کسی قسم کی فوجی طاقت پیدا کرنے یا [ایران کو] ممکنہ خطرات کا احساس دلانے کی بنیاد پر شائع کی جاتی ہیں لیکن مختصر مدت میں ان کی تردید اور طویل مدت میں مغرب کے لئے رسوائی کا باعث بن رہی ہیں۔

آبنائے ہرمز کے بارے میں ایک اہم نتیجہ موجود ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف 40 روزہ جارحانہ جنگ کے بعد امریکہ کا مذاکرات اور جنگ بندی کا سہارا لینا اسے مزید نمایاں کر دیتا ہے، اور وہ یہ حقیقت ہے کہ آبنائے ہرمز کا اس کے سوا کوئی حل نہیں ہے کہ اس پر ایران کی سیادت اور حکمرانی اور ایران کے متعینہ جہازرانی کے نظام کو تسلیم کیا جائے، اس کو سوا اس کا نہ کوئی فوجی حل ہی اور نہ ہی سفارتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: امیر حمزہ نژاد
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ