26 اپریل 2026 - 03:14
امریکہ کے پاس اللہ کا یہ وعدہ قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں

عالمی طاقتیں قائدین بدلنے اور حکومتیں گرانے کے عادی ہیں، لیکن ایران مختلف ہے۔ یہاں دشمن کے تمام حملے ناکام ہوئے ہیں اور دشمن کو جنگ بندی کی بھیک مانگنا پڑی ہے۔ بحری قزاقیاں، عہد شکنیاں، پابندیاں، قتل و دہشت گردیاں سب ناکام رہی ہیں۔ آج امریکہ کے پاس اللہ کے وعدے کے سامنے جھکنے کے سوا کوئی چآرہ کار نہیں ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ عالمی طاقتیں قائدین بدلنے اور حکومتیں گرانے کے عادی ہیں، لیکن ایران مختلف ہے۔ یہاں دشمن کے تمام حملے ناکام ہوئے ہیں اور دشمن کو جنگ بندی کی بھیک مانگنا پڑی ہے۔ بحری قزاقیاں، عہد شکنیاں، پابندیاں، قتل و دہشت گردیاں سب ناکام رہی ہیں۔ آج امریکہ کے پاس اللہ کے وعدے کے سامنے جھکنے کے سوا کوئی چآرہ کار نہیں ہے۔

یہ وعدہ 1400 سال قبل بنی نوع انسان کے لئے نازل ہؤا، اور میدان عمل میں یہ ایک سرخ لکیر ہے، جس سے عبور کرنا ممکن نہیں ہے۔

سلطنتیں آکر رخصت ہوجاتی ہیں، لیکن زمین باقی ہے، فرعون طاقتور ہونے کے باوجود سمندر میں ڈوب گیا۔ نمرود عظیم لشکر کے باوجود ایک مچھر کے ہاتھوں ذلیل اور ہلاک ہوگیا۔ سوویت روس، برطانوی سامراج وغیرہ سب شکست و ریخت سے دوچار ہوئے۔

امریکہ دنیا میں 800 فوجی اڈوں کے باوجود، جس کھڑکی سے بھی جھانکتا ہے اپنے زوال کے سوا کچھ نہیں دیکھ پاتا۔ اسرائیل ارض موعود کے جعلی نعرے کے باوجود، مقاومت کے ہاتھوں ذلیل ہوگیا ہے۔

کیوں؟

اس لئے کہ زمین کا مالک اللہ ہے اور وہ جسے چاہے اس کی کنجیاں عطا کرتا ہے، اور آج نئے وارثوں کی باری آئی ہے۔

ارشاد ہوتا ہے: "إِنَّ الأَرْضَ لِلّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ؛ یقینا زمین اللہ کی ہے، وہ اس پر تسلط عطا کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اور آخرت کی بہتری پرہیز گاروں ہی کا حصہ ہے۔" (سورہ اعراف، آیت 128۔)

یہ آیت اللہ کے ہاں کی زمین کی ملکیت کی سند ہے۔ نہ امریکہ زمین کا مالک ہے نہ اسرائیل فلسطین کا مالک، اور نہ ہی کوئی جابر و ظالم دائمی مالکیت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔

اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے زمین کا وارث بناتا ہے۔ اور کلیدی نکتہ یہ ہے: "عاقبت (کاموں کا انجام و اختتام) متقین اور پرہیزگاروں کے لئے ہے۔ متقین جو تقویٰ، ظلم کے مقابلے میں صبر، مقاومت و استقامت کے مالکوں نے خود کو یہ الٰہی ورثہ سنبھالنے کے لئے تیار کر رکھا ہے۔

وراثتِ زمین کا عینی تاریخی نمونہ

کسی وقت فلسطین اسرائیل کے تحت، ایک خاموش سرزمین سمجھا جاتا تھا؛ لیکن ان کی تاریخی کاروائی طوفان الاقصیٰ نے دنیا کے فارمولے بدل ڈالے۔

کسی دن افغانستان مقبوضہ ملک تھا اور امریکہ خود کو فاتح افغانستان سمجھتا تھا لیکن آج امریکہ خوار و ذلیل ہوکر کابل سے بھاگ چکا ہے۔

کسی دن عراق جارح امریکہ کے قدموں تلے، مقبوضہ ملک تھا، لیکن آج عراقی مقاومت امریکی اڈوں کو تابڑتوڑ حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔

لبنان بھی کسی وقت اسرائیل کے زیر قبضہ تھا لیکن آج اسرائیل حزب اللہ کا نام سن کر لرزہ بر اندام ہوجاتا ہے۔ یہ سب مصادیق ہیں "یُورِثُها مَنْ یَشاءُ" کے؛ خدا جسے چاہے زمین کو بطور ارث عطا کرتا ہے۔

متقین کون لوگ ہیں اور وہ وارث کیوں بنتے ہیں زمین کے؟

متقین وہ نہیں ہیں جن کے پاس سب سے زیادہ بم، سب سے زیادہ فوجی اڈے اور سب سے زیادہ جنگی طیارے ہوں۔ متقین وہ ہیں جنہوں نے تقوائے الٰہی اختیار کیا ہے؛ یعنی وہ اللہ کی سرخ لکیروں سے عبور نہیں کرتے، لوگوں پر ظلم نہیں کرتے، ظالموں کے مقابلے میں کھڑے ہوجاتے ہیں، اور اپنی جانیں مظلوموں کی خاطر قربان کرتے ہیں۔

ایران کی حد تک، یہی بسیجی نوجوان، جو شب و روز ناکوں میں سوتے ہیں، یہی شہداء کے اہل خانہ جو اپنے عزیزترین اثاثے قربان کر چکے ہیں، یہی لڑکیاں اور یہی لڑکے، جو اپنی ناموس اور حریم اور ملک کے لئے جام شہادت نوش کر گئے ہیں۔ یہ زمین کے حقیقی وارث ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل اس ضابطے کو قبول نہیں کر سکتے، مگر کیوں؟

اس لئے کہ وہ کائنات کا صرف مادی ترجمہ جانتے ہیں، ان کے لئے زمین کی وراثت کا مطلب زیادہ سے زیادہ ٹینک، جدید سے جدیدتر میزائل، وسیع سے وسیع تر نوآبادیاں۔ لیکن قرآن کا ارشاد ہے کہ "وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقینَ"؛ یعنی جنگ کا انجام، سیاست کا انجام اور تاریخ کا انجام صرف متقین کے لئے ہے۔

امریکہ نے افغانستان میں 20 برس تک کیمپ لگایا، لیکن اس کی "عاقبت" کیا ہوئی [اس کا انجام کیا ہؤا]؟ اسرائیل نے 75 برسوں سے قدس شریف کو غصب کیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی "عاقبت" کیا ہوگی؟ اور جواب یہ کہ قدس شریف فلسطینوں کے پاس پلٹے گا؛ کیوں؟ اس لئے کہ متقین (مقاومین و مزآحمین) نہ بموں کے ذریعے بلکہ ایمان کے ذریعے زمین کو اپنے اختیار میں لیں گے۔

ایرانیوں کے لئے وعدہ الٰہی کیا ہے؟

امریکہ اور اسرائیل گمان کرتے ہیں کہ پابندیوں، دھمکیوں اور اس سرزمین کے رہبر انقلاب اور کمانڈروں، بچیوں اور بچوں کو قتل کرکے اس قوم کو مفلوج کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ وعدہ الٰہی کو نہیں سمجھ پاتے۔ 

یہ قوم ہر شہید کی قربانی سے ایک قدم زمین کی وراثت سے قریب تر ہوجاتی ہے۔ خطے میں ہر امریکی فوجی اڈہ اس کی کمزوریوں اور زد پذیریوں میں ایک اضافہ ہے تاکہ انتہائی ذلت اور بے آبروئی کے ساتھ اس خطے سے نکال باہر کیا جائے۔

ہر ایک جرم جو اسرائیل غزہ اور لبنان میں انجام دیتا ہے، ایک مضبوط تر اور پر عزم تر نسل کی تربیت کر دیتا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے: "یُورِثُها مَنْ یَشاءُ"۔ اور آج ایران اور محور مقاومت اس "مَنْ یَشاءُ" کا نمایاں ترین مصداق ہیں۔

جارحوں اور عہدشکنوں کے لئے آیت کا پیغام

اے امریکہ! اے اسرائیل! تم گمان کرتے ہو کہ بحری قزاقی کے ذریعے، عہدشکنی کے ذریعے، جنگ بندی کی بھیک اور ظلم جبر کو دوبارہ، دہرانے کے ذریعے، تاریخ کی سمت تبدیل کر سکو گے؟ تم غلطی پر ہو۔

زمین اللہ کی ہے اور وہ اسے متقین کے سپرد کرے گا۔ تم جتنی بھی جارحیت کرو، یقینا پسپا ہوجاؤگے، اور جنگ بندی کے لئے پھر بھی بھیک مانگوگے۔ اور ہآں! ہم جانتے ہیں کہ تم جتنے بھی عہد باندھتے ہو، انہیں توڑ دیتے ہو۔ قوم فرعون اور بعدازاں قوم یہود کی روایات کے عین مطابق۔

امریکہ کے پاس اللہ کا یہ وعدہ قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں

تم جس قدر بھی بین الاقوامی پانیوں میں چوری کروگے، ایران آبنائے ہرمز کو بند کرے گا اور تمہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرے گا۔ کیونکہ "وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقینَ"۔ عاقبت متقین کے لئے ہے، نہ کہ جارحوں کے لئے۔ تم یہ بھی جان لو کہ تمہارا وقت اختتام پذیر ہوچکا ہے، [تم ایکسپائر ہوچکے ہو، شہید صدر ابراہیم رئیسی کے بقول، تم گذشتہ کل ہو اور ہم آئندہ کل یعنی] دنیا کے قواعد بدل چکے ہیں۔ امریکی سلطنت رو بہ زوال ہے، اسرائیل اندرونی شکست و ریخت سے دوچار ہے اور مقاومت اپنی طاقت کے عروح پر ہے۔ ممکن ہے کہ آج کے تجزیہ کار بھی ایسی ہی باتیں کہہ دیں لیکن ہم ان کے حوالے سے نہیں  بلکہ قرآن کے حوالے سے اس حقیقت کو بیان کر رہے ہیں۔ قرآن نے 1400 سال پہلے فرمایا تھا: "إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ یُورِثُها مَنْ یَشاءُ مِنْ عِبادِهِ"؛ یعنی زمین کا اصل مالک اللہ ہے، اور وہ اسے اپنے لائق بندوں ـ یعنی ثابت قدم متقین ـ کو بطور ارث، عطا کرے گا۔ پابندیاں ختم ہونگی، اڈوں کی بساط لپیٹ لی جائے گی، قابضین اور غاصبین کو بھاگنا پڑے گا اور زمین اس کے حقیقی وارثوں کو عطا کی جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہران احدی لاہرودی

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha