28 اپریل 2026 - 18:47
بند گلی میں پھنسا ہؤا دشمن صرف جھوٹ بولتا اور دھمکی دیتا ہے +آڈیو-ویڈیو

دشمن جب مؤمنین کی منطق اور استقامت کے سامنے لاجواب ہوتا ہے، تعطل سے دوچار ہوتا ہے، ایسا تعطل جس سے نکلنے کا راستہ استدلال اور منظق نہيں بلکہ جھوٹ اور دھمکی ہے۔ سورہ یس کی آیات 13 تا 27 میں ان ہی رویوںکو بیان کیا جاتا ہے، اور یہ کہ یہ رویے دشمن کے زوال اور شکست و ریخت کا آغاز ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سورہ یس کی 13 سے 27 تک آیات کریمہ محاذ حق اور محاذ باطل کے تقابل کی مختصر مگر گہرا بیان ہے۔ یہ بیان "اصحابِ قریہ" کی داستان کے ضمن میں آیا ہے۔ اس میں دشمن کے طرز عمل، حق کے خلاف اس کی عداوت کی روشوں کو عیاں کیا جاتا ہے اور مؤمنانہ مقاومت و مزاحمت کی منطق کی تعلیم دی جاتی ہے۔

بند گلی میں پھنسا ہؤا دشمن صرف جھوٹ بولتا اور دھمکی دیتا ہے

تفسیر المیزان میں علامہ سید محمد حسین طباطبائی لکھتے ہیں کہ یہ صرف ایک تاریخی روداد کا بیان نہیں بلکہ دشمن کی شناخت اور اس کے مقابلے کا مستقل اور دائمی نمونہ ہے۔

منظم انکار؛ دشمن کا پہلا قدم

داستان کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے کہ اللہ کے بھیجے ہوئے 'مرسلین' لوگوں کو توحید کی طرف بلانے آتے ہیں، لیکن انہیں جانے پہچانے رویے کا سامنا ہوتا ہے: تکذیب = جھٹلانا۔ لوگ نہ صرف پیغام کو قبول نہیں کرتے بلکہ "رسالت" پر بھی سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔

تفسیر المیزان میں زور دیا جاتا ہے کہ انکار صرف عدم آگہی کی وجہ سے نہیں بلکہ حق و حقیقت کے سامنے شعوری مزاحمت ہے۔

دشمن اس مرحلے میں شک و تردد کو ہوا دیتا ہے تاکہ حقیقت کو غیر معتبر بنا کر پیش کر سکے۔ وہ منطقی جواب کے بجائے، بنیادی موضوع کا انکار کر دیتا ہے، تاکہ حق کی مقبولیت و قبولیت کا امکان ہی ختم ہو جائے۔ یہ رویہ دشمن کے اہم شناختی نشانات میں سے ایک ہے: حق و حقیقت سے فرار، بذریعۂ انکار۔

جھوٹ اور تحریف؛ دشمن کی نفسیاتی جنگ کا بنیادی اوزار

اگر دشمن سادہ سے انکار کے ذریعے مقصد حاصل نہ کر پائے، تو وہ زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوتا ہے: اللہ کے رسولوں پر جھوٹ باندھنا، اور انہیں جھوٹی نسبتیں دینا۔

اس مرحلے میں انبیائے الٰہی پر تہمت باندھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "تم ہم جیسے انسانوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہو اور اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے۔"

علامہ طباطبائی اس مرحلے کو "شعوری تحریف" کا نام دیتے ہیں' یعنی دشمن حقیقت کو جانتا پہنچانتا ہے، لیکن اپنے مفادات کے تحفظ کی غرض سے اس کو الٹ پھیر دیتا ہے۔ جھوٹ یہاں ایک تزویراتی آلہ (Strategic Instrument) ہے نہ کہ ایک فردی یا ذاتی خطا۔

یہ شیوہ، آج مختلف میدانوں میں دکھائی دیتا ہے، جب دشمن حقیقت کو مٹانے سے عاجز آتا ہے، تو اس میں تحریف کر دیتا ہے تاکہ اس کو بے اثر اور ناکارہ بنا دے۔

جب منطق کا خاتمہ ہوتا ہے تو دشمن دھونس دھمکی کا سہارا لیتا ہے

اللہ کی دعوت جاری رہتی اور دشمن تیسرے مرحلے میں داخل ہوتا ہے: دھونس دھمکی۔

وہ مرسلین سے کہتے ہیں "اگر تم دعوت کا سلسلہ بند نہیں کروگے تو ہم تمہیں سنگسار کریں گے۔" یہ ان کے طرز عمل میں، گفتگو سے "تشدد" کے مرحلے میں منتقلی ہے جو واضح کرتی ہے کہ منکرین اور دشمن منطق و استدلال کے میدان میں ناکامی سے دوچار ہو کئے ہیں۔

دھمکی، دشمن کی اندرونی کمزوری کا اظہار ہے؛ کیونکہ جس کے پاس منطق ہے اس کو زور و طاقت کی ضرورت نہیں ہے۔ دشمن جب فریق مقابل اور سننے دیکھنے والے کو قائل کرنے سے عاجز ہوتا ہے، ڈرانے دھمکانے پر اتر آتا ہے۔ یہ دشمن شناسی کی اہم خصوصیت ہے؛ جہاں بھی دھونس دھمکی نے منطق و استدلال کی جگہ لے لی، ہم جاننا چاہئے کہ دشمن محاذ ضعف اور کمزوری سے دوچار ہو گیا ہے، خواہ اس کی ظاہری صورت انتہائی طاقتور کیوں نظر نہ آئے۔

عہدشکنی اور عدم استحکام دشمن کی ایک نشانی اور

ان آیات کریمہ میں، دشمن کی اگلی نمایاں خصوصیت موقف ميں عدم استحکام ہے۔ وہ ابتداء میں تمسخر اور انکار کے ساتھ میدان میں آتا ہے؛ بعدازاں جھوٹ کا سہارا لیتا ہے اور آخرکار دھمکی اور تشدد پر اتر آتا ہے۔ یہ مسلسل تغیر و تبدل واضح کرتا ہے کہ دشمن کسی مستحکم اور ناقابل تغیر اصول کے مطابق کام نہیں کرتا بلکہ ہر بار حالات کے تناسب سے نئی روش اختیار کرتا ہے۔

دشمن کی یہ روش حق کی عدم پابندی سے جنم لیتی ہے۔ جو حقیقت کا پابند نہیں ہے، فطری امر ہے کہ وہ اپنے عہد اور موقف پر استوار نہیں رہتا۔ چنانچہ بدعہدی، عہدشکنی، اور عدم استحکام اور ناپائیداری باطل محاذ کی بنیادی نشانیوں  میں سے ایک ہے۔

مؤمنانہ مزاحمیت یعنی یقین کی بنیاد پر استقامت

دشمن کے مذکورہ رویوں کے مقابلے میں، قرآن کریم ایک ایسے مرد کی بات کرتا ہے جو شہر کے دورافتادہ علاقے سے دوڑ دوڑ کر آتا ہے اور لوگوں کو مرسلین کی پیروی کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ شخص "شعوری مقاومت [مزاحمت]" کا نمونہ ہے۔

وہ دھونس دھمکی کے خوف کی پروا کئے بغیر، بالکل روشن منطق و استدلال کے ساتھ بات کرتا ہے اور کہتا ہے "میں ایسے لوگوں پیروی کیوں نہ کروں جو مجھ سے اجرت نہیں مانگتے اور خود بھی ہدایت یافتہ ہیں؟ یہ بیان مقاومت و مزاحمت کی اندرونی منطق کو عیاں کرتا ہے؛ ایسی مقاومت و مزاحمیت جو شناخت، آگہی اور یقین کی بنیاد پر استوار ہوئی ہے۔ یہ شخص، اگرچہ تنہا ہے، مگر محاذ حق میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ: قرآن کی منطق میں کمیت زیادہ اہم نہیں ہے، ایمان اور استقامت کی کیفیت ہے جو اہمیت رکھتی ہے۔

مقاومت و مزاحمت کی بھاری قیمت؛ روشن انجام کے ساتھ

یہ مرد مؤمن آخرکار اسی راہ میں جام شہادت نوش کرتا ہے، لیکن قرآن کریم فوری طور پر اس کے انجام کو نمایاں کرتا ہے؛ اور وہ یہ کہ اس سے کہا جاتا ہے: "اس سے کہا گیا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ" یعنی: مقام شہادت سے جزائے ربّ کی طرف براہ راستی منتقلی، جو اہم پیغام کی حامل ہے۔

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ مؤمن کے لئے دنیاوی دکھ درد اور اخروی اجر و پاداش منتقلی کا مرحلہ بہت مختصر ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ ظاہری طور پر دشمن کامیاب ہوجائے، لیکن یہ کامیابی عارضی ہے اور حقیقت بالآخر آشکار ہوجاتی ہے۔ یہ مرحلہ مقاومت کے دل میں امید کی شمع روشن رکھتا ہے، کہ راہ حق میں مقاومت ادا کی گئی قیمت کبھی بھی لاحاصل نہیں رہتی۔

دشمن کو معیاروں کی بنیاد پر پہنچانو نہ کہ اس کی ظاہری صورت سے

سورہ یس کی آیات 13 تا 27 دشمن کی  صحیح اور درست تصویر پیش کرتی ہیں، وہ دشمن جو اپنا کام انکار سے شروع کرتا ہے، جھوٹ کے ساتھ جاری رکھتا ہے، دھونس دھمکی کا سہارا لیتا ہے اور کسی بھی عہد و پیمان کا پابند نہیں رہتا۔

یہ تاریخ کا ہمیشہ قائم و دائم رہنے والا شیوہ ہے، چنانچہ دشمن کی شناخت اس کے دعوؤں کی رو سے نہیں بلکہ اس کے طرز عمل اور مسلسل دہرائے جانے والے نمونوں کی بنیاد پر، ممکن ہے۔

ان آیات کریمہ کا حتمی پیغام واضح ہے؛ یہ کہ اگرچہ دشمن مختلف وسائل اور اوزاروں کے ساتھ میدان میں آتا ہے۔ لیکن ایمان پر استوار شعوری مقاومت و مزاحمت کا انجام بالکل روشن اور فاتحانہ ہے؛ اگرچہ ممکن ہے کہ یہ فتح ظاہری طور پر نظر نہ بھی آئے۔

قرآن کریم کے صفحہ 441 کی تلاوت سنئے:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی احمدی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha